مضطر دلوں کو کہاں سکون ملتا ہے – شاکراللہ چترالی

دنیا جس سرعت سے جتنی مادّ ی ترقی کرتی جا رہی ہے اتنا ہی حضرت ِانسان بے اطمینانی اور بے سکونی کی عفریت کے چنگل میں بری طرح جکڑتا جا رہا ہے. رہائی کی ہر تدبیر بےسود اور مقابلے میں ہر ہتھیار ناکارہ نظر آرہا ہے۔ منچلوں نے موسیقی وغیرہ کو علاج بتایا، صد افسوس کہ اس کی ترقی نے اخلاقیات کی ہر حد کو پار تو کیا مگر فائدہ کے بجائے الٹا شہوت کی بھوک کو اور بڑھا دیا، جس سے حالات اور گھمبیر ہوگئے، اور ایسے ایسے روح فرسا حادثات ظہور پذیر ہوئے کہ جن کے تصوّر سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ پھر مختلف النوع کھیلوں کا نسخہ آزمایا گیا لیکن اب وہ تفریح کم کاروبار زیادہ بن گئے، ساتھ جوا بازی اور سیاست کا عنصرشامل ہوگیا، اب کھیلوں کی طرف تفریح کے طور پر آنے والے کم ہی رہ گئے، طالع آزما اور کاروباری زیادہ آتے ہیں. مادّہ پرست مزاجوں نے رخ ہی موڑ دیا اور بہتوں نے مادّی اسباب اور دنیاوی سامان میں سکون نظریہ پیش کیا. اس جستجو میں جت کر وہ کوہلو کے بیل تو بن گئے مگر مراد یہاں بھی بر نہ آئی، نتیجتا خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ الجھن اس لیے بھی بڑھ گئی کہ جب تدبیر آزمائی شروع ہوئی تو مسئلہ عملی بےراہ روی کا نہ رہا بلکہ علم غلط ہوگیا، جب علم غلط ہو جاتا ہے، تب ہدایت کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔

یہاں ناکامی کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے بس وہی عام سی بات ہے کہ’’ کسی بھی کامیاب علاج کے لیے درست تشخیص اوّلین شرط ہے، درست تشخیص نہ ہو تو کامیابی ناممکن ہے‘‘ یہاں بیماری تو معلوم تھی اور ہے، البتہ مسئلہ سبب اور علّت کا بن رہا تھا. یہ تو بالقین نہیں کہا جاسکتا کہ اصل علّت کا کسی کو پتہ نہیں چل رہا ہے، ہاں اتنی بات ضرور کی جا سکتی ہے کہ جان بوجھ کر اس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس سےعمداً اغماض برتا جا رہا ہے۔

یہاں بجا طور پر یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جب اصل علّت معلوم ہے اور یہ حقیقت بھی مسلّم ہے کہ اس کو نظر انداز کرکے کامیابی نہیں مل سکتی ہے تو اس کو نظر انداز کیوں کیا جائے گا؟ خصوصاًجب تو انائیاں خرچ بھی کی جا رہی ہیں اور تحقیق کا عمل مسلسل جاری ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اصل علّت کو سائنسی طور پر تسلیم کیا جائے، پھر اس کے علاج کا جو طریقہ رائج اور مجرّب ہے، اس کا بھی اعتراف ہو تو اس کے جو نتائج نکل سکتے ہیں، وہ یار لوگوں کو گوارا نہیں، اس لیے یہ ساری چکربازیاں اور چالاکیاں ہیں۔

اس پر کیا دلیل ہے؟ اس پر عقلی دلیل تو نہیں دی جا سکتی ہے کہ یہ اس نوع کی چیز نہیں ہے، ہاں خودان لوگوں کا عمل یا قول پیش کیا جا سکتا ہے، لہذا ایک حوالہ پیشِ خدمت ہے: ترکی کے Dr.AlI Demirsoy خلوی رنگتوں (Cytochromec) کے بارے میں اپنی کتاب ’’Kalitim ve Evrim‘‘ میں لکھتے ہیں: ایک Cytochrom-g کےترتیب کے ساتھ متشکل ہونے کا امکان صفر کے برابر ہے. اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر زندگی کو خاص نظم و ترتیب کی ضرورت ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ پوری کائنات میں صرف ایک بار اس کے حصول کا امکان ہے وگرنہ کچھ مابعد الطبعیاتی قوتیں ایسی ہیں جن کی تشریح ہمارے بس میں نہیں، جنہوں نے اس کو متشکل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ مؤخر الذکر کو تسلیم کرنا سائنسی اہداف کے لیے موزوں نہیں اس لیے ہمیں پہلے مفروضےکی طرف دیکھنا ہوگا۔ (بحوالہ ہارون یحی)

