نہیں چاہتے وزیراعظم دنیا سے معافی مانگے - حافظ یوسف سراج

پشت پر لگے ہزار زخموں کے بیچ، کوئی ایک خنجر کبھی یوں لگتا ہے کہ’ اوہ ! بروٹس یو ٹو‘پکارنے والا قدموں پرپھراٹھ نہیں سکتا۔ شعلہ بار ہجوم کی سنگ باری سہارجاتا شخص ، شبلی کامارا پھول سہہ نہیں سکتا ۔نیوز لیکس کے معاملے کی نوعیت مگراور بھی ہے۔ لہو میں بھیگے شہدا کے وقار ہی کا نہیں، یہ معاملہ عالمی الزام کاروں کے مقابل ہمارے آخری حصار کے اخلاقی انحصار کا بھی ہے۔ اخلاقی ہی نہیں ، زیادہ حیثیت اس کی قانونی ہے، داخلی نہیں، اصل پہلو اس کا عالمی ہے۔

دس ہزار سالہ انسانی تجربے کا حاصل یہ ہے کہ فوج کبھی ملک نہیں چلا سکتی ۔ آمریت کبھی عوامی زخموں کی مسیحائی نہیں کر سکتی ۔ سوائے از خود فائز ہوئے ایجنٹوں اورسوائے دانش کے نام پر بروئے کا رآئے احمقوں کے، کوئی فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کی وکالت نہیں کر سکتا۔ کوئی فوج کے اپنی حدود سے تجاوز کی تحسین نہیں کر سکتا۔دہلیز پر کھڑے نگہبان کبھی گھرکے فیصلے نہیں کرتے۔ باڑ کبھی باغ نہیں ہوتی۔ انگریزی محاورہ ہے، پانی کبھی لہو سے گاڑھا نہیں ہو تا۔ اب اس پر کیا کوئی حلف دے؟ یا شہاب نامہ لکھ کے آپ کو تھمائے؟ سوال مگر اتنا ہے۔ کیا اسی ڈیٹر جنٹ سے اپنے سارے گندے کپڑے بھی حکومت دھو سکتی ہے ؟ کیااسی ایک فلسفے میں سیاست اپنی خامیاں چھپاکے بھی جیت سکتی ہے۔ اگر بالفرض ہاں! توفرمائیے، کب تک؟ مکرر عرض ہے، آخر کب تک؟ گمنامی میں جاوداں شعر لکھ کے قبر میں جا سونے والے ناز خیالوی نے کہا تھا؎
مجھ کو معلوم ہے انجام میری کٹیا کا
زندگی اس کی بھی برسات کے آنے تک ہے

کون نہیں جانتا، شعبدہ گری سے کچھ وقت کیلئے سب لوگوں کو، اور سب وقت کے لیے کچھ لوگوں کو بے وقوف بنا یا جاسکتاہے، سب وقت کے لیے سب لوگوں کو مگر کبھی نہیں۔ وقت سب آشکار کر ڈالتاہے۔ وقت سا صاف گو اور بے رحم اورکوئی نہیں۔ وقت اپنا قرض چکا کے رہتا ہے۔ جس کا بار ہو، یہ اس پر گر اکے رہتاہے۔ وقت آتا ہے کہ شاعر کی آرزو ؎
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

پوری ہوتی ہے اورقد بڑھانے کو کلف میں ڈبوئی دستارکے طرے کا ہر بَل بھیگے ہوئے لٹھے کی طرح ہو جاتاہے اور آدمی اپنی اصل کے ساتھ آشکاراور عیاں ہو رہتا ہے۔دامن ِ یار جن کو میسر ہو، پھر انھیں سر رکھنے کو پتھربھی نہیں ملتا۔

