کینیڈین معاشرے کی چند خصوصیات - نیر تاباں

پاکستان، ہمارے لوگ، کھانے، کلچر، ہماری محفلوں کے رنگ و رونق، کینیڈا میں دس سال کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد بھی یہ چیزیں یاد آتی ہیں. اس کا ذکر کچھ دن پہلے ایک پوسٹ میں کیا تھا۔ دوسری طرف کچھ ایسی باتیں ہیں جو میں نے یہاں اچھی پائیں۔ بے فکر رہیں، دونوں ملکوں کا یا ان کی حکومتی پالیسیوں کا تقابلی جائزہ پیش کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ بس کچھ ایسی عادتوں کا ذکر کریں گے جو یہاں کے لوگوں میں پائی جاتی ہیں حالانکہ ہمارا دین ہمیں انہیں اپنانے کا کہتا ہے اور ہم ان سے کوسوں دور ہیں۔

- شروع شروع میں جب میں نے باہر نکلنا شروع کیا، جس سے بھی آئی کانٹیکٹ ہوتا، وہ مسکرا کر دیکھتا اور ہیلو، ہائے یا صبح کا وقت ہو تو گڈ مارننگ کہتا۔ مجھے رہ رہ کر خیال آتا تھا کہ مسکرانا تو ہمارے لیے صدقہ جاریہ ہے، سلام میں پہل کرنے کو تو ہمارا دین کہتا ہے لیکن ہم لوگ مسکراہٹ اور سلام اس طرح عام نہیں کرتے جیسا میں نے یہاں دیکھا۔

- وقت کی پابندی یہاں کے لوگوں کی خوبصورت ترین عادتوں میں سے ایک ہے۔ گوروں کا ڈنر کرو، چھ بجے بلاؤ‌، وہ چھ بج کر دس منٹ پر آپ کے گھر ہوں گے اور آتے ہی معذرت کریں گے کہ گھر ڈھونڈنے میں دو تین منٹ ضائع ہو گئے۔ ایک ہم ہیں کہ چھ بجے سے میزبان ٹنگا بیٹھا ہے لیکن ساڑھے سات، آٹھ سے پہلے کوئی منہ نہیں دکھائے گا۔ پہلے آنے کا نام نہیں لیتے اور پھر میزبان کا چھوٹا بچہ نیند سے رو رہا ہے، گھر والے پہلے تیاری اور پھر انتظار میں تھک چکے ہیں، تب کوئی جانے کا نام نہیں لیتے۔ عجیب بے تکلفی ہے بھئی! شادی سے پہلے بھی امی ابو نے وقت کی پابندی کی عادت ڈالی، یہاں پر بھی قائم ہے لیکن پاکستانی محفلوں میں اس عادت نے ہمیشہ خوار ہی کیا ہے۔ جب کسی نے آپ کو ایک مخصوص وقت پر بلایا اور آپ نے وعدہ کر لیا تو پھر اس وعدے/کمٹمنٹ کو پورا کرنا چاہیے۔ کبھی اونچ نیچ ہو جانا الگ بات لیکن عادتاً لیٹ جانا انتہائی معیوب ہے اور مجھے تو اگلے بیس سال بھی یہ عادت بدلتی دکھائی نہیں دیتی۔

- یہاں Regatta کے نام سے ایک سالانہ میلہ لگتا ہے۔ کھانے پہنے کی رنگا رنگ چیزیں، گیمز، بچوں کے کھلونے وغیرہ۔ بہت رش ہوتا ہے۔ اب مزے کی بات یہ ہے کہ اتنے رش میں بھی کوئی آپ سے ٹکرائے گا نہیں۔ کسی کی کوشش نہیں ہوگی کہ اس کا کندھا، اس کے ہاتھ آپ کے ہاتھ سے مس کریں۔ ہر کوئی سمٹ کر چلے گا۔ ہمارے یہاں اس قدر قباحت ہے کہ واک کرتے، سٹور میں آتے جاتے، کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی جاہل انسان ضرور ایسی حرکت کرے گا۔ میں اب آگے اس پر مزید کیا لکھوں! ان جاہلوں کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی باپردہ ہے کہ ماڈرن، چھوٹی سی عمر کی کوئی دس بارہ سال کی لڑکی ہے یا 40 سال کی عورت، شکل کی اچھی یا گزارے لائق، اگر وہ ’’عورت‘‘ کی کیٹیگری میں آتی ہے تو بس!!