آپ نے دیکھا؟ ڈاکٹر صاحب مابعد الطبعیاتی قوتوں کو تسلیم کر کے پھر سائنسی اہداف کے لیے غیر موزونیت کا بہانہ گھڑ کر ان کا انکار کرگئے۔ ’’مابعد الطبعیاتی قوتیں‘‘ وہی ہیں جن کو ہم اہل ِاسلام ’’اللہ تعالی اور اس کی قدرت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور ’’سائنسی اہداف‘‘ سے مراد ان کے ’’سیکولر نظریات‘‘ ہیں، اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ اگر وہ اپنی اس تحقیق کو تسلیم کرتے ہیں تو ان کو ’’سیکولر نظریات‘‘سے دستبردار ہو کر خالق، تخلیق اور مذہب کو ماننا پڑتا۔ یہی وہ غیر موزوں بات ہے جس سے جان بوجھ کر اغماض برتا جا رہا ہے۔

بعینہ یہی مسئلہ بےسکونی اور بےاطمینانی کا ہے. اس کی بنیادی وجہ جسم اور نفس کو پال کر موٹا اور مضبوط کرنا اور روح کے تقاضوں کو پامال کرکے اس کو کمزور کرنا ہے، اصل میں جسم سواری ہے اور روح اس کا سوارہے. اب سواری مضبوط اور سوار کمزور ہو تو لازمی سی بات ہے کہ سواری سرکشی کرے گی، سوار اس کو قابو نہیں کر پائے گا، نتیجتا پریشان ہوگا، تڑپےگا اور چیخےگا چلّائے گا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مادّی اور سائنسی ترقی ہی اس صورتحال کی ذمّہ دار ہے، خصوصاً جب روح اور اس کے تقاضوں کو نظرانداز کرکے مادّی ترقی کے پیچھے لگا جائے۔

اب یہ بات ہوگئی کہ بے سکونی کی وجہ روح کی کمزوری اور زبوں حالی ہے، اور ظاہر ہے اس کا علاج اسی روح کو مضبوط کرنا ہے تاکہ وہ اپنی منہ زور سواری کو لگام دے سکے، لیکن پھر سوال پیدا ہوگا کہ روح مضبوط کیسے ہو؟ اور روح کے تقاضے کیا ہیں؟

جواب مختصر لفظوں میں تو یہ ہے کہ جس طرح ہر چیز کی نشوونما اس کے مناسب غذا سے ہوتی ہے اسی طرح روح کی نشوونما اور مضبوطی اس کے مناسب غذا سے ہوگی، اور چونکہ روح اوپر عالم بالا سے آئی ہے تو اس کی مناسب غذا بھی وہی ہوگی جو وہیں سے آئی ہو اور وہاں سے ’’دین ِاسلام‘‘ آیا ہے ، لہذا یہی اس کی دوا اور یہی اس کی غذا ہے۔ پھر جس طرح کچھ چیزیں جسمانی صحت کے لیے مضر اور نقصان دہ ہیں جن سے پرہیز کرناجسمانی صحت کے لیے ضروری ہے، حفظان ِصحت کے اصولوں کی روشنی میں ان کی لمبی چوڑی فہرست تیار کی جا سکتی ہے، اور بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کو بطورِغذا یا دوا کے اختیار کرنا پڑتا ہے، اسی طرح روحانی صحت کی خاطر بعض امور کو ترک کرنا پڑتا ہے جن کو محرّمات کہتے ہیں اور ساتھ فرائض، سنن اور نوافل کی صورت میں بہت سے امور کو روح کی غذا یا دوا کی حیثیت سے اختیار کرنا نہایت اہم ہے، اس کے بغیر کوئی چارۂ کارہ نہیں ہے، رہی بات نفس کی وہ تو جس طرح ڈاکٹر کی بتائی ہوئی پابندیوں سے گھبراتا ہے، یہاں بھی چیخے گا، اس کی کوئی بات نہیں بہار ہو کہ خزان اس کا یہی کام ہے۔

پھر مثل ادویات کے کہ ہر ایک کی جداگانہ تاثیر ہوتی ہے اور کوئی جلدی اور زیادہ اثر کرتی ہے اور کوئی کم اور دیر سے اثر کرتی ہے. شرعیات بھی اسی طرح ہیں، چنانچہ ان میں سے ذکر کی تاثیر ’’بے سکونی کو ختم کرکے قلوب کو اطمینان بخشنا‘‘ ہے. یہ اس کی خاص تاثیر ہے، اس حوالے سے ذکر سرعت رفتار بھی ہے اور کیوں نہ ہو ؟جب کوئی ڈاکٹر نہیں بلکہ خود انسان کو بنا نے والے کریم ربّ فرما رہے ہیں : سنو! اللہ کی یاد سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔ (سورۃ الرعد)