تناظر اگر درست ہو، تو معاملہ قطعا ً پیچیدہ نہیں۔ سادہ بات یہ ہے کہ یہ ملکِ خداداد ایک ایسے افضل مقام پر کھڑا ہے، زہریلے پروپیگنڈے سے حاسدوں نے جسے دشنام بنا دیا ہے۔ سیدہ عائشہ ؓ! وہ کہ جن کی عفت کی گواہی قرآن کی آیتیں ہو گئیں۔ بہتان کے طوفان میں اپنی والدہ سے انھوں نے دردِدل بانٹا تو خاتون نے بیٹی کو سمجھایا، حسن جس لڑکی پر ٹوٹ کے برسا ہو اور خاوند جس کا دل و جان سے اسے چاہتا ہو، تو حاسد اس کے پیدا ہو کے رہتے ہیں۔ پاکستان کا قصور یہ ہے کہ یہ کرۂ ارض کے بہترین محلِ وقوع پر بہترین وسائل کے ساتھ البیلی شان سے کھڑا ہے۔ اس کے بیدارو خوابیدہ وسائل اور مقناطیسی اہمیت کا حامل اس کا حسن،تیرہ باطنوں پر بخوبی عیاں ہے ۔ دائم اس پر برستی اللہ کی مدد ایک ملحد بھی دیکھ سکتاہے۔ گو الحاد پر اس کا پختہ ایمان اسے یہ کہنے نہیں دیتا۔ فلک چھوتے پہاڑ ،زمیں کی شریانوں میں قوت سے رواں ساگر، اتھا ہ گہرے سمندر ، زندگی کے سر پر قوسِ قزح کی چھتری تان دیتے چہار موسم ،امنڈتے جذبات والی جیالی قوم، ہرالو خصلت کی آنکھ میں چبھتا اس کا روشن محلِ وقوع، دنیا دکھا دیتی اس کی آبی راہیں،دنیا سمٹا دیتی اسکی تخلیق ہو رہی زمینی گزرگاہیںاور اللہ کے بعد ان سب کی محافظ اس کی ایٹمی صلاحیت ، یہ قصور وہ ہیں کہ حاسد دنیا جسے نہ فراموش کر سکتی ہے، نہ نظرانداز اور نہ معاف۔ اب آپ فرمائیے مچانوں پرگھات لگائے بیٹھے دشمنوں کے مقابل پھیلے اس ملک کی محافظت کے لیے آپ کا چوکس چوکیدار کون ہے؟ کیا عالمِ اسلام کی سب سے دلاور اور پیشہ ورانہ اہلیت کی حامل فوج کے علاوہ بھی اس چوکیدار کا کوئی دوسرانام آپ کو آتا ہے؟ چنانچہ، دنیا بھر کی ایجنسیاں اس کے پڑوسی ملک سے اشتراک کرتی ہیں۔ کیا یہاں پھولوں کی کیاریاں اگانے کو؟ بس ان کا چلتا نہیں ۔چنانچہ آئے دن یہ جیالے سپاہی زہریلے پروپیگنڈے کی زد میں رہتے ہیں۔ کیا آپ کو یاد ہے روگ آرمی کے اشتہارکس ملک کے کس اخبار نے چھاپے تھے؟ کیا آپ کو یاد ہے ڈاکٹر عبدالقدیر کو ٹی وی پر آکے کیوںاورکیا کچھ اعتراف کرنا پڑگئے تھے ؟ کیا آپ کو حسین حقانی کا وہ مضمون بھول گیا ، جسے ہماری صحافت نے میمو گیٹ کا نام دیا؟ آپ کو ا س موضوع پر لکھی گئی کتاب بھی یاد رکھنی چاہئے ، گو مصنفہ کی نیت نیک ہی رہی ہو۔کیا آپ نہیں جانتے کہ سرحد پار سے چوبیس گھنٹے میڈیائی گولہ بارود کس کے سینے پر برستاہے؟ دیانتداروں کی بات نہیں ، لیکن کیا آپ پہچانتے نہیں کچھ لوگوں کا وظیفۂ زندگی ہی ان محافظوں کے خلاف مسلسل زہراگلنا ہے؟ چنانچہ محاذ پر نہ ہو کر بھی ، دائم ہمارے محافظوں کو پروپیگنڈہ محاذ کے مقابل جینا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بات ضروری ہے جو اب تک ادھوری ہے - حسین اصغر

