ایشیا کا معاشی شیر - صائمہ تسمیر

پرسکون فضا، ہرطرف سبزہ، چمچماتی سڑکیں، بےمثال صفائی، قدرتی حسن سے مالامال، نہایت ٹھنڈے اور نرم مزاج لوگ، ان تمام خوبیوں کو یکجا کیا جائے تو بنتا ہے، ایشیا کا معاشی شیر "ملائیشیا". عالمی برادری میں اپنی مضبوط معیشت سے منفرد شناخت بنانے والا، جنوب مشرقی ایشیا کا یہ مسلم ملک، وفاقی بادشاہی نظام کا حامل ہے۔

اس کی روزافزوں ترقی کا راز مثالی امن میں پنہاں ہے۔ امن و امان یقینی بنانے کےلیے قانون کی سخت پابندی کی جاتی ہے۔ دراصل امن ہی وہ زینہ ہے جس کی بدولت ترقی کا سفر آگے بڑھتا ہے۔ قرآن کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے معیشت سے پہلے امن کی دعا مانگی۔ اسی طرح اللہ رب العزت نے سورہ قریش میں امن کا تذکرہ بطورِ نعمت کیا کیونکہ امن کے بغیر ایک خوش حال اورپرسکون زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ یہاں عام آدمی کی زندگی خوشحالی سے عبارت ہے۔ نہ لوڈشیڈنگ، نہ پانی کی قلت، نہ گندگی کے ڈھیر....!!95 فیصد آبادی تمام شہری سہولیات سے یکساں مستفید ہوتی ہے۔ نتیجتاً عوام فرسٹریشن کا شکار نہیں، بلکہ اپنی تمام تر توانائی ملک و ملت کی تعمیر میں صرف کرتے ہیں۔

31 اگست 1957ء کو برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والا یہ ملک، کثیر نسلی، کثیر ثقافتی سماج کا حامل ہے۔ یہاں کی معاشرت میں چینی، بھارتی، فارسی، عربی اور برطانوی ثقافت کے واضح اثرات نظر آتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کے بعد بدھ مت کے پیرو دوسرے نمبر ہیں۔ اس کے بعد ہندو اور دیگر مذاہب کے ماننے والے۔ یہاں تمام مذاہب کے پیروکاریکساں آزادی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ مساجد کے ساتھ ساتھ گرجا گھر اور مندر بھی جابجا نظر آتے ہیں۔

یہ پام آئل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل انتہائی کم قیمت میں ہرجگہ دستیاب ہے۔ اعلیٰ معیار کے کوکنگ آئل کی قیمت صرف ڈھائی رنگٹ فی کلو ہے۔ یہاں بارش کثرت سے ہوتی ہے اور مزے کی بات یہ کہ روزانہ آپ تین موسم سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ صبح موسم ابر آلود، تو دن میں گرمی کا احساس اور شام میں رم جھم بارش.... !!

یہاں کی مساجد اپنی خوب صورتی اور حسنِ انتظام میں اپنی مثال آپ ہیں۔ مبہوت کردینے والے حسن کے ساتھ، زمین کی دلہن بنی یہ مساجد، دور سے ہی ناظرین کی توجہ کھینچ لیتی ہیں۔ تمام مساجد حکومت کے زیرِ انتظام ہیں۔ امامِ مسجد کو سرکاری آفیسر کی حیثیت حاصل ہے۔ تمام مساجد کا معیار اور نظام یکساں ہیں۔ نمازِ مغرب کے بعد روزانہ کی بنیاد پر عوام الناس کی تربیت کےلیے مختلف کلاسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ شان دار مساجد کے علاوہ تمام عوامی مقامات پر نماز کی جگہیں مختص ہیں۔ آپ کہیں بھی ہو، وقتِ مقررہ پر باآسانی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ ان مقامات کو مقامی زبان میں "سوراو " کہا جاتا ہے .

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں واقع " پیٹروناس ٹوئن ٹاور "سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ سیاحت کے لیے پرکشش ملک "ملائیشیا" کی مثالی ترقی میں، مہاتیر محمد کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ خواب دیکھنے اور اس کو تعبیر دینے کی ہمت رکھنے والا قائد ہی قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ وژن رکھنے والے، مضبوط کردار کے رہنما ملک و قوم کی تعمیر کیا کرتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ مسلم دنیا نے اپنی اپنی آنکھیں مظلوم بھائیوں سے پھیر رکھی ہیں، ملائی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کی اشک شوئی کر کے فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔

Comments

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر کا آبائی تعلق برما کے مسلم اکثریتی صوبے اراکان سے ہے۔ ان کے آبا و اجداد نے 70ء کی دہائی میں اراکان سے کراچی ہجرت کی، جہاں آپ پیدا ہوئیں اور تعلیم حاصل کی۔ آپ کا تعلق شعبہ تدریس و طب سے ہے۔ آجکل ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ ایک کالم نگار اور معلمہ ہیں اور اراکان کے موجودہ حالات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */