کیا ہر ضعیف روایت ”جھوٹ“ ہوتی ہے؟ ابوبکر قدوسی

اگلے روز ایک صاحب، جو علمی دنیا میں تو کوئی مقام نہیں رکھتے لیکن سوشل میڈیا میں کچھ جانے جاتے ہیں، کا امام ابن تیمیہ کے بارے میں عجیب و غریب مؤقف سامنے آیا. انھوں نے اپنے ”مقام“ کے عین مطابق امام کے بارے کافی بد زبانی کی. ظاہر ہے مبلغ علم جتنا ہوگا بندہ اسی کے مطابق بات کرے گا. سو اس حوالے سے تو کسی سے کوئی شکوہ نہیں، البتہ ایک فکر دامن گیر رہتی ہے کہ ہمارے معصوم لوگ ایسے ”صاحبان علم“ کی چرب زبان اور ”کتاب نمبر فلاں ، باب نمبر فلاں ، حدیث نمبر فلاں“ جیسے تکنیک سے متاثر ہو جاتے ہیں.

اسی طرح دوسرا معاملہ ہے کہ عامۃ الناس کی ایسی استعداد نہیں ہوتی کہ ایسے اعتماد سے بولے گئے جھوٹ پر شک کا اظہار کر کے ان کی بات کی سچائی کو جانچ سکیں، سو بہت سے بھائی ان کے دام تزویر کا شکار ہو جاتے ہیں. کچھ مصیبت یہ بھی رہتی ہے کہ ہمارے ہاں اب علم کا اظہار اداکاری کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو اچھی گفتگو کرے گا، اداکاری عمدہ کرے گا، زبان و بیان کا ماہر ہوگا، وہ اپنا رنگ جما جائے گا. ان سب پر مستزاد ہمارے معاشرے کا کچا پن کہ یہاں بہت”گنجائش“ موجود رہتی ہے. جہاں مرزا غلام قادیانی نبوت کا دعوی کرے اور اس کو لاکھوں ”امتی“ مل جائیں، جہاں ایک ناکام وکیل خود کو شیخ الاسلام کہے اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے لاکھوں ہو جائیں اور اربوں روپے اس پر نچھاور کر دیں، تو یہ تو معمولی سا کیس ہے.

ان صاحب نے امام ابن تیمیہ کی کتاب ”الصارم المسلول“ کے بارے میں کہا کہ :
”انتہائی علمی کمزوریاں اس کتاب میں موجود ہیں، جھوٹی روایتیں اس کتاب میں موجود ہیں، بڑے بڑے بلنڈر اس کتاب کے اندر کیے ہیں، بالکل بے شرمی کے ساتھ.“
اندازہ کیجیے کہ جو بندہ امام کی کتاب اصل عربی میں پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ بھی امام کو ”بےشرم“ کہہ رہا ہے، لیکن شرم سے خود محروم ہے کہ جھوٹ بولتے ہوئے اپنے لیکچر میں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کا مصداق بنا بیٹھا ہے. اب ایک جذباتی ماحول بنا کے، حقیقت کو چھپا کے، ضعیف راویات کا شور مچا کے اصل بات کو چھپایا جا رہا ہے.

اب مصیبت یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان کو سن کر یہی سمجھیں گے کہ یہ صاحب سچ بول رہے ہیں اور امام کی کتاب میں ”جھوٹی“ روایت درج ہوں گی اور جن سے امام نے استدلال کیا ہوگا. دھوکہ یہ دیا جاتا ہے کہ ضعیف راویات کو بھی جھوٹ کہہ کے سادہ لوح عوام کو پاگل بنایا جاتا ہے.

مختصرا میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہر ضعیف روایت جھوٹ نہیں ہوتی. روایت کے ضعیف ہونے کی ایک سے زیادہ وجوہ ہوتی ہیں. تفصیل کا محل نہیں، لیکن اختصار سے سمجھیے:
حدیث کے سسلہ سند میں بعض راوی ایسے ہوتے ہیں کہ جو جھوٹ بولتے ہیں، یا جھوٹ کے مرتکب رہ چکے ہوتے ہیں ، تو ان کی روایت محدثین کے ہاں ناقابل قبول ہوگی اور اس کو موضوع یعنی جھوٹ کہا جائے گا. اسی طرح ایسے راوی جو نیک ہیں، پارسا ہیں، لیکن حافظہ کمزور ہے کبھی یا بار بار بھول جاتے ہیں تو بہت سارے محدثین کا طریق ہے کہ ایسے راویوں کی روایت فضائل اعمال کے ضمن میں قبول کر لی جائے گی مگر، احکام حلال و حرام میں ان کی حدیث قبول نہیں کی جائے گی. البتہ بعض ائمہ حلال و حرام میں بھی ایسی روایت کو کچھ نہ کچھ اہمیت دیتے تھے (یعنی اپنے قیاس و رائے پر ترجیح دیتے تھے)، وہ بھی اس صورت میں جب ایسی روایت کے مخالف قرآن و حدیث کی کوئی واضح نص نہ ہو، قول صحابی یا اجماع امت نہ ہو. اگرچہ روایت کے ضعف کے ان کے علاوہ بھی اسباب ہیں لیکن ان کا ذکر پھر کبھی سہی.