- یہاں لوگ حساب کتاب میں دیانتدار ہیں، سچے ہیں۔ جو خرابی ہوگی، پہلے سے بتا دیں گے، پھر چاہے آپ خرید لیں یا ارادہ بدل دیں۔ ایک بار ایک سویٹر سیل پر لگا ہوا تھا جس کے پرائس ٹیگ پر اس کے سستا ہونے کی یہ وجہ دی تھی کہ کوئی دھاگہ کھنچا ہوا ہے۔ باوجود کوشش کے نہ تو مجھے نظر آیا، نہ سیلز گرل ہی اس دھاگے کو ڈھونڈ پائی۔ اسی طرح ایک بار کوئی کھلونا لینا تھا جس پر دس ڈالر کی قیمت لکھی تھی۔ جب سکین کروایا تو وہ چالیس ڈالر کا نکلا۔ میرے کہنے پر انہوں نے شیلف پر قیمت دیکھی جو واقعی غلطی سے دس ڈالر لکھی گئی تھی۔ انہوں نے وہ کھلونا مجھے دس ڈالر کا ہی دیا کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق قصور انھی کا تھا۔

- یہاں ایسے لگتا ہے کہ ہر بندہ ہر کام سکون سے کر رہا ہے، اطمینان سے اپنی باری کا انتظار کریں گے۔ پاکستان میں بحثیت مجموعی صبر کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ کوئی کسی کو بات نہیں مکمل کرنے دیتا، یا ایک لین پر صبر سے ڈرائیونگ نہیں کر سکتا، لائن میں نہیں کھڑا ہو سکتا، اشارہ سبز ہو جائے اور آگے والی گاڑی کو چلانے میں ایک لمحے کی تاخیر ہو تو پیچھے سے چار ہارن بج چکے ہوتے ہیں، عجیب سی نفسا نفسی ہر وقت۔ یہ سب وہ کام ہیں کہ جن کے لیے کسی حکومتی ڈنڈے کی ضرورت نہیں۔ ہم سبھی پاکستانی اپنے طور پر یہ کام شروع کر سکتے ہیں۔

- دس سال میں شاید ہی کبھی ایسا ہو کہ ساتھ کھڑی گاڑی سے اونچے بےہنگم میوزک کی آواز آئی ہو۔ پاکستان میں ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ دور گزرنے والی گاڑی کے میوزک کی آواز اندر گھر تک آتی ہے۔ اتنی بےحسی کیوں؟ آپ نے سننا ہے تو ائیر فونز لگائیے اور سنیے۔ باقیوں کا تو احساس کیجیے ناں! کوئی چھوٹا سا بچہ، کوئی دن بھر کا تھکا ہارا مزدور بندہ، کوئی بیمار بوڑھا، یا شاید کوئی نماز پڑھتا ہو یا اس کو وہ میوزک پسند نہ ہو جو آپ سن رہے ہیں۔ آپ کو سننا ہے، خود سنیے، باقیوں کو اذیت مت پہنچائیے۔

- یہ لوگ پلیز، تھینک یو اور سوری کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے بچوں کو یا بیوی کو کہیں کہ پلیز پانی لا دیں اور پھر تھینک یو/جزاک اللہ خیرا کہیں، حالانکہ کہا جاتا ہے جو بندوں کا شکر گزار نہیں ہوتا، وہ بندوں کے رب کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔ بیویوں کی شوہروں کے لیے ناشکری تو خیر مشہورِ زمانہ ہے ہی! سوری کا استعمال بھی ہم بڑے خود کرتے نہیں اور بچوں کو کہتے ہیں کہ سوری بولو۔

یوں لکھنے لگوں تو لسٹ‌ لمبی ہی ہو جائے گی۔ کہنا بس اتنا ہی ہے کہ اوپر دی گئی کوئی بھی ایسی چیز نہیں کہ جس پر ہم انفرادی طور پر عمل نہ کر سکیں۔ کیوں نہ اس نہج پر بھی اپنی اصلاح کریں؟! اور یہ سوچ کر نہیں کہ ہمیں کسی ترقی یافتہ ملک کے باشندوں کو فالو کرنا ہے، یہ نیت کر کے کہ ہمارا دین ہمیں یہی سب سکھاتا ہے، ہمیں اس پر عمل پیرا ہونا ہے. ان شاء اللہ!

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.