ہم بدلیں گے تو معاشرہ بدلے گا - محمد مبشر بدر

جب قومیں تنزلی کی جانب گامزن ہوتی ہیں تو اس کے اثرات سب سے پہلے معاشرت پر پڑتے ہیں۔ معاشرت جب تباہی کے دھانے پر پہنچتی ہے تو یہ قوموں کی بربادی ہوتی ہے۔ معاشرت کی تباہی میں اخلاقی پستی، خود غرضی اور مطلب پرستی جیسے عناصر کارفرمرما ہوتے ہیں۔ جب انسان اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوتا ہے، اس کی سوچ کا دائرہ صرف اپنی ذات کی حد ہوجاتا ہے۔ وہ صرف اپنے مفادات پر نظر رکھتا ہے اور دوسروں کی پرواہ نہیں رکھتا۔ یوں آپسی محبت سمٹنے لگتی ہے اور نفرتیں پھیلنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام قوموں کو ترقی کے لیے معاشرت کو سنوارنے پر زور دیتا ہے اور ایسی بدصفات سے روکتا ہے جن کی وجہ سے معاشرت میں دراڑیں پڑتی ہیں۔
امت کی مائیں بانجھ نہیں ہوئیں، وہ آج بھی صلاحیتیوں والے افراد پیدا کررہی ہیں لیکن اس امت کی درس گاہیں بانجھ ہوگئی ہیں، جہاں سے افراد کی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا تھا اور تعمیرِ معاشرہ کے لیے پیش کیا جاتا تھا۔ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ مظلوم اس کے سامنے اپنا استغاثہ لے کر آیا ہے اور غریب و مجبور ہے لیکن اسے کسی کی مظلومیت اور غربت سے کیا اسے بھی تو دوسروں کی طرح پیسے سے غرض ہے۔ اسی طرح ظالم کے ظلم کا علم ہونے کے باوجود پیسے کی لالچ میں کورٹ میں اسے بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ہزار جتن کرتا ہے، جو انتہا درجے کی سفاکیت اور درندگی ہے۔
قوم کے مسیحا یعنی ڈاکٹر جب غریب عوام کا خون چوسنے پر آجائیں اور ان سے علاج کے نام پر بھاری بھاری فیسیں وصول کرنے لگیں تو کیا یہ انسانیت کی خدمت کہلائے گی یا ان پر ناروا ظلم؟ شاید اسی نحوست کا اثر ہے کہ ڈاکٹروں کے ہاتھوں میں وہ شفا نہیں رہی جو گزرے وقتوں میں ہوا کرتی۔ ہسپتالوں، کلینکوں اور ڈاکٹرز کی تعداد میں اضافے کے باوجود امراض میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اب تو ایسی ایسی بیماریاں سامنے آرہی ہیں جن کا پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ ایسے افراد سے معاشروں میں امن و امان نہیں بلکہ بھونچال آتا ہے اور آبادیاں ویرانیوں میں بدل جاتی ہیں، آسمان سے بارش کے بجائے اولے اور انگارے برستے ہیں اور انسانیت کیا جانور، حشرات الارض اور پنچھی بھی بلبلا اٹھتے ہیں۔
شہرت، عزت اور پیسے کو کامیابی کا معیار سمجھنے والی سوچ نے معاشرے کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ حتی کہ پیسہ حاصل کرنے کے لیے جائز اور ناجائز کی تمیز نہیں کی جارہی۔ ہر انسان چاہ رہا ہے کہ وہ شہرت ا ور عزت کی بامِ عروج کو پہنچے۔ پیسہ اس پر فدا ہو، وہ جہاں چاہے اسے خرچ کرے۔ جو شخص شہرت، عزت اور دولت کا بھوکا ہو درحقیقت اس کی بھوک کبھی نہیں مٹ سکتی، اس میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر یہی ہوس ہی اس کی ناکامی اور نامرادی کا سبب بن جاتی ہے۔ کامیابی اور ترقی اس میں نہیں کہ انسان ہوا میں اڑتا پھرے بلکہ کامیابی و ترقی یہ ہے کہ اسے زمین پر عاجزی سے چلنے کا سلیقہ آجائے، اپنے دوستوں اور ملنے والوں سے بات کرنے کا ڈھنگ آجائے۔ وہ دوسروں کی عزت کرنا سیکھے اور ہر ایک سے ادب سے پیش آئے۔ رویوں کی تبدیلی ہی اصل تبدیلی ہوتی ہے نہ کہ شہرت، عزت اور دولت جس کے نشے میں چور ہو کر آدمی میں تکبر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے۔
اس معاشرے کا حصہ ہونے کے ناطے ہمیں پستی اور تنزلی سے نکلنا ہوگا۔ ہمیں ایسی صفات پیدا کرنی ہوں گی جس سے معاشرے میں نکھار آئے۔ کیوں نیک و صالح لوگوں ہی کی وجہ سے معاشرے میں نیکی اور اچھائی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کا دست و معاون بننا ہوگا، ایک دوسرے کی ضروریات اور خواہشات کو سمجھنا ہوگا۔ ایک دوسرے کا احترام ہی ہمیں یک جان بنا سکتا ہے۔
ہر انسان کو اپنی ذات پر مکمل اختیار حاصل ہے لہٰذا وہ خود کو بدلنے ابتدا کرے پھر اپنے ماتحتوں اور گھر والوں سے شروع کرے۔ اخلاق اور نرمی سے دوسروں میں تبدیلی کا شعور پیدا کرے۔ یوں ادنیٰ سی محنت کے نتیجے میں افراد میں تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے جو معاشرے کو بدلنے کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ہم اس کا انتظار نہ کریں کہ پہلے دوسرے بدلیں پھر ہم بدلیں گے، ایسے کبھی بھی سدھار نہیں آسکے گا۔ ہم خود کو بدلیں معاشرہ خود بخود بدل جائے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */