افغان سیاست اور ہمارا رویہ – فضل ہادی حسن

من حیث القوم اس وقت ہمارا معاشرہ ذہنی طور پر اتنا منفی اور جارح مزاج بن گیا ہے کہ کسی بھی معاملے میں اکثریت ضرور کوئی نہ کوئی منفی پہلو نمایاں کرنے کی کوشش کرتی ہے اور پھر اسے ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے نظر آتی ہے۔

ابھی معاہدہ افغانستان میں ہوا ہی ہے اور ہمارے ہاں ماتم یا نوحہ شروع ہوگیا ہے۔ کوئی گلبدین حکمت یار کو امریکی ٹٹو قرار دے گیا تو کسی نے حکمت یار کا جمہوری نظام کا حصہ بننے کو اس کے ٹوٹ کر بکھرنے سے تعبیر کیا۔ اگر افغانستان میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دیا جائے تو آگے سے ایسا جواب ملتا ہے جیسے افغانستان پاکستان کا کوئی صوبہ یا سابقہ ریاست رہی ہو. ایک دوست نے تو یہاں تک کہہ دیا: ’’ہم افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیوں نہ کریں؟ کل تک ہم ہی تھے جو افغانستان کو بچانے کے لیے سر پر کفن باندھ کر نکلے رہے اور روسی قوت کو پاش پاش کرنے کے لیے افغان بھائیوں کی ہر ممکن مدد کی تھی، تب یہ مداخلت آپ بھی ک ررہے تھے۔۔۔۔۔ہاں! جب طالبان ہتھیار ڈال دیں گے تب میں بھی کوئی مداخلت نہیں کروں گا‘‘ اب اس کا کیا جواب دیا جائے؟ کیا یہ احسان جتانا اور دوسرے طریقے سے بھاری قیمت کی وصولی ہے؟

ہم پاکستانیوں کے بارے میں افغانیوں کو ویسے بھی تحفظات ہیں اور اوپر سے ہم افغانوں کے فیصلوں پر ایسے تنقید کرنے لگ جاتے ہیں کہ افغانستان کو ایک مقبوضہ ملک قرار دیتے ہیں، جس پر مغربی طاقتوں اور ان کی کٹھ پتلی حکومت کا قبضہ ہے۔

گزشتہ چند روز سے مختلف فورمز پر لوگوں کے خیالات اور تبصرے پڑھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس وقت ہمارے ہاں اس حوالے سےدو قسم کے لوگ موجودہیں۔ طالبان حامی جو ماضی میں طالبان حکومت کو دیکھتے ہوئے کسی بھی صورت میں دوسرے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، شاید یہی گروہ انفرادی طور پر بھی ہر اس بندے کو جگہ دینے کا قائل نہیں ہے جس کا طالبان سے تعلق نہیں رہا ہو (اس گروہ میں اسی مکتبہ فکر کی کثرت ہے جس سےافغان طالبان کا تعلق بھی ہے)۔ اس حوالے سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس مزاج کےلوگ افغانستان میں طالبان کے علاوہ کسی کے لیے کھلا دل رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کھلے دل نہ رکھنے کے لیے ان کا طرز استدلال بھی بڑا نرالا ہے ’’ کھلا دل کیوں رکھیں؟ جنہوں نے مزاحمت کی، وہی فاتح، کسی ملک کی مدد سے جیتے یا اپنی مدد آپ کے تحت، تاہم سودے بازی نہیں کی۔ جنہوں نے جانیں دیں وہی قوم کی سیادت کے حق دار ہیں ‘‘ کچھ اس طرح اور اس سے ملتا جلتا استدلال تحریک پاکستان کے موقع پر علمائے دیوبند اور تحریک احرار کا بھی تھا۔

دوسرا گروہ حکمت یار حامی ہے۔ یہاں حکمت یار سے کچھ زیادہ پرامید لوگ موجود ہیں جو افغان مسئلہ کے مستقل اور دیرپا حل کے متمنی ہیں۔ یہاں حکمت یار کے بارے میں کچھ زیادہ امیدیں باندھی گئی ہیں لیکن فی الحال اس حوالے سے حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔ البتہ وہاں مثبت پیشرفت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تنقید سے حتی الامکان احتراز کرتے ہیں۔