یہ اپنی جگہ حقیقت سہی کہ ذکر بہرصورت جہراً ہو کہ سرّاً، حضوری کے ساتھ ہو یا بغیر حضوری کے، اور کسی شیخ کی ہدایت کے مطابق ہو یا اپنے طور پر مفید اورمؤثر ہے، لیکن جس طرح ڈاکٹر کا تجویز کردہ نسخہ خودساختہ نسخوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر، زود اثر اور نسبتاًخطرات سے پاک ہوتا ہے، بالکل اسی طرح علاجِ باطن، تزکیۂ نفس اور روحانی ترقی کے لیے کسی مرشد کامل کا بتایا ہوا نسخہ ہی زیادہ کارگر ہوگا۔

دوسری با ت یہ ہے کہ یہاں انسان کا کھلا دشمن شیطان جب اپنے شکار کو ہاتھوں سے نکلتا دیکھتا ہے تو اپنا کام کرتا ہے. اوّلا ًدوران ِذکر وساوس اور خطرات ڈال کر انسان کو بددل کرنے کی کوشش کرتا ہے، یوں انسان پھر پیچھے ہٹ جاتا ہے، یہ شیطان کا نسبتاً ہلکا وار ہوتا ہے، اور اگر ہمت کرکے انسان ڈٹ جاتا ہے تو پھر انسان کو خودبینی اور خوش فہمی میں مبتلا کر کے اس کے ساتھ وہ کھیل کھیلتا ہے کہ الامان والحفیظ. پھر انسان ضلالت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرتا ہے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ خود اختیارکردہ جسمانی علاج سے کہیں زیادہ مضر ہے، یوں شیخ کی ضرورت بھی ڈاکٹر کے بنسبت زیاد ہ ہوگی۔

تیسری بات یہ ہے کہ جسمانی علاج میں ڈاکٹر کی اہمیت بیماری کی درست تشخیص اور ادویات کی مناسب تجویز کی حد تک ہے اور بس، آگے کام ادویات ہی نے کرنا ہے، لیکن روحانی علاج میں خود معالج کی ذات بھی سبب ِمؤثر ہے، یعنی اس کی صحبت باعث ِرحمت اور اس کی نظر کیمیا اثر ہے، چنانچہ صحابہ کرام کو جو کچھ ملا صحبت کی برکت سے ملا. قریب کے مشائخ میں حضرت عبد القادر رائے پوری کا معمول بھی یہی رہا ہے: اشغال کے بجائے صحبت سے ہی کام چلاتے تھے، دیگر حضرات بھی صحبت کو اشغال پر فوقیت دیتے ہیں۔
نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

خود قرآن پاک میں نہایت لطیف انداز میں اسی بات کی اشارہ موجود ہے:
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو۔(سورۃ التوبۃ)
تفسیر: سابقہ آیات میں جو واقعہ تخلف عن الجہاد کا بعض مخلصین سے پیش آیا، پھر ان کی توبہ قبول ہوئی، یہ سب نتیجہ ان کے تقوٰی اور خوف خدا کا تھا، اس لیے اس آیت میں عام مسلمانوں کو تقوٰی کے لیے ہدایت فرمائی گئی، اور اس طرف اشارہ فرمایا گیا کہ صفت تقوٰی حاصل ہونے کا طریقہ صالحین و صادقین کی صحبت اور عمل میں ان کی موافقت ہے. اس میں شاید یہ اشارہ بھی ہو کہ جن حضرات سے یہ لغزش ہوئی، اس میں منافقین کی صحبت، مجالست اور ان کے مشورہ کو بھی دخل تھا، اللہ کے نافرمانوں کی صحبت سے بچنا چاہیے اور صادقین کی صحبت اختیار کرنا چاہیے۔ (معارف القرآن)

Comments

FB Login Required

  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    عمدہ تحریر ہے۔
    ایک لفظ لکھا ہے کہ: “نوکروں” کا فطرانہ بھی دینا ہے، یہ محل نظر ہے؛ کیونکہ آج کل کے نوکر اور ماضی کے غلاموں میں زمین آسمان کا فرق ہے جو محترم جناب عادل سہیل ظفر صاحب سے یقینا مخفی نہیں ہے، شاید یہ “سبقت ٹائپنگ” ہے، اسے درست فرما لیا جائے تو بہتر ہوگا۔

Protected by WP Anti Spam