ملا جب اذنِ سفر – عالیہ ذوالقرنین

میں اور ذوالقرنین اپنے ہوٹل سے باہر آ رہے تھے مگر زمین پاؤں سے لپٹی جا رہی تھی۔ زندگی میں دوسری بار یہ تجربہ ہونے جا رہا تھا کہ ' من من کے پاؤں' ہونا کسے کہتے ہیں؟ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھنے پر بھی کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اور آتا بھی کیسے؟ آنسوؤں کی دبیز چادر نے سب کچھ ڈھانپ جو رکھا تھا۔ آج 15 دسمبر تھی اور اس سر زمین پاک سے ھماری واپسی کہ جس کے بارے میں اکثر کانوں میں ایک آواز رس گھولتی تھی "آقا میریاں انکھیاں مدینے وچ رہ گیاں"۔ آج میں بھی اپنی آنکھیں مدینے میں چھوڑ کر جا رہی تھی۔
آج سے ٹھیک انتالیس دن پہلے ہم 7 نومبر کو حج کے لیے بیت اللہ پہنچے تو یقین کرنے کے لیے اس کے در و دیوار کو ہاتھ لگا کر چھوا کہ واقعی میرے محبت کرنے والے رب نے اتنا نواز دیا کہ سارے کشکول چھوٹے پڑ گئے۔ بیت اللہ پر پڑنے والی پہلی نظر کا احاطہ تحریر میں ممکن نہیں۔ شاید اللہ مجسم شکل میں موجود ہوتا تو سب بجائے طواف کرنے کے اس کی گود میں چھپ کر ہچکیاں لے رہے ہوتے۔ حج سمیت پچیس دن مکہ گزار کر جب ہم مدینہ روانہ ہوئے تو اپنے نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس قلبی اذیت کا معمولی سا اندازہ ہوا جو انہوں نے مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے سہی ہوگی۔ شاید ہی کوئی اتنے مضبوط اعصاب کا مالک ہوگا جو طواف وداع روتے ہوئے نہ کرے۔ ہوسکتا ہے کہ سب نے طواف وداع کے سات چکر میری طرح 'سات، چھ، پانچ، چار، تین، دو اور اب آخری' کے سے انداز میں گنے ہوں۔ اس وقت تک کے لیے جب تک کہ دوبارہ اذن سفر نہیں مل جاتا۔
بیت اللہ سے نکلے تو مکہ چھوڑنے کے دکھ پر آقا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے کی خوشی غالب آ گئی۔ ایک خیر خواہ کی نصیحت کے مطابق سارے راستے درود شریف کے ساتھ ساتھ دو ہزار بار سورۃ الکوثر بھی اللہ کریم نے اپنے فضل سے پڑھوا دی اور سارے راستے یہی سوچ غالب رہی کہ اللہ کے پیارے نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح دشمنوں سے چھپتے چھپاتے محض اللہ کے دین کے لیے سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے سات دن تک اس پُرمشقت سفر سے گزرے ہوں گے کہ جہاں سے ہم ایئر کنڈیشنر بسوں میں سفر کر کے صرف چھ گھنٹوں میں منزل تک پہنچ جائیں گے۔ راستے میں بس ایک جگہ ٹھہری تو سڑک کے ایک طرف ایک بڑا سا بورڈ آویزاں تھا:

"The City of Holy Prophet Muhammad SAW welcomes the pilgrims"
(مدینۃ النبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم حجاج کرام کو خوش آمدید کہتا ہے)

