’’رومانس ضروری ہے‘‘ – احسان کوہاٹی

ان کی شادی گھر والوں کی مرضی سے ہوئی تھی، وہ ان کی بہنوں کی پسند تھی لیکن شادی کے بعدوہ ایک دوسرے کی پسند بن گئے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو بہت خوش قسمت سمجھتے تھے کہ انہیں اتنا اچھا ہمسفر ملا اور دونوں ہی ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ اگر خاتون کا نام سلمٰی سمجھ لیں تو وہ شکر کرتے نہیں تھکتی تھیں کہ اسے اتنا خیال رکھنے اور محبت کرنے والا شوہر ملا ہے اور مرد بھی خود کو دنیا کا خوش نصیب انسان سمجھتا تھا اور ایسا غلط بھی نہ تھا۔ پیار کرنے والی وفا شعار بیوی ہو، پھول سے بچے ہوں، مناسب آمدنی ہو تو زندگی کا ہر پل اچھا ہی لگتا ہے، ان کی زندگی بھی اچھی گزر رہی تھی جیسے پرانی فلموں یا پاکستان ٹیلی ویژن کے پرانے ڈراموں میں مرکزی کردار کے اردگرد کی زندگی ہوتی ہے۔

راوی چین ہی چین لکھتا تھا لیکن پھر اس چین کی جگہ بے چینی نے لے لی۔ سلمٰی کا شوہر بدل سا گیا. اس نے بھی شوہر کے بدلتے تیور بھانپ لیے۔ ان کے سیل فون پر لگے لاک نے اس کا شک مزید پختہ کر دیا، پھر راتوں کو دیر سے آنا اورگھر پر رہتے ہوئے بھی ذہنی طور پر حاضرنہ رہنا، فون پر مسلسل مصروف رہنا۔ سلمٰی کا پریشان ہونا فطری امر تھا۔ عورت اس معاملے میں حد سے زیادہ حساس ہوتی ہے۔ اس کی چھٹی حس اسے خبردار کر نے لگی، لیکن سلمٰی نے خود کو سمجھایا کہ پانچ بچوں کا ابا بگڑے گا بھی تو کتنا، چالیس سے اوپر کے ہو رہے تھے، اب وہ اس عمر میں اس پر سوکن لانے سے تو رہے۔ پھر بھی سلمٰی نے اپنا احتساب کیا اور پہلے سے زیاد ہ جی جان سے ان کی خدمت کرنے لگی۔ انہیں سبزی پلاؤ اور میٹھے میں ٹرائفل پسند تھا، اب گھر میں ہر دوسرے روز سبزی پلاؤ بننے لگا۔ ریفریجریٹر میں ہر وقت ٹرائفل سے بھرے ڈونگے موجود رہنے لگے لیکن سبزی پلاؤ کی اشتہاء انگیز خوشبو سلمٰی کے شوہر کو پہلے کی طرح شام ڈھلے گھر لاسکی، نہ لذیذ ٹرائفل کا ٹوٹکا کام آیا۔ سلمٰی کے شوہر کی توجہ کم سے کم ہوتی چلی گئی اور اب اس نے کئی کئی دن گھر سے غائب رہنا بھی شروع کر دیا تھا۔ بس ایک فون آجاتا کہ وہ دفتر کے کام سے دوسرے شہر جا رہے ہیں۔ یہ دوسرا شہر کون سا تھا؟ سلمٰی کوپتہ نہ ہوتا، اور جب سلمٰی کو پتہ چلا تو خاصی دیر ہو چکی تھی، پانی سر سے گزر چکا تھا، اس کا شوہر ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ سلمٰی جان چکی تھی کہ اس کے شوہر کا کسی سے چکر چل رہا ہے۔ ایک دن اس نے صاف صاف بات کرنے کی ٹھانی اور گھر آنے پر پوچھ ہی لیا:
”یہ چکر کیا ہے؟ آپ اتنا کیوں بدل گئے ہیں؟“
اس سوال کے جواب میں اس کے سارے وسوسے سارے شک دور ہوگئے کیوں کہ وہ سن رہی تھی کہ اس کا شوہر دوسری شادی کا اعتراف کر رہا ہے۔ اس اعتراف کے بعد شک کی کیا گنجائش ہوتی؟ سلمٰی رونے دھونے کے سوا کر کیا سکتی تھی؟ سو وہ آنکھوں میں اشک لیے اس خوابگاہ میں آگئی جو کبھی دونوں کا مشترکہ بیڈروم ہوا کرتا تھا۔

