عمر عبداللہ! تیرے عشق کے نصیب - سائرہ ممتاز

منزلوں کے راستے سیدھے ہوں تو زمین قدموں کو گھسیٹتی نہیں بلکہ خود سمٹ سمٹ کر فاصلہ دوگام کرتی جاتی ہے. راہی روہی راستہ، رستگاری، ہشیاری سب عدم سے معدوم اور معدوم سے معلوم کی منزلیں قرار پاتی ہیں. ڈوب ڈوب کر ابھرنے والے تیرنا سیکھ جاتے ہیں اور درد کو دوائے دل بنانے والے عطار بن جاتے ہیں.

عمر عبداللہ کی آنکھوں میں وقت کی دھول تھی جو ندامت کے عرق میں دھل دھل کر بہتی جاتی تھی اور پھر شہر یار کی خوشبو اپنے منبع سے نکل کر اس کے وجود سے لپٹ لپٹ کر پھیل رہی تھی. اس کے پاس صبر کی پوٹلی تھی، حوصلے کا زاد راہ تھا، رقص بسمل کی دعا تھی، عشق اترا تھا، روح گھائل ہوئی تھی، وجد میں وجود تھا، وجود میں دھمال تھی، آنکھوں کی روشنی راستہ دکھاتی تھی اور وہ سڑک اس کے قدموں تلے بھاگی جاتی تھی، یوں جیسے قرنوں کا فاصلہ منٹوں میں طے کروانا چاہتی ہو. یہ حجاز کے ریگزار کے دن تھے! ریگزار جو عشق سے منسوب ہے اور عشق جس کا ہجر عین ریگستانی دوپہروں جیسی تاثیر رکھتا ہے اور جس کے وصل کی رات میں صحرا کی چاندنی جیسی ٹھنڈک پائی جاتی ہے. عمر عبداللہ کے دن بھی ریگزار تھے. ابھی ہجر کے دن تھے جو اسے کاٹنے تھے. ہر لمحہ جب قدموں تلے ریت سرسراتی تو لمحے کی ہر آہٹ پر اسے پچھلی گزاری زندگی یاد آتی. لب و رخسار کا تذکرہ ہوتا یا کاکلِ پیچدار کے خم ہوتے. سفر تو آنکھوں کی سیاہی بھری مدہوشی سے شروع ہوا تھا، اور وہاں سے گزرتا کشادہ پیشانی پر عرق ندامت کے قطروں پر جا رکا، اس دوران کیا کیا لمحے آئے اور گزر گئے تھے. وہ لمحہ بھی جب ہاتھ کی دسترس میں ہونے کے باوجود دست مسیحائی سے بدن کوسوں دور رہا اور وہ بھی جب تیرہ شبوں کی دل جلاتی تنہائی کاٹ کھانے کو دوڑتی رہی. ایک طرف رخ یار کے انوار تھے تو دوسری جانب دنیا کے دھکڑ دھوڑے اور جینے کی واحد وجہ بس اس وجودِ بےثبات کا اثبات تھا. قسمت کی ٹھوکریں اسے ذلت و رسوائی کی جس گہری عمیق کھائی میں گراتیں، وہ گیسو دراز شب عنبریں کی وارث خوشبو والی پرچھائیں اسے وہاں سے نکال کر لے جاتی اور وہ جیتا رہا. قطرہ قطرہ پگھل کر جینا بھی ایک الگ جینا ہے، مر مر کر زندہ رہنا بھی ایک فن ہے اور واحد یہی فن ہے جس کی وراثت منتقل نہیں کی جا سکتی، نہ ہی منتقل ہوتی ہے. یہ تو اپنے وارث کے سینے میں دفن ہو کر اس کے ساتھ ہی اس دنیا سے رخصت ہو لیتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   محبت کی تاریخ - صائمہ راحت

رفتہ رفتہ ہستی کا سامان بدلتا گیا اور عمر عبداللہ وہ نہیں رہا، جسے عمر عبداللہ کہنا چاہیے وہ تو نہ ہونے جیسا ہونا رہ گیا تھا. سفر طے کرتے کرتے آبلہ پائی نے دامن تھام لیا تھا. وہ وہاں سے چلا تھا جہاں عدم سے وجود ابھرتا ہے اور اسے وہاں جانا تھا جہاں وجود سے عدم وجود پیدا ہوتا ہے. وہ جا رہا تھا، وہاں جہاں پہنچ کر اپنے فرض اور فن میں یکتائے روزگار کے پر بھی جلنے لگتے ہیں. وہ کچھ نہیں تھا وہ عبداللہ بھی نہیں تھا! اگر کچھ تھا تو بس لو دیتے دیے کی روشنی تھی جو اندر سے کلیجہ کاٹ کاٹ کر کھائے جاتی تھی، اور آس تھی، درشن کی پیاس تھی جو کہتی جاتی تھی، جس کے بغیر سانس لینا محال تھا، اس راحت قلب و جاں کا پیکر بدل چکا تھا. کاکل ِ پیچاں اب واللیل کی زلفوں کے اسیر تھے، کیا قید تھی کیا رہائی ہے..!

عمر عبداللہ نے عمر کے صلے میں نقد کا حساب لگایا تو سود در سود منافع نظر آتا تھا. کبھی زلفوں کی چھاؤں تلے چہرہ چھپانے کا من کرتا تھا. خیال یار کی روشنی پھیلتی تو ہر جا جگنو چمکنے لگتے تھے. آج وہی دل چاہتا تھا کہ جس کی یاد میں یہ سینہ جل رہا ہے وہ واللیل پڑھ پڑھ کے اپنے گیسو بکھیرا کرے اور انھیں سنوارنے کا اذن نصیب ہو. کیا محبت تھی کیا سودائی ہے....!

حجاز کے تپتے صحرا میں وہ پاؤں پاؤں چل رہا تھا، گویا چلنا سیکھ رہا تھا. محبت کے پنگھوڑے سے نکل کر ابھی ابھی پاؤں پر چلنا شروع کیا تھا کہ زمین تپتا رہگزار بن گئی اور آسمان شعلے اگلنے لگا تھا. سینہ خزینہ بنانے کی چاہ لگ گئی تھی.. جہاں چاہ ہو وہیں راہ ہوتی ہے تو عمر عبداللہ نے راہ پر چلنا شروع کردیا تھا.. اُس کا چہرہ ماہتاب تھا، ادھر والضحی پر سحاب تھا. وہ دل میں اترتی تھی تو بس لے ڈوبتی تھی.. یہاں وہ دل پر اترے تو ہاتھ پکڑ لیا تھا، پہلو میں بٹھا لیا گیا، ہائے نصیب واہ رے قسمت! اد بدا کر پہلو سے اٹھ جانا حد درجہ بد نصیبی ٹہرنی تھی، کیا کرے عبداللہ... سیاہ کاریوں نے تو دل پر اتنے کچوکے لگائے تھے کہ ہاتھ اس معطر و مطہر کے پاپوش کو چھونے سے انکاری تھے، کہاں نصیبا ایسا چمکا کہ بلاوا بھیج دیا گیا. وہ دل جلا اٹھا اور شمع کی لو پر ننگے پاؤں دوڑتا دوڑتا کوئے یار کی جانب ہو لیا. راستے کی مصیبتیں تھیں کہ ٹھوکر لگائے جاتیں اور جذبہ دل تھا کہ آگے بڑھائے جاتا.. بہت سے ماہ و سال یونہی چلتے دوڑتے ہانپتے بیت چلے تھے، پھر پاؤں کی مسافت تلے حجاز کا صحرا آ گیا، جس نے آبلہ پائی کی لذت سے عمر عبداللہ کو آشنا کروایا. ایک وہ زخم سوہان روح تھے جہاں مرہم کی سیرابی گناہ بےمزہ تھی، ایک یہ آبلہ پائی تھی جو کہتی تھی کہ سر کے بل چلنا پڑے تو چلتے جاؤ. یونہی صحرائے عرب پر چلتے چلتے ایک دن نظر ایک کنویں پر پڑی، معلوم ہوا گنجینہ اسرار شہر ِمدینہ، جس کی خاک عاشقوں کی آنکھ کا سرمہ ہوتی ہے، قریب ہے. عشق کو پر لگ گئے تھے. روح کی پرواز شہباز ِمنتہی جبریل امین کے پروں پر نثار ہوئی جاتی تھی. دھڑکنیں پاؤں کے تلوں سے لے کر کنپٹیوں تک دھمال ڈالتی تھیں.. عمر عبداللہ قریب ہوا.. کنویں سے پانی بھرا، ایک گھونٹ حلق میں اتارا. جسم کے ہر ریشے سے، روح کے ہر تار سے تو کجا من کجا کی صدائیں بلند ہوئیں. آنکھوں سے عرق انفعال گرنے لگا، عشق وضو کرنے لگا. اس پانی میں کیا تھا عبداللہ؟ پاس کھڑے کسی دیوانے نے صدا دی.
اس پانی میں وہ آبِ شیریں تھا جو سرتاج اولیاء کے بدن کی خوراک تھی. اس میں والی حجاز کے دہن مقدس سے نکلا آب زم زم تھا، اس میں گلاب کے عطر کی خوشبو تھی.
ایسا وصال پھر کہیں نہیں ہوگا، عمر عبداللہ تیرے عشق کے نصیب!
عمر عبداللہ یہ کہنے میں حق بجانب ہوا
تو کجا من کجا تو کجا من کجا.

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.