اس حوالے سے یہ چند باتیں مد نظر رکھنے چاہیے۔

اول :

افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ہمیشہ افغانوں کی رائے کو اہمیت دینا ہوگی۔ حالیہ معاہدہ ہو یا کوئی اور اقدام، یہ افغانوں کا اپنا معاملہ ہے اور انہیں اس کا بہتر حل نکالنے دیجیے۔ ہمیں بحیثت قوم یا حکومت یا ادارہ، مداخلت نہیں کرنی چاہیے، جبکہ انفرادی حیثیت سے ہم کون ہوتے ہیں کہ ان کے فیصلوں پر علی الاعلان تنقید کریں یا ناپسندیدگی کا اظہار؟

دوم:

ہمیں انہیں اگر اخلاقی طور پر سپورٹ کرنا پڑے یا ضرورت محسوس کریں تو افغان حکومت کی مثبت چیزوں اور معاملات کی حوصلہ افزائی اور نیک تمناؤں کی امید کریں تاکہ تباہ حال افغانستان کو بہتر اور امن کا گہوارہ بنانے میں انہیں اخلاقی مدد مل سکے۔

سوم :

ہماری تنقید اور مخالفت یا کسی فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار ہرگز دونوں قوموں کے مفاد میں نہیں جائے گا بلکہ اس سے دونوں قوموں کے درمیان غلط فہمی اور شکوک و شبہات کی دیواراور خلیج مزید بڑھ سکتی ہے، اب بھی کافی مسائل کا سامنا ہے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے افغانوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف نفرت اور اشتعال دلانے کی کی کوشش ہورہی ہے۔ ایسے میں کچھ لوگ اب بھی موجود ہیں جو پاکستان کے خیر خواہ ہیں، اگر ہمارا رویہ اسی طرح رہا تو شاید یہ لوگ بھی پاکستان اور ہمارے بارے میں مثبت رائے نہیں برقرار نہیں رکھ سکیں گے یا افغان حالات کے سبب مجبور ہوکر خاموشی میں ہی عافیت سمجھیں گے۔

چہارم:

1979ء سے لیکر اب تک افغانستان میدان جنگ ہے اور افغانی اس کا ایندھن بن رہے ہیں (افغانستان صرف 1995-96 کے بعد نہیں جب طالبان نے قبضہ کر لیا بلکہ اس سے پہلے بھی جانا ہوگا)۔ اس وقت افغان قوم بھی جنگ سے تنگ آچکی ہے اور ایک پرامن افغانستان کی متلاشی ہے۔ خود حکمت یار صاحب نے جب امریکہ کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کیا تو حزب اسلامی کے اندر سے کچھ لوگ درس و تدریس اور تعلیم وتربیت سے وابستہ ہوگئے تو چند ایک نے انفرادی طور پر سیاسی میدان کا رخ کیا۔ افغان دوستوں کے ساتھ جب بھی وہاں کے معاملات پر گفتگو ہوئی ہے تو یہی نتیجہ نکلا ہے کہ افغان قوم اب جنگ سے نکلنا اور امن چاہتی ہے۔ تباہی سے و بربادی کے بعد ایک تعمیری افغانستان چاہتی ہے۔ اس وجہ سے حکمت یار صاحب نے بھی بہتر افغانستان کی امید پر یہ راستہ اختیار کیا۔ یہ سوالات کہ حکمت یار تو جہاد سے الگ ہوگئے، کیا وہ پہلے غلط تھے یا اب؟ اپنے آپ کو بند گلی کی طرف لے گئے؟ وغیرہ وغیرہ، میرا خیال ہے کہ اس قسم کے منفی تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔ کم از کم حسن ظن رکھنا چاہیے کہ یہ فیصلہ افغان قوم و ملت کے لیے باعث خیر و خوشی ثابت ہو۔ شاید حکمت یار صاحب نے وہی راستہ چن لیا ہو جو 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد برصغیر کے علماء نے اختیار کیا تھا۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam