شعبان، شب برأت، حقیقت اور قصے کہانیاں – عادل سہیل ظفر

ماہِ رواں ماہِ شعبان ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے مہینوں میں سے ایک مہینہ، اِس مہینہ کی فضیلت کے بارے میں محدثین نے جو احادیث روایت کی ہیں اُن میں ہمیں ایک فضلیت تو یہ ملتی ہے کہ اِس مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھے جائیں، جیسا کہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ لَمْ یكُنِ النَّبِىُّ – صَلَّى اللَّه عَلیهِ وسلَّمَ - یصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ یصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ یقُولُ، خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِیقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ یمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى النَّبِىِّ - صَلَّى اللَّه عَلیهِ وسلَّمَ - مَا دُووِمَ عَلَیهِ، وَإِنْ قَلَّتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً دَاوَمَ عَلَیهَا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کِسی بھی اور مہینے سے زیادہ شعبان میں (نفلی) روزے رکھا کرتے تھے، اور کہا کرتے تھے اُتنا (نیک)کام کرو جتنے(کو ہمیشہ کرنے)کی طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو (تمہارے کاموں )سے اُس وقت تک نہیں بیزار نہیں ہوتا جب تک تم لوگ بیزار نہ ہو جاؤ(یعنی تمہارے دِل وہ کام کرنے سے بھر نہ جائیں )،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب وہ نماز تھی جسے ہمیشہ باقاعدگی کے ساتھ ادا کیا جائے، خواہ وہ تعداد میں تھوڑی ہی ہو، اور جو نماز وہ پڑھتے تھے اُس پر ہمیشگی سے قائم رہتے ۔ (صحیح البخاری /کتاب الصیام /باب 51 صوم شعبان)

اِس ایک عِلاوہ ماہِ شعبان کی دوسری فضیلت بھی ملتی ہے جِس کا ذِکر اِن شاء اللہ ابھی آگے آئے گا، اِس دوسری حدیث میں شعبان کی درمیانی رات کے بارے میں ایک خبر بیان کی گئی ہے مگراِس میں وہ کُچھ یقیناً نہیں ہے جو لوگوں نے بنا لیا ہے اور جِس پر لوگ عمل کیے جا رہے ہیں۔ بھیڑ چال چونکہ ہماری عادت ہو چکی، لہذا یہ دیکھنے کی زحمت کیوں کی جائے کہ ریوڑ کہاں جا رہا ہے ؟ بس گردن ڈالے چلے جا رہے ہیں کہ جہاں باقی جائیں گے ہم بھی وہیں جا ئیں گئے اور پھر اِس عادت کو پُختہ کرنے میں شیطان کی محنت بھی کافی شامل ہے، جو ہمیں اِس خوشی فہمی میں رکھتا کہ "اِتنے بڑے بڑے عُلماء بھلاکیسے غلط کہہ سکتے ہیں، اور یہ اِتنے لوگ جو کُچھ کہہ اور کر رہے ہیں یہ سب غلط ہونا تو بہت ہی مُشکل ہے، وغیرہ وغیرہ "۔

اللہ کا، اللہ کے نبیوں اور رسولوں کا، اللہ کے دِین کا اور اُس دِن کے سچے پیروکاروں کا ازلی دُشمن ابلیس (شیطان) اِسی طرح کے بے شُمار وسوسوں کے ذریعے ہمیں حق سے دُور رکھتا ہے، اور یہ بُھلائے رکھتا ہے کہ"غلطی سے محفوظ، اور معصُوم صِرف اور صِرف انبیاء اور رسول علیہم السلام ہوتے تھے، نبیوں اور رسولوں کے عِلاوہ کوئی معصُوم نہ تھا، نہ ہو سکتا ہے، اور ہر قِسم کی کمی اور نقص سے پاک صِرف اللہ کی ذات ہے۔"

خُوب اچھی طرح سمجھنے کی بات ہے کہ اکثریت کِسی بھی معاملے کی درستگی یا نا درستگی کی پرکھ کی کسوٹی نہیں خاص طور پر دِینی معاملات میں، وہاں حق صِرف اور صِرف اللہ کی وحی ہے وہ اللہ جلّ ثناوہُ کے کلام پاک قران کریم میں سے ہو، یا اللہ تعالیٰ نے قران کریم کے نصوص شریفہ کے عِلاوہ، اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک پر جاری کروائی ہو، اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ فرماتا ہے : قُلِ اللّہُ یَہدِی لِلحَقِّ اَفَمَن یَہدِی اِلَی الحَقِّ اَحَقُّ اَن یُتَّبَعَ اَمَّن لاَّ یَہِدِّی اِلاَّ اَن یُہدَی فَمَا لَکُم کَیف َ تَحکُمُونَOوَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرُھُم اِلاَّ ظَنّاً اَِنَّ الظَّنَّ لاَ یُغنِی مِنَ الْحَقِّ شَیااً اِنَّ اللّہَ عَلَیمٌ بِمَا یَفعَلُون۔ (اے رسول آپ ) فرما دیجیے، کہ، اللہ ہی حق کی طرف ہدایت دینے والا ہے، تو کیا وہ جو حق کی طرف ہدایت دیتا ہے وہ ہی اِس بات کا حق دار ہے کہ اُس کی تابع فرمانی کی جائے؟ یا(کیا) وہ جو(اللہ سے )ہدایت پائے بغیر خود کِسی کو ہدایت نہیں دے سکتا؟ تو تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے (کہ اللہ کی ہدایت کے علاوہ فلسفوں منطقوں، عقل بازی، اور رائے وغیرہ کو بنیاد بنا کر )کیسے (عجیب حق سے دُور، ناحق ) فیصلے کرتے ہو O اور اُن(اِنسانوں )کی اکثریت ظن(خیالوں، گمانوں )کی پیروی کرتی ہے (جبکہ )بے شک خیالات حق سے غنی نہیں کر سکتے، جو کچھ یہ کرتے ہیں بے شک اللہ(وہ سب )بہت اچھی طرح جانتا ہے۔ (سورت یُونُس(10)/آیت 35، 36) اور فرمایا اِنَّ اللّہَ لَذُو فَضلٍ عَلَی النَّاسِ وَلَـکِنَّ اَکثَرَھُم لاَ یَشکُرُون۔ بے شک اللہ انسانوں پر مہربانی کرنے والا ہے لیکن اِنسانوں کی اکثریت (اللہ کا )شکر(ادا) نہیں کرتی(یعنی اللہ کی تابع فرمانی کرنے کی بجائے اللہ کی نافرمانی کرتی ہے ۔ (سورت یُونُس(10)/ آیت 60)

پس، اللہ عزّ و جلّ کے اِس فرمان سے بھی یہ پتہ چلا کہ أکثریت کا کِسی قول و فعل پر عمل پیرا ہونا کِسی بھی مسلمان کے لیے اُس قول یا فعل کو اپنانے کی دلیل نہیں ہوتی، اکثریت کو درستگی کی دلیل اُس جمہوریت میں مانا جاتا ہے جِس میں کھوپڑیاں گنی جاتی ہیں کھوپڑیوں کے اندر کیا ہے وہ نہیں دیکھا جاتا۔

آئیے ذرا ماہِ شعبان میں چلی جانے والی بھیڑ چال سے باہر نکل کر تھوڑی دیر کے لیے دیکھیں تو سہی کہ کون کِس کی ہانک پر کہاں چلا ہی جا رہا ہے؟ ؟؟

کِسی نے اِن سے کہا، شعبان کی پندرہویں رات میں حساب کِتاب دیکھے جاتے ہیں، مُردوں کی رُوحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں، زندگی اور موت کے فیصلے کیے جاتے ہیں جِس نے آنے والے سال میں مرنا ہونا ہے اُس کا پتا زندگی کے درخت سے جھاڑ دِیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ اور شاید اِسی عقیدے کی بنا پر "تا صاف کرنا " محاورۃً اِستعمال کیا جاتا ہے، بہر حال، جِس روایت کو بُنیاد بنا کر یہ قصے گھڑ لیے گئے اور طرح طرح کی عِبادات اور ذِکر اذکار بنا لیے گئے۔

آئیے سُنیے کہ وہ روایت کیا ہے،

معاذ ابنِ جبل رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿ یطَّلعُ اللَّہ ُ تبارکَ و تعالیٰ اِلیٰ خلقِہِ لیلۃِ النِّصفِ مِن شعبانِ فَیَغفِرُ لِجمیع ِ خلقِہِ، اِلاَّ لِمُشرِکٍ او مُشاحن:::اللہ تبارک و تعالیٰ شعبان کی درمیانی رات میں اپنی مخلوق(کے اعمال )کی خبر لیتا ہے اور اپنی ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے، سوائے شرک کرنے والے اور بغض و عناد رکھنے والے کے(اِنکی مغفرت نہیں ہوتی)۔ (صحیح الجامع الصغیر حدیث1819، سلسلہ احادیث الصحیحہ/حدیث1144

اور اِس کی دوسری روایت اِن الفاظ میں ہے ﴿ اِذا کَان لَیلۃِ النِّصفِ مِن شعبانِ اَطلَعُ اللَّہ ُ اِلَی خَلقِہِ فَیَغفِرُ لِلمُؤمِنِینَ وَ یَملیَ لِلکَافِرِینَ وَ یَدعُ أَھلِ الحِقدِ بِحِقدِھِم حَتَی یَدعُوہُ ::: جب شعبان کی درمیانی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق (کے اعمال )کی اطلاع لیتا ہے اور اِیمان والوں کی مغفرت کر دیتا ہے اور کافروں کو مزید ڈِھیل دیتا ہے اورآپس میں بغض(غصہ )رکھنا والے (مسلمانوں )کو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنا غُصہ چھوڑ دیں ﴾ حدیث حسن ہے، صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ/ حدیث 771