شوہر کی دوسری شادی کے اعتراف کے بعد سلمٰی نے شوہر سے التجا کی کہ چلیں جو ہوا سو ہوا، آپ نے اپنی مرضی کر لی، اب ہم دونوں میں عدل رکھنا آپ کا فرض ہے، مجھے میرا حق دیں، لیکن اس کا بھی اثر نہ ہوسکا۔ سلمٰی کا شوہر اس سے دور ہوتا چلا گیا، اس کا ایک بڑا سبب سلمٰی کی سوکن کا مالی لحاظ سے مستحکم ہونا بھی تھا اور اسمارٹ ہونا بھی، اب سلمٰی کو صرف ماہانہ خرچ ملتا تھا۔ وہ گھٹ گھٹ کر جینے لگی اور آخر کار اس کی ہمت جواب دے گئی۔ اس نے فیصلہ کر لیا اور اس فیصلے پر عمل کرنے کے لیے اس نے ایک دوست کی مدد سے سیلانی سے رابطہ کیا اور فون پر ساری کہانی سنانے کے بعد کہا
”سر! مجھے کوئی اچھا وکیل کرا دیں، میں اپنے شوہر سے خلع لینا چاہتی ہوں.“
”وکیل تو آپ کو مل جائے گا لیکن شوہر سے علیحدگی کے بعد آپ اپنے بچوں کی پرورش کیسے کریں گی؟ کیا آپ کے والدین ان کی ذمہ داری اٹھائیں گے؟“
”کچھ کہہ نہیں سکتی، لیکن میں اب مزید اس گھر میں نہیں رہ سکتی، میرا نروس بریک ڈاؤن ہوجائے گا.“
”آپ پہلے والدین سے تو بات کریں اور یاد رکھیں کہ یہ انگلینڈ نہیں ہے. آپ کے شوہر نے بچوں کی کفالت سے ہاتھ کھینچ لیا تو آپ کچھ نہیں کر سکیں گی، میرا تو مشورہ ہے کہ یہ فیصلہ نہ کریں.“
”تو پھر میں کیا خودکشی کرلوں؟“
”بی بی! خلع لینے کے بعد بھی ایسے ہی حالات ہوں گے بلکہ اس سے بھی بدتر، معاشی مشکلات آپ کو نفسیاتی مریض اور جانے کیا کیا بنا دیں گی.“ سیلانی نے سلمٰی کو سمجھایا اور پھر بات سے بات نکلتی چلی گئی. سیلانی کے پوچھنے پر سلمٰی نے بتایا کہ اس کا شوہر کہتا ہے کہ تم ایکسپائر ہو چکی ہو، میرا تم سے دل بھر گیا ہے۔
”یہ کہتے ہوئے اسے ذرا احساس نہیں ہوا کہ میں اس کی اور اس کے بچوں کی خاطر ماسی اور باورچن بن کر رہ گئی ہوں۔ میں نے اپنی ذات کی نفی کر دی اور مجھے یہ صلہ ملا.“ سیلانی نے سلمٰی سے تو یہ نہیں کہا کہ اس سے یہی تو غلطی ہوئی کہ وہ ماسی بن گئی، باورچن بن گئی لیکن اپنے شوہر کے لیے ”دل ربا“ نہ رہ سکی۔

سلمٰی کی کہانی اس کے ایک دوست سے ملتی جلتی ہے اس نے بھی 43 برس کی عمر میں دوسری شادی کر لی تھی۔ سیلانی نے اس سے اتنے بڑے اور غیر متوقع فیصلے کی وجہ پوچھی تو اس نے سنجیدگی سے کہا ”یار! میری زندگی میں رومانس ختم ہوگیا تھا.“
”یہ چار بچے بنا رومانس کے ہی ہوگئے تھے، اگر رومانس ہوتا تو۔۔۔“
”تم تو کم از کم اتنی سطحی بات نہ کرو، میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو، میں ایسی جگہ جاب کرتا ہوں جہاں آس پاس بہت سی خواتین لڑکیاں ہیں۔ سب ایک سے ایک اچھی ڈریسنگ کرکے آتی ہیں، اپنا خیال رکھتی ہیں۔ میری ساتھی مینیجر مجھ سے پانچ سال بڑی ہے لیکن دیکھو تو میں اس کا بڑا بھائی لگتا ہوں، اس نے خود کو اتنا فٹ رکھا ہوا ہے۔ دوپہر کو لنچ میں صرف سلاد لیتی ہے، چائے بغیر دودھ کے، شام کو دفتر سے گھر نہیں جاتی، ایک گھنٹہ جمنازیم میں لازمی گزارتی ہے اور تمہاری بھابھی میکے بھی نہیں جاتی۔ میں نے اسے سمجھایا کہ کسی چیز کی کمی نہیں ہے، خود پر توجہ دو، مگر اس کی ساری توجہ بچوں کے اسکول، ٹیوشن، باورچی خانے پر ہی رہی۔ اس سے بس کھانے بنوا لو یا اچھے ٹیوٹروں کا پوچھ لو۔۔ یار! زندگی میں رومانس بھی ضروری ہوتا ہے، یہی گیپ تھا، یہی کمی تھی جس کی وجہ سے میں کہیں اور متوجہ ہوا اور پھر ہم میں انڈراسٹینڈنگ بڑھتی گئی، اور آخر کار میں نے سوچا کہ بہتر ہے شادی کرلی جائے۔“

سیلانی کے دوست کی اس بات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور تائید بھی، لیکن سچ یہی ہے کہ ہمارے مشرقی معاشرے میں میاں بیوی کے درمیان عموماً سب کچھ ہوتا ہے لیکن محبت کا اظہار ہی نہیں ہوتا۔ ہم مرد ہوتے ہوئے بھی اپنی ہمسفر سے اظہار محبت کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں اور عورتیں بھی سبزی والے کو کانے بینگن دینے پر بے نقط سنانے سے لے کر پڑوسن کو زچگی میں آسانی کے نسخے بتا سکتی ہیں لیکن شوہر کے لیے کوئی ایک پیار بھر اجملہ نہیں کہہ پاتیں کہ لاج آتی ہے یا پھر شوہروں کی پیشانیوں پر پڑی تیوریاں ہی بیچاریوں کو سہمائے رکھتی ہیں۔ ادھر شوہر بھی پانامہ لیکس سے پانی کی قلت پر بےتکان بول سکتا ہے لیکن بیوی سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ آج ذرا لان کا وہ والا گلابی سوٹ پہن لینا۔۔۔!

سیلانی ایک مرد ہونے کے ناطے خواتین کو پتے کی بات بتا رہا ہے کہ لاڈ، پیار، ناز، نخرے اور ادائیں مرد کو کھونٹے سے باندھ کر رکھتی ہیں لیکن ناز نخروں کے لیے نزاکت بھی ضروری ہے. ہمارے یہاں خواتین اپنی فٹنس کا خیال بھی نہیں رکھتیں۔ یہاں دو بچے ہوئے نہیں اور ادھر بیگم صاحبہ سومو ریسلر ہوئی نہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ بہترین اور کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے بھی رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین راہنمائی کرتی ہے۔ سیرت کی کتابیں بتاتی ہیں کہ رسول اللہ تو امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی کی خوشی کے لیے ان کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ بھی کر لیتے تھے، حبشیوں کا کھیل تک دکھانے لے جاتے اور ہم اپنے ہمسفر کی خوشی کے لیے کیا کیا کرتے ہیں؟ ہم پیار کے دو بول بولنے میں بخیل ہوتے ہیں اور خواتین حکمت سے کام لینے سے فارغ۔ بھئی! اپنا خیال رکھیں، سج سنور کر رہیں، آئینہ نہیں شریک سفر کی آنکھوں میں جھانکیں، کبھی ناز سے فرمائش کریں اور کبھی نخرے سے روٹھ جائیں، زندگی سے رومانس کو نہ جھاڑیں ورنہ زندگی سے خوشیاں جھڑ جائیں گی جیسی سلمٰی کی زندگی میں اداسیاں اتر آئی ہیں۔ سیلانی یہ سوچتے ہوئے چشم تصور سے پریشان حال سلمٰی کو بےچینی سے کمرے میں ٹہلتا دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.