ٹیکس، حج اور جوابی بیانیہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ایک سوال پوچھا تھا کہ مجھ سے لی گئی ٹیکس کی رقم سے میری اجازت کے بغیر کسی کو حج کیسے کرایا جاسکتا ہے؟
اس سوال پر بعض بہت دلچسپ جواب آئے۔

ایک مولوی صاحب کو تو چوٹ لگانے کا شوق چرایا، چنانچہ انھوں نے کہا کہ جیسے اس ٹیکس سے آپ کو تنخواہ ادا کی جاتی ہے! وہ ذرا اس سوال پر اور پھر اپنے جواب پر تامل کی زحمت گوارا کرتے تو انھیں معلوم ہوجاتا کہ اصل مصیبت کہاں پائی جاتی ہے، لیکن ظاہر ہے کہ انھوں نے یہ زحمت تو گوارا کرنی نہیں تھی۔

ایک اور صاحب نے، جن کا تعلق جوابی بیانیے والے گروہ سے ہے، فرمایا کہ حج جب صرف صاحب ِاستطاعت پر فرض ہے تو جو استطاعت نہیں رکھتا، اسے حج کرانے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک دفعہ پھر انھوں نے ثابت کیا کہ جوابی بیانیہ کیسے اصل سوال کے بجائے غیر اہم سوال میں الجھ کر اصل سوال سے لوگوں کی توجہ ہٹالیتا ہے! سوال تو یہ ہے ہی نہیں کہ صاحب ِاستطاعت کے سوا کوئی اور شخص حج کرسکتا ہے یا نہیں؟ مثال کے طور پر اگر میں کسی غریب شخص کو مال ہبہ کردوں اور وہ صاحب ِ استطاعت ہوجائے؟ یا اگر اسے حج کا بہت شوق ہے اور میں میں اس کے سفر کے اخراجات برداشت کروں؟

ہمارے جوابی بیانیے والے دوستوں کے نزدیک ویسے بھی ٹیکس اور زکوۃ یا صدقے کے مال میں فرق تو بہت حد تک بےمعنی ہے لیکن انھوں نے اس پہلو پر بھی غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ جب ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو پھر ریاست کسی کو ریاستی خزانے کی رقم سے حج کے لیے کیسے بھجواسکتی ہے؟ استطاعت و عدمِ استطاعت کا سوال تو ان کے جوابی بیانیے کے پہلو سے غیر متعلق ہے۔

سوال اصل میں ٹیکس کی رقم کی قانونی و شرعی حیثیت اور اس رقم کے متعلق ریاست و حکومت کے تصرف کی حدود کے متعلق تھا۔
اس لحاظ سے ہمارے دوست زاہد مغل صاحب کا اٹھایا گیا نکتہ سب سے اہم ٹھہرا۔ انھوں نے لکھا: ’’اس کے جواب کا انحصار شاید اس پر ہے کہ قانونِ وقت ریاست کو ٹیکس کی مد سے کیا کیا کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ اگر اس میں یہ گنجائش موجود ہے تو جب ہم اس قانون کے تحت ٹیکس دیتے ہیں تو گویا اس کی اجازت بھی دے رہے ہوتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   ٹیکس دیجیے لیکن ٹھہریے، پہلے رشوت دیجیے - آصف محمود

دوستو! پھر یاد دلاؤں کہ معاصر قانونی نظام میں ریاست ایک اعتباری شخص ہے اور یہ شخص قانون کے ذریعے اپنی رضا کا اظہار کرتا ہے۔ اس نظام میں ٹیکس کی رقم اسی اعتباری شخص کی ملکیت ہے اور وہ جہاں مناسب سمجھے، اس رقم کو استعمال کر سکتا ہے۔
ہاں! جمہوریت پر یقین رکھنے والے دوستوں کو یہ بھی یاد دلانا ضروری ہے کہ جمہوری ریاست میں یہ اعتباری شخص یہ اصول مان لیتا ہے کہ حکومت کے پاس اسی حد تک اختیار ہے جس حد تک محکومین نے اس کے لیے مانا ہے، چنانچہ جمہوری ریاست میں یہ اعتباری شخص قانون سازی جمہور کی مرضی کے مطابق کرتا ہے، اسی لیے امریکی انقلاب کا نعرہ یہ تھا کہ:
No taxation without representation
(نمائندگی کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں مانیں گے!)
اور یہی وجہ ہے کہ اب بھی امریکی عوام کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ حکومت نے ٹیکس دہندگان کی رقم (taxpayers’ money) کہاں خرچ کی ہے ؟
اس لیے!
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام نے اپنی حکومت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ان سے ٹیکس کے ذریعے لی گئی رقم کے ذریعے کسی کو حج کرائیں؟ یہ وہ سوال ہے جس پر علمائے کرام اور جوابی بیانیے والے دوستوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اتنا بتادوں کہ اس سوال کے جواب کے لیے دستور اور دیگر قوانین کا مطالعہ کرنا ہوگا۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.