اِن دو روایات کو پڑھ کر ہر اچھی عقل والا جان جاتا ہے کہ اِن میں کوئی ایسی خبر نہیں جِس کو بُنیاد بنا کر ہم وہ کُچھ کریں جو کرتے ہیں بات تو تھی بھیڑ چال کی،اِسی چال میں چلتے چلتے ہم نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو کُچھ کو دیئے جلاتے ہوئے پایا اور خود بھی یہ کام شروع کر دیا، کُچھ نے اِس کو ہندو چال سے مُسلم چال میں ڈھالنے کےلیے شبِ برأت بنا لیا، کچھ حساب کتاب کی بات بنائی گئی، کُچھ نماز اور ذِکر اذکار شامل کر لیے گئے، جب کہ اِن سب چیزوں کے لیے ہمارے پاس اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے کوئی ثابت شدہ سچی قابلِ اعتماد خبر نہیں۔

مگر کیا کریں ذوق اور عادت میں شامل ہو چکا ہے کہ، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات کو ناکافی سمجھا جائے، اور اُن کی تعلیمات کی خلاف ورزی کی جائے لیکن جِن کی پیروی کی جاتی ہے اُن کی بات کو ہر صُورت مانا جائے اور اُسے ہی دُرُست ثابت کرنے کے لیے قران و سُنّت کی کوئی بھی تاویل کی جائے۔

خود کو بدلتے نہیں قُرآں کو بدل دیتے ہیں

سُنّت مُبارکہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کی خِلاف ورزی بھی کی جائے اور اُن کی اِتباع کا دعویٰ اور اُن سے نسبت بھی برقرار رکھی جائے، کہ خود کو اہل سُنّت و الجماعت بھی کہا جاتا رہے۔

ہندوؤں کی طرح گھروں کو رُوحوں کے اِستقبال کے لیے دھویا جائے اور چراغاں کے نام پریہودیوں اور مجوسیوں کی طرح آگ سے سجایا جائے، عیسائیوں کی طرح پٹاخے چلائے یا بجائے جائیں اور آتش بازی کی جائے رات بھر جاگ جاگ کر خود ساختہ عِبادات اور ذکر اذکار کیے جائیں، پھر بھی ہم دُرُست، ہمارا دعویٰ سچا، ہماری نسبت ٹھیک،،،،، اور جو اِن کاموں سے روکے اور قران اور صحیح ثابت شدہ سُنّت کی دعوت دے وہ گستاخ، اور فرقہ واریت پھیلانے والا، سُبحان اللَّہ و اِلیہِ نشتکی۔

آگ کو بلا ضرورت اِستعمال کرنا اور جلائے رکھنا آگ پرست ایرانی مجوسیوں کا باطل مذہب تھا، کہ وہ ہر وقت گھروں میں آگ جلائے رکھتے تھے اور اپنے خوشی و غم کے اظہار کے لیے خاص طور پر بڑی چھوٹی آگ جلاتے تھے۔ یہودی بھی اپنے مذہبی بلاوے کے لیے آگ جلاتے تھے، اِسی لیے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز کے بلاوے کے بارے میں مشورہ فرما رہے تھے تو آگ جلانے کی سوچ کو یہودیوں کی عادت ہونے کی وجہ سے ترک فرمایا، اور ناقوس استعمال کرنے کی سوچ کو عیسائیوں کی عادت ہونے کی وجہ سے ترک کیا، تو اُس وقت ہمارے دُوسرے بلا فصل خلیفہ عُمر الفاروق رضی اللہ عنہ ُُنے اذان دینے کا مشورہ دِیا اور اُن کے مشورہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قُبُول فرما کر بلال رضی اللہ عنہُ کو حُکم دِیا کہ اذان کہیں، اور اذان کے فقرے دو دو دفعہ کہیں، اور اقامت کے ایک دفعہ، صحیح البخاری /کتاب الاذان / پہلے باب کی احادیث، اور صحیح مسلم / کتاب الصلاۃ / پہلے باب کی پہلی حدیث۔

ہندو بھی اپنی کچھ خاص عبادات میں دئیے اور موم بتیاں وغیرہ جلاتے تھے اور ہیں، اور مسلمانوں میں کِسی ضرورتِ زندگی کو پورا کرنے کے عِلاوہ آگ کا استعمال کبھی مروج نہیں رہا، لیکن ہمارے ہاں ہندو زدہ معاشرے میں، اِس رات میں عِبادت کے طور پر ثواب و اجر کی نیت سے آگ جلائی جاتی ہے، اِنّا للِّہِ و اِنّا اِلیہِ راجِعُونَ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق جاننے، ماننے، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

ٹیگز

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.