’پوسٹ کولڈ وار‘ سیناریو سمجھنے کی ضرورت (3) – حامد کمال الدین

دشمن صرف آپ کا ”آج“ نہیں دیکھتا
کچھ بڑی مسلم آبادیاں اور کچھ مضبوط عسکری امکانات کی مالک مسلم ریاستیں – اپنے یہاں اسلام نافذ نہ ہونے کے باوجود – اسلام دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکتی آئی ہیں۔ البتہ اِس ”مابعد سرد جنگ دور“ میں یہ اُن کی جارحیت کا نشانہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اِس دشمنی اور جارحیت کا حوالہ بدستور ”اسلام“ ہی رہے گا خواہ یہ جارحیت یورپ و امریکہ کی جانب سے ہو یا بھارت و اسرائیل کی جانب سے۔ کچھ دینداروں کے لیے البتہ اس بات کا یقین کرنا مشکل ہے کہ دشمن کی اِس جارحیت کا حوالہ آج بھی اسلام ہو! جب یہاں ‘اسلامی نظام’ نہیں تو کافر اِن ملکوں کی قوت پارہ پارہ کرنے میں بھلا کیوں دلچسپی لےگا، ایک خاص یوٹوپیا میں بسنے والا ہمارا یہ طبقہ اِس طرزِفکر سے باہر آنے پر آمادہ نہیں۔

سلسلۂ مضامین کی پچھلی قسط: https://daleel.pk/2017/05/03/41780

”اسلامی نظام“ کے معاملہ میں یہ ذہن کئی پہلوؤں سے نہ صرف ایک غلو بلکہ خلطِ مبحث کا شکار ہے؛ جس کے باعث ”شریعت“ ایسے ایک عالی مرتبت عنوان کے تحت اب یہ اشیاء میں بہتری کی بجائے ایک منفیت اور تعطل لانے کا سبب بن رہا ہے۔ اِس لحاظ سے، اندیشہ ہے، ”شریعت“ کا نام لیوا یہ شدت پسند ذہن مکتبِ استشراق (Orientalist’s Desk) کے لیے عالم اسلام میں ایک اچھی دریافت ثابت ہو سکتا ہے۔ کچھ بڑی اور مضبوط مسلم اکائیوں کی صورت میں آج ہمیں اِس جہان کے اندر جو ایک نعمت حاصل ہے، اور جس کے پیچھے مسلمانوں کی ڈیڑھ سو سال کی محنت اور قربانی ہے، اور جس کے دم سے آج بھی ہمارے بہت سے اسلامی مصالح اللہ کے فضل سے محفوظ ہیں اور تھوڑی حکمت اور عقلمندی سے کام لے کر مزید محفوظ کیے جاسکتے ہیں۔ ہمارے اِس یوٹوپیا ذہن کو البتہ نہ اس کا ادراک ہے اور نہ اس کے تحفظ کے لیے اس کے ہاں کوئی پریشانی۔ بلکہ بعضوں کے خیال میں تو ہمارا اِس نعمت سے محروم ہو جانا اور عالم اسلام کا ”سن اٹھارہ سو کچھ“ والے پوائنٹ پر واپس جا پہنچنا جہاں مسلم سرزمینیں تاحدِنگاہ اغیار کے قبضے اور تصرف میں ہوتی ہیں، یعنی ایک باقاعدہ غلامی۔ وہ عالم اسلام کے اِس حالیہ نیم آزاد سیناریو سے کہیں ”افضل“ ہے! یہ وہ ذہن ہے جسے اندازہ نہیں کہ یہ چیز اگر خدانخواستہ ہم سے چھن گئی تو صدیوں کے حساب سے ہم پیچھے دھکیلے جا سکتے ہیں (اس کی کچھ وضاحت ہم آگے بھی کرنے کی کوشش کریں گے)۔ دورِ زوال کی اس اجتماعی و قومی صورتحال کو یہ حضرات اپنے کچھ ”مثالی“ شرعی معیارات پر ہی جانچیں گے؛ اس سے کم کوئی پیمانہ مسلمانوں کی حالیہ سماجی یا جغرافی پوزیشن کو زیرِغور لانے کے لیے گویا موجود ہی نہیں!

شرعی معیارات سر آنکھوں پر۔ تاہم معاملے کا نقشہ اگر آپ دشمن کی جہت سے سمجھنا چاہتے ہیں تو حالیہ عالمی اکھاڑ پچھاڑ میں مسلمانوں کی اِن جغرافیائی اکائیوں کی پوزیشن طے کرتے وقت اپنے مخصوص معیارات کی بجائے دشمن کے محرکات کو ہی سامنے رکھنا ہوگا۔ اس وقت کے پاکستان، ترکی، عراق، سعودی عرب، مصر، سوڈان، انڈونیشیا اور الجزائر وغیرہ کو تھوڑی دیر کے لیے دشمن کی نظر سے دیکھنے کی زحمت فرمالیجیے۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا، ایسی بڑی بڑی مسلم اکائیوں کی دیرپا گنجائش ایک صلیبی ”نیوورلڈ“ کے اندر کہاں ہے۔ ”شرعی معیاروں“ کا معاذ اللہ ہمیں انکار نہیں۔ لیکن ان کو لاگو کرنے کا سیاق بالکل اور ہے (جس پر ذرا آگے چل کر ایک قاعدہ ذکر ہو رہا ہے)۔ اِس چیز کو اگر آپ نظرانداز کریں گے تو معاملے کو الجھا بیٹھیں گے۔ (بلکہ ایک طبقہ اسے الجھا بیٹھا ہے، جس کا خیال ہے وہ معاملے کو شرعی معیاروں پر پرکھ رہا ہے!)۔ ہم ان حضرات سے کہتے ہیں، اپنے ان ”شرعی معیاروں“ پر آپ کا بوسنیا اور کوسووا بھی یقیناً فیل (fail) ہی ہوتا تھا۔ اسلام کی کوئی ایک بھی بات اغلباً آپ کو بوسنیا اور کوسووا میں نوّے کی دہائی کے آغاز میں نظر نہ آتی تھی۔ لیکن اُسی ”دین سے دور“ بوسنیا اور کوسووا کو آپ ایک نظر صلیبی کی آنکھ سے دیکھیں تو وہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جانے کے قابل ٹھہرتا تھا!

یہ ہے وہ فرق جس پر ہم آپ سے توجہ لینا چاہتے ہیں تاکہ اِس جنگ کے نقشے کو سمجھنے میں غلطی نہ ہو (اور اپنے پیر پر آپ کلہاڑی نہ مار بیٹھیں)۔ آپ نے نوٹ فرمایا: وہی ”اسلام سے کوسوں دور مسلمان“ بوسنیا اور کوسووا کے اندر گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جانے کے لائق ٹھہرتا ہے۔ وہی ”مغربی میم“ دکھائی دینے والی آپ کی بوسنوی اور کوسووی خاتون، صلیبی گماشتے کے ہاتھوں غارت کر دیے جانے کے قابل قرار پاتی ہے۔ اس لیے کہ اس کے رحم میں پلنے والے نطفے کسی دن اِسی لاالٰہ الا اللہ کو ”سوچ سمجھ کر“ بھی پڑھ سکتے ہیں؛ جس سے فرعون کی ”مجوزہ“ دنیا کی جان جاتی ہے۔ ورنہ کافروں جیسا ہونے میں کیا کسر چھوڑی تھی بوسنیا اور کوسووا کی ہماری اس بیٹی نے؟

یہ بھی پڑھیں:   امریکا یا سعودی عرب کی نہیں، اسرائیل کی جنگ - تزئین حسن

تو پھر یہاں سے اندازہ کر لیجیے، کافر کتنی دُور تک دیکھتا ہے، پیچھے بھی اور آگے بھی۔ دوسری جانب ہمارا یہ مسلمان ”شرعی عینک“ لگا رکھنے کے باوجود کیسا کوتاہ نظر ہے۔ کافر اِس ”بےدین“ مسلمان کی پشت میں پڑی نسلوں کو لاالہ الا اللہ پڑھتا اور چشم تصور میں یورپ کی طرف بڑھتا دیکھتا ہے تو آج اِسے کسی بڑی جغرافیائی اکائی کے طور پر دیکھنے کا روادار نہیں رہتا۔ ادھر ہمارا تنگ نظر دیندار اِس کی ٹخنوں سے نیچی شلوار یا اس کی ڈاڑھی مُنڈی صورت سے گزرنے پر آمادہ نہیں! یہ اس کے کچھ خلافِ شریعت افعال دیکھتا یا اسے عقیدہ و عمل کی خرابیوں میں پڑا ہوا یا ایک غیر اسلامی نظام میں گرفتار پاتا ہے تو اپنی کسی ہمدردی یا مدد و نصرت و اعانت کے قابل نہیں جانتا۔ اور کیا بعید خود بھی کسی وقت اس کا کام تمام کرنے کی سوچے؛ اور نادانستہ اُس خرانٹ دشمن ہی کا کام آسان کر آئے!

مقصد یہ کہ: اس جنگ کا نقشہ سمجھنے کے لیے آپ یہاں پر ”مطلوبہ“ تبدیلی و اصلاح کے معیارات نہیں، بلکہ ذرا دیر معاملہ دشمن کی نگاہ سے دیکھ لیجئے۔ بہت ممکن ہے صورتحال اُس سے مختلف نظر آئے جو آپ اِس جنگ کے کسی ایک ہی فیکٹر کو سامنے رکھتے ہوئے معاملہ کی اسیسمنٹ (assessment) کرتے رہے تھے۔

یہ بات ایک قاعدے کے طور پر نوٹ ہونی چاہیے کہ:
- اپنے شرعی معیارات آپ زیربحث لائیے یہاں پر درکار اصلاح اور تبدیلی کے مباحث کے دوران۔ جبکہ اس اصلاح اور تبدیلی کا اپنا ایک طریقہ ہے، جس پر ہم کسی الگ سلسلۂ مضامین میں روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔
- البتہ اِس عالمی اکھاڑے کا نقشہ جانچنا ہو تو۔ اپنی اِن آج کی جغرافیائی اکائیوں کو اِن کے وسائل، معدنیات، عسکری امکانات اور ڈیموگرافی وغیرہ ایسے عوامل کے ساتھ (جو ”مستقبل“ کے کسی عالمی نقشے کو تشکیل دینے میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہوں) ذرا دیر کے لیے ”صلیبی“ کی نظر سے دیکھ لیجیے۔ خاص اِس پہلو سے ”صلیبی“ عالم اسلام کو جس گھیرے میں لے رہا ہے، اسے اپنے سامنے رکھ لیجیے۔ اور پھر یہاں پر چلی جانے والی چالوں کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔

واضح کرتے چلیں، ہماری ان تنقیحات کا مقصد صرف ایک ہے: احیائے اسلام کی کوششوں کو ایک کلیرٹی (clarity) دینا، یہاں پر جاری اصلاحی و دعوتی عمل کو ایک پختگی کی طرف لانا اور عالم اسلام کو درپیش اِس بحران سے نکلنے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنا۔ ہمیں پروا نہیں، فی الحال ہماری ان باتوں کو کس قدر تعجب اور حیرانی سے لیا جاتا ہے۔