آج گناہگار ہونے کے باوجود یقیناً فرشتوں نے ہم پر رشک کیا ہوگا۔ جونہی ہوٹل پہنچے، سامان رکھ کر غسل کیا اور روضہ رسول پر حاضری کی نیت سے مسجد نبوی پہنچے۔ ذوالقرنین مرد حضرات والے راستے کی طرف بڑھ گئے اور میں بھاری پڑتے قدموں کے ساتھ زنانہ حصہ کی طرف آگئی۔ مدینہ میں آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سامنا میرے لیے ایک آزمائش ہوتا ہے۔ یہ روضہ رسول پر چار سال بعد دوسری بار حاضری تھی۔ یہاں پر آپ کو کئی طرح کے لوگ نظر آئیں گے وہ بھی جو نظریں جھکائے آس و نراش کی کیفیت میں حاضر ہوں گے کہ جانے سلام قبول بھی کیا جاتا ہے یا نہیں؟ پھر وہ لوگ جو چہرے پر قوس و قزع کے رنگ لیے چاروں طرف دیکھ کر خود کو یقین دہانی کروا رہے ہوں کہ وہ واقعی اس در پر کھڑے ہیں جہاں فرشتے بھی پہنچنے کے لیے صدیوں انتظار کرتے ہیں۔ یہاں وہ لوگ بھی موجود ہوتے ہيں جن کے لیے ہر جگہ ایک سی ہے۔
خواتین وقفے وقفے سے تیزی سے سلام کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں اور میں اس کشمکش میں مبتلا کہ آج آقا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کی جرات نہیں ہورہی تو کل آ جاؤں گی۔ واپس پلٹنے کا سوچا تو خیال آیا کہ آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آمد کی خبر ہے، اس لیے اب پلٹ جانا سراسر بے ادبی ہوگی۔ اسی سوچ میں گم تھی کہ خواتین کے اژدہام میں ایک دھکا لگا اور میں آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش تھی۔
"یا رسول اللہ! آپ کی امت کی سب سے گناہگار امتی آپ کی خدمت میں ہاتھ جوڑ کر سلام عرض کرتی ہے، مجھے اپنے سب گناہوں کا اعتراف۔ میرے بس میں ہوتا تو میں آپ کی خدمت صاف ستھری زبان و وجود کے ساتھ حاضر ہوتی مگر میری بد قسمتی کہ میرے پاس یہی آلودہ وجود ہے، مجھے خدشہ ہے کہ آپ مجھ سے منہ موڑ لیں گے مگر آپ نے تو کبھی اپنے دشمنوں سے منہ نہیں پھیرا میں تو پھر آپ کی امتی ہوں۔ آپ اللہ کریم سے میری مغفرت کی دعا کر دیجیے۔ یا رسول اللہ! آپ روز آخرت میرے ایمان کی گواہی دیجیے گا کہ میں آپ کو اپنے ایمان پر گواہ بنا کر اقرار کرتی ہوں کہ اللہ کریم کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور رسول ہيں۔"
ابھی کل کی سی تو بات تھی، اپنے نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہمان بنے تھے اور اب ہر گزرنے والا لمحہ ہمیں جدائی سے قریب تر کر رہا تھا۔ آخر وہ وقت بھی آگیا کہ میں آخری بار روضہ رسول پر حاضر تھی۔ اشک تھم نہیں رہے تھے اور الفاظ نکل نہیں رہے تھے بہت دیر تک محض ہاتھ جوڑے کچھ کہنے کی کوشش کرتی رہی پھر ہمت مجتمع کر کے گویا ہوئی:
"یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم! وطن واپسی کی اجازت چاہتی ہوں، دوبارہ حاضری کی درخواست ہے۔ جانے کو دل نہیں، رہنے کی اجازت نہیں۔ مدینہ میں موت کی خواہش اپنی جگہ مگر میں اس کی اہل نہیں۔ صرف ایک خواہش ہے کہ میرے سلام کا جواب دے دیجیے گا، مجھ سے چہرہ مبارک مت موڑیئے گا"
پھر آخری بار روضہ اطہر کو نظر بھر کر دیکھا تو کچھ دیکھا ہی نہیں گیا۔ اب واپسی کی تیاری تھی۔ مکہ مکرمہ سے واپسی تکلیف دہ ہے مگر مدینہ منورہ سے واپسی اذیت ناک اور کرب ناک۔ لیکن دوبارہ آنے کے لیے جانا بھی ضروری تھا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com