عقل مند کون؟ محمد فیصل شہزاد

بس کا بڑا اور بنیادی فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیں تھوڑے سے کرائے میں منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہے، تاہم اس کے کچھ ذیلی فوائد بھی ہیں، جنھیں بہرطور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا. مثال کے طور پر فقیروں اور بھکاریوں کی مستقل آمدورفت، صدقہ و خیرات کے فریضے کی ادائی کے مواقع فراہم کرتی ہے. گنڈیریوں، تل کے لڈوؤں سے چائنیز آئٹموں، قبض کشا پھکیوں، نورِ بصر سرموں، ہڈی جوڑ کے دردوں کو رفع بلکہ رفو چکر کر دینے والے تیلوں، مکے مدینے اور فرانس کی خوشبوؤں وغیرہ کی ’شاپنگ‘ خاطر خواہ کی جا سکتی ہے. جبکہ ایک اور فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت اور دیگر موضوعات پر سیر حاصل گفتگوئیں اور ’علم افزا ‘مباحثے بھی سننے کو ملتے ہیں، جن میں ایسی ایسی نکتہ آفرینیاں کی جاتی ہیں کہ کب کسی ایسے ویسے کے حاشیۂ خیال میں بھی آتی ہوں گی.

کراچی میں چند برس پہلے تک بڑی تعداد میں مسافر بسیں چلتی تھیں. بعض روٹوں پر تو چوبیس چوبیس گھنٹے دستیاب ہوتی تھیں مگر ان میں سے بہت سی اچانک ہی نجانے کہاں اڑن چھو ہو گئیں. اکثر روٹ تو بند ہی ہو گئے. معدودے چند پر گنتی کی بسیں رہ گئی ہیں. بےبس شہریوں کی پریشانی کے ذکر کا تو یہ محل نہیں، ایک چھوٹا سا دلچسپ واقعہ ضرور سن لیجیے:
ابھی دو چار روز پہلے ہمیں بس سے سفر کا اتفاق ہوا، دوپہر تھی اس لیے مسافر کم تھے۔ بہت سی نشستیں خالی پڑی تھیں، ہم سے اگلی نشست پر دو نوجوان فروکش تھے، ان کی باتوں سے معلوم ہوا کہ ایک تو کراچی ہی کا رہائشی ہے اور دوسرا کسی گاؤں سے آیا ہوا اس کا عزیز…!
نجانے کیا ہوا کہ دونوں میں اس بات پر تندو تیز بحث چھڑ گئی کہ شہر کے رہنے والے عقل مند اور ہوشیار ہوتے ہیں جبکہ گاؤں، دیہات کے باسی سیدھے سادے اور تقریباً بے وقوف.
بحث پورے عروج پر تھی. دونوں اپنی اپنی بات پر اڑے ہوئے تھے اور اپنے اپنے مؤقف کی حمایت میں دلائل دے رہے تھے۔ تبھی اچانک دیہاتی نوجوان نے کہا:
’’اچھا. میری ایک بات ذرا غور سے سن لو، پھر تم خود فیصلہ کرنا کہ کون عقل مند ہوتا ہے اور کون بےوقوف؟‘‘
’’ٹھیک ہے سناؤ…!‘‘
شہری نوجوان بولا، آس پاس بیٹھے سارے مسافر بھی جو دلچسپی سے اس بحث سے لطف اندوز ہو رہے تھے، ہمہ تن گوش ہوگئے۔
دیہاتی نوجوان نے کہا:
’’شہر میں ایک شخص جعلی کرنسی نوٹ چھاپتا تھا، ایک روز غلطی سے اس نے 30 روپے کا نوٹ چھاپ دیا. اب وہ پریشان تھا کہ ان نوٹوں کا کرے تو کیا کرے. کسی نے مشورہ دیا کہ یہ نوٹ گاؤں میں جا کر چلاؤ، وہاں کے لوگ سیدھے سادے ہوتے ہیں، لے لیں گے۔
جعل ساز کو یہ مشورہ بہت بھایا، وہ بہت سارے نوٹ لے کر ایک دوردراز کے گاؤں پہنچ گیا۔ ایک جگہ دیکھا کہ مٹی سے بنی چھوٹی سی ایک دکان ہے جس میں لالٹین جل رہی ہے. اندر ایک بوڑھا شخص جس کی ناک پر موٹے عدسوں والی عینک دھری ہے، بیٹھا اونگھ رہا ہے۔
’’آسان شکار‘‘ دیکھ کر جعل ساز کی بانچھیں کھل گئیں. فوراً آگے بڑھا اور 30 روپے کا جعلی نوٹ دکان دار کو دے کر کھلّا طلب کیا۔
دکان دار نے نوٹ کو لالٹین کے قریب کر کے گہری نگاہ اس پر ڈالی، کاہلی کے انداز میں اٹھا. عقب میں جھولتا ٹاٹ کا پردہ ایک طرف کر کے ملحقہ کوٹھری میں گیا اور پندرہ پندرہ روپے مالیت کے دو نوٹ لا کر جعل ساز کے حوالے کر دیے!‘‘

یہ بھی پڑھیں:   فیس بکیوں کو دوبارہ نارمل انسان کیسے بنایا جائے؟ ریحان اصغر سید

نوجوان نے بات ختم کی تو بس میں ایک لمحے کے لیے سکوت طاری ہوا اور پھر دونوں نوجوانوں کا ہی نہیں، سب سننے والوں کا مشترکہ قہقہہ بس میں گونج اٹھا…
ظاہرہے دیہاتی نوجوان نے جو کچھ سنایا، وہ کوئی سچا واقعہ نہیں ، تفنن طبع کے لیے گھڑا گیا ایک لطیفہ تھا، اور شکر ہے کہ اس لایعنی بحث کا خاتمہ خوش گوار انداز میں ہو گیا، مگر سوال یہ بھی ہے کہ اس طرح کے بحث مباحثے کی ضرورت پیش ہی کیوں آتی ہے؟ فیس بک پر اس طرح کے مباحثوں کا اب عام چلن ہو گیا ہے.

کیا اپنے آپ کو عقل مند، ہوشیار اور دوسروں کو بے وقوف سمجھنا کوئی پسندیدہ بات ہو سکتی ہے؟ یہ تو کھلے تکبر کی علامت ہے جو اللہ ربّ العزت کو سخت ناپسند ہے. اللہ تعالیٰ ہم سب کو تکبر سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!