سن 2007ء میں ہم جو باتیں کر رہے تھے اور ”لال مسجد“ سے ملحقہ پورے ایک منظرنامے سے خبردار کر رہے تھے، (جس پر ہماری تالیف ”رو بہ زوال امیریکن ایمپائر“ شاہد ہے)، اُن باتوں کی صداقت سے آج وہ لوگ بھی شاید انکار نہ کر پائیں جو اُس وقت ہماری اُن باتوں کو حیرانی سے سن رہے تھے اور شاید سننا بھی گوارا نہیں کر رہے تھے۔ دینی طبقوں کو اس بات کا واضح ادراک کرنا تھا اور ہے کہ:
مسلمانوں کی ہر بڑی جغرافیائی اکائی، خواہ وہ اپنے یہاں قائم ”نظام“ یا اپنی بستیوں کے اندر نظر آنے والے تہذیبی مظاہر کے معاملہ میں سن 1992ء کے بوسنیا، کوسووا یا البانیہ سے ابتر اور ”غیراسلامی تر“ کیوں نہ ہو، اِس وقت صلیبی منصوبہ ساز اور اُس کے بھارتی/صیہونی اتحادی کی ہِٹ لسٹ پر ہے۔ اور ایسی ہر بڑی مسلم اکائی کے کویت، قطر اور برونائی جتنے یا اس سے بھی چھوٹے ٹکڑے کر دینا ایک ”نیا جہان“ تشکیل کرنے والوں کی ترجیحات میں اِس وقت باقاعدہ شامل ہے۔ اِس خواب کو عملی تعبیر پہنانا آج بےشک اُن کے لیے آسان نہیں (اور ان شاءاللہ کبھی آسان نہ ہوگا)؛ اور فوراً تو شاید ممکن ہی نہیں کیونکہ معاملہ اچھا خاصا اُن کے ہاتھ سے نکلا ہوا ہے، جس کی کچھ وضاحت ”سرد جنگ“ کے حوالے سے اگلے مضمون میں آ رہی ہے (”چند مسلم ممالک اتنی سی طاقت بھی کیونکر حاصل کر سکے“)۔ لہذا اس کے لیے اب انہیں کچھ الجھی ہوئی اور لمبی چالیں چلنا پڑ رہی ہیں۔ جس کے تحت یہاں کے بہت سے اندرونی و بیرونی عوامل کو بیک وقت وہ راہ دکھائی جا رہی ہے جو مسلم دنیا کو چھوٹے چھوٹے لقمے کر دینے پر منتج ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ جو دھواں ہے نشاں ہے آتشِ الفت کا۔۔ یا؟ - بلال شوکت آزاد

یہ مت سمجھیے کہ وہ جغرافیائی اکائیاں جو شیاطینِ عالم کے کسی مطلوبہ ”پوسٹ یو این ورلڈ“ (a desired post-UN-world) میں فٹ نہیں بیٹھتیں۔ وہ خاص کوئی ”اردگان کے ترکی“ یا ”ضیاء الحق کے پاکستان“ یا ”فیصل کے سعودیہ“ یا ”عزت بیگووچ کے بوسنیا“ ایسی مسلم اکائیاں ہی ہوں گی۔ یعنی اردگان یا ضیاء الحق یا فیصل یا بیگووچ ایسی مذہب پسند قیادتیں اگر نہ ہوں تو مسلمانوں کی یہ جغرافیائی اکائیاں بجائے خود تو اپنی تمام تر ڈیموگرافک جہتوں کے ساتھ اُن کو ہضم ہی ہضم ہیں! یہ سوچنا بالکل غلط ہوگا۔ حق یہ ہے کہ ترکی میں اردگان یا پاکستان میں ضیاء الحق یا سعودیہ میں فیصل یا بوسنیا میں بیگووچ ایسا کوئی ”اسلامسٹ“ اوپر آ جانا دشمن کو ہم پر بےرحم ہو جانے کے کچھ اضافی اسباب فراہم کرتا ہے۔ ورنہ قبول ان کو ”اتاترک“ کا ترکی بھی بہرحال نہیں ہے۔ ابھی ہم اس کی وجہ بتائیں گے کہ کیوں۔ (”اتاترک کا ترکی“ ہم نے اِس ضمن کی بدترین مثال دینے کے لیے قصداً ذکر کیا ہے تاکہ کوئی غموض رہ ہی نہ جائے، بقیہ مثالیں اسی پر قیاس کر لیجیے)۔

اتاترک کا ترکی ”خلافت“ کے مقابلے پر ایک نعمتِ غیر مترقبہ ضرور ہوگا۔ (ہم یہاں دشمن کی نظر سے صورتحال کی تصویر دکھا رہے ہیں)۔ تاہم ”خلافت“ جب ایک بار ختم کی جا چکی تو ضروری نہیں ”اتاترک کا ترکی“ اپنے اُسی سائز، اُنہی وسائل اور اُنھی عسکری امکانات کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہے۔ لِكُلِّ مَقَامٍ مَقَال، وَلِكُلِّ حَادِثٍ حَدِيثٌ! وجہ اس کی واضح ہے: ”اتاترک کے ترکی“ کو ”اردگان کا ترکی“ بننے میں آخر دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ چند عشرے؟ تو پھر ایک مضبوط ترکی ”اتاترک“ کے پاس بھی کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟ الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو۔ اور ہاں مجبوری ہو (مثال: سوویت عفریت کی گرم پانیوں کی طرف پیش قدمی) تو ”ضیاءالحق کے پاکستان“ کے ساتھ بھی معاملہ کر لینا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ”اسلامی پاکستان“ اپنے نیوکلیئر پروگرام کو بھی خاطرخواہ حد تک آگے بڑھا لیتا ہے!

پس مسئلہ مجبوریوں کا ہے۔ کوئی خاص مجبوری نہ ہو تو عالم اسلام میں کوئی ملحد سے ملحد ”قیادت“ کیوں نہ ہو، بے دین سے بے دین ”نظام“ کیوں نہ ہو، صلیبی یہاں ایک مسلم ملک کو مضبوط اور توانا چھوڑنے کا ”خطرہ“ مول لے ہی نہیں سکتا۔ اتاترک بھی ہو، وہ صرف اپنے کفر کی گارنٹی دے سکتا ہے اپنی نسلوں کی نہیں! اس ”مسئلے“ کا کوئی کرے تو کیا کرے؟ مسلم دنیا کی ”گارنٹی“ اللہ کے فضل سے کوئی نہیں دے سکتا؛ یہاں تک کہ خود ملحد بھی نہیں! خود اِس (ملحد) کے گھر کب کوئی دیندار پیدا ہو جائے، کیا ضمانت ہے؟ (صلیبی کو ہماری مسجد اور ہماری اذان، یہاں تک کہ اب تو ہماری تبلیغی جماعت اور الہدیٰ جیسی بے ضرر چیزیں بری لگتی ہیں کیونکہ یہ مسلم بیداری کے لیے ایک ”نرسری“ کا درجہ رکھتی ہیں! بڑی بڑی ملحد شخصیات کے گھروں میں آپ نے بڑے بڑے دیندار بچے دیکھ رکھے ہوں گے؛ عالم اسلام کا یہ ایک ”جینوئن“ مسئلہ ہے؛ آخر اسے کیسے نظرانداز کر دیا جائے!)۔ یہ ملحد اپنی آئندہ نسلوں کی تو کیا ضمانت دے گا، اس بات ہی کی کیا ضمانت کہ خود یہی کل کو تائب نہیں ہو جائے گا اور مرنے سے پہلے خدا کے ساتھ اپنا معاملہ سدھار لینے کے لیے فکرمند نہیں ہو جائے گا! مسلمان ماں کے دودھ میں خدا نے کچھ رکھا ضرور ہے۔

اس لحاظ سے؛ خدا نے عالم اسلام کے معاملے کو کچھ لاک (lock) لگوا دیے ہیں۔ یہ قدرتی لاک (lock) ہیں۔ کوئی مائی کا لال انہیں اَن لاک (unlock) نہیں کر سکتا۔ کوئی ضمانتیں یہاں پائی ہی نہیں جاتیں۔ ضمانتیں کہیں ہوں تو دی جائیں! ملتِ صلیب پس یہاں ”شخصیات“ کو نواز سکتی ہے ”ملکوں“ کو نہیں؛ خواہ یہ شخصیات اُس کے لیے سونے کی کیوں نہ ہو جائیں. لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے ملکوں کو ”بڑی طاقتیں“ بنتا چھوڑنا صلیبی کی لغت میں نہیں، سوائے یہ کہ مجبوری ہو!
پس کُل کھیل آپ کو اُس کی مجبوریوں کے ساتھ کھیلنا ہوتا ہے۔ اس بات کو ایک کُلی قاعدے کے طور پر لکھ لیجیے۔
(جاری ہے)

سلسلۂ مضامین کی پہلی قسط: https://daleel.pk/2017/04/25/40871