اب مختصر دیکھتے ہیں کہ دوسرے ائمہ کرام کا ضعیف حدیث بارے کیا طرز عمل رہا ہے. امام احمد کو جب صحیح حدیث نہ ملتی، اور قول صحابی بھی نہ ملتا تو وہ ضعیف حدیث کو قیاس پر ترجیح دیتے. البتہ اس بات کو مدنظر رکھتے کہ ایسی حدیث کے راوی کی عدالت مجروح نہ ہو یعنی وہ جھوٹا اور کذاب نہ ہو. ائمہ کرام بہت بار صحیح روایت سے استدلال کرتے ہوئے ایک معاملے پر بحث کرتے ہیں. اور پھر دلائل میں تقویت کے واسطے ضعیف روایت کو بھی لے آتے ہیں. اور ان ضعیف روایات کی حیثیت محض صحیح روایت کی تائید کی ہوتی ہے. وجہ وہی کہ ہر ضعیف روایت اپنی کمزوری کے باوجود ”جھوٹ“ نہیں ہوتی اور اس میں کچھ امکان صحت بہرحال ہوتا ہے، یعنی اس کے صحیح ہونے کا ہر دم احتمال رہتا ہے جب راوی کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی عدالت مجروح نہ ہو یعنی جھوٹا ہو نہ کذاب، محض حافظے کا کمزور ہو.

تکرار کا مقصد آپ کو بات سمجھانا ہے.
ہمارے ائمہ کے نزدیک ضعیف روایت کو صحیح کی تائید میں درج کرنا معمول کی بات تھی، کوئی اجنبی رویہ نہ تھا، سو بہت سی کتب میں ایسی روایت مل جائیں گی. خود امام بخاری نے الجامع الصحیح جب مرتب کی، تب صحت کا خاص خیال رکھا لیکن اپنی دوسری کتاب الادب المفرد میں صحت کا اس درجہ اہتمام نہ کیا. اسی طرح احادیث کی دوسری کتب میں بھی ضعیف روایات پائی جاتی ہیں. امام ابو داؤد نے اپنی کتاب سنن میں ضعیف روایات درج بھی کیں اور ان کے ضعف کا سبب بھی درج کر دیا، اور ان پر کلام بھی نہ کیا. محدثین نے اس عمل کی توضیح کی کہ امام صاحب کے نزدیک یہ قابل استدلال ہیں کیونکہ ان کے مخالف کوئی صحیح حدیث نہیں ہے (النکت لابن حجر). قصہ مختصر اس طرح کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں.

اب بات شاتم رسول کی سزا بارے میں ہو جائے. اگر امام ابن تیمیہ سنن نسائی کی صحیح روایت اور بہت سی دیگر صحیح روایات کی بنا پر شتم رسول کی سزا بارے ایک حکم قائم کرتے ہیں اور بعد میں بحث کے دوران ضعیف روایت لے کر آتے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے؟

ہم جانتے ہیں کہ موصوف کو اس اصول کا اچھی طرح معلوم ہے لیکن خود جھوٹ کا شکار ہوئے، علمائے یہود کی طرح حق کو چھپا گئے. لیکن اللہ کے فیصلے عجیب ہیں کہ صاحب کا اپنا ایک پمفلٹ چھپا ہے، ہمارے فاضل دوست حافظ طاہر سلفی صاحب نے خود ان کا اپنا ضعیف رویات کو اس کا حصہ بنانا دکھا دیا ہے.
کیا ہم بھی ان کو کہہ سکتے ہیں کہ حضرت آپ تو حقیقی بے شرم ہوئے کہ موقف کچھ، عمل کچھ اور.
.....
** تفصیل کے طالب، اعلام الموقعین ابن قیم، امام محمد گوندلوی کی کتاب الصلاح، ابن حجر کی النکت دیکھ سکتے ہیں.