من جملہ الزامات میں سے، ایک الزام یہ ہے کہ نجی ادارے یہاں فوج کی معاونت کرتے ہیں، بخدا ا س سوچ کے نقصانات سے کبھی نظر چرائی نہیں جا سکتی۔ البتہ بد قسمتی سے ہمیں ایک دوغلی دنیامیں جینا پڑ رہا ہے ۔ جہاں لاہور کے مزنگ چوک میں لاشیں گرانے والے ایک دہشت گردریمنڈ ڈیو س کیلئے امریکی صدر کھڑا ہو جاتاہے ۔ کیا یہ ریمنڈ ڈیوس ایک فوجی تھا، کیا وہ واقعی سفارتکار تھا؟ کیایہ بلیک واٹر امریکی میرینز کی کوئی رجمنٹ ہوتی ہے؟ کیا ہندو ویشوا پریشد انڈین آرمی کی کسی کور کا نام ہے ؟ کیا بموں کی اماں جان میں مارے جانے والے بھارتی، داعش کو لسی پلانے گئے تھے؟ یہ دنیا ایسی ہی ہے۔ یہاں سفارتخانوں میں ایجنٹس خفیہ مشنز کی کمان کرتے ہیں۔ یہاں سفارتی کوٹ کی کسی کف میں سائیلنسر لگا قاتل پستول بھی ہوتا ہے۔ ہمیں بھی اسی دوغلی دنیا میں جینا ہے۔ لہو کے چھینٹے ہی نہیں، لہو کی لکیریں بھی قاتلوں کے جس کوچے کا پتا دیتی ہیں، وہی ننگِ نام مگر ہمیں الزام کے کٹہرے میں بھنبھوڑتے ہیں۔

کیا مجھے کچھ اور بھی لکھنا چاہیے؟ ظاہر ہے، ایسے میں باہر سے جو تیر ِدشنام آتا ہے وہ تو بس اک الزام ہوتا ہے، لیکن اندر سے، اور وہ بھی ملک کے ایک معزز ایوان سے، ایک خبر نکل کے اگر چھپ جاتی ہے اور ا سے پوری قوت سے اگر جھٹک نہیں دیا جاتا، تو وہ ایک عدالت میں کارآمد دستاویز بن جاتی ہے۔ دائمی رسوائی کا ایک ڈاکومنٹ۔ کس کے خلاف ؟ جی نہیں کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ جنرل کے نہیں، اس ملک ِ پاکستان کے خلاف۔ کیا اپنی آئندہ نسلوں کو ہمیں اسی بے حکمتی کے خلا میں چھوڑ جانا ہے؟ جی نہیں، مستعداور مستند تحقیقات کے ذریعے، ملک کو ملزمانہ عالمی کٹہرے سے نجات دلانا فوج سے بھی پہلے خودوزیراعظم کی ذمے داری ہے، ہم دیکھنا نہیں چاہتے کہ خاکم بہ دہن اسی الزام پر کل کلاں کسی ٹی وی پر ہمارا کوئی وزیرِاعظم دنیا سے معافی مانگتا دکھائی دے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کہنے - زرین تارڑ

آپ سمجھے؟ نیوز لیکس کی نوعیت کچھ اور بھی ہے۔ لہو میں بھیگی وردی کے وقار ہی کا نہیں، یہ معاملہ عالمی الزام کاروں کے مقابل ہمارے آخری حصار کے اخلاقی انحصار کا بھی ہے۔ اخلاقی ہی نہیں، زیادہ حیثیت اس کی قانونی ہے، داخلی نہیں، اصل پہلو اس کا عالمی ہے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.