سلامتی - عالیہ ذوالقرنین

"پٹاخ" کی زور دار آواز کے ساتھ فرخ کا پھینکا ھوا پٹاخہ گلی سے گزرنے والے کتے کے پاؤں کے پاس پھٹا اور وہ درد ناک آواز نکالتا اور لنگڑاتا ہوا ایک طرف بھاگا ۔ فرخ اور اس کے شرارتی دوست مل کر اس منظر سے لطف اندوز ہوئے اور ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بری طرح قہقہے لگانے لگے ۔

شعبان المعظم شروع ہو چکا تھا اور شب ِبرات کی آمد کی "خوشی" میں محلے میں جا بجا پٹاخے فروخت کئے جا رہے تھے ۔ وہ بچے جو سارے دن آوارہ گردی میں مشغول رہتے تھے، آج کل ایک چھوٹی سی میز پر طرح طرح کے پٹاخے سجائے بیچنے میں مصروف تھے ۔

فرخ اور اس کے منچلے دوستوں کا یہ روز کا معمول تھا کہ اپنے والدین سے ضد کر کے رقم نکلواتے اور دکاندار کو دے کر اس سے کہہ کر خاص طور پر دھماکے دار پٹاخے لیتے ۔ سارا محلہ ان کی حرکتوں سے تنگ تھا مگر ان بدتمیز اور بد تہذیب لڑکوں کے گروپ کو منع کرنے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔

زمان صاحب اپنے گھر کا سودا سلف لینے نکلے تو دھماکے کی زور دار آواز اور پھر قہقہوں پر پلٹ کر دیکھا تو فرخ اور اس کا دوست پاس سے گزرے جو سکول سے واپس آتے چھوٹے بچے کے پاؤں میں پٹاخہ پھوڑ کر بے ہنگم ہنس رہے تھے۔ بچہ اچانک کی اس افتاد سے خوفزدہ ہو کر ایک طرف کھڑا رو رہا تھا ۔ زمان صاحب پاس گئے بچے کو پچکار کر خاموش کروایا اور اس کے گھر روانہ کیا ۔ اگلے لمحے وہ فرخ اور اس کے دوستوں کے سامنے کھڑے تھے ۔ "پٹاخہ بچے کے قریب کیوں چلایا؟" انہوں نے باری باری ایک نظر سب دوستوں کی طرف دیکھ کر سوال کیا ۔

"بزرگو! آپ کو ہمارے پٹاخے چلانے پر اعتراض ہے یا بچے کے قریب چلانے پر؟ "فرخ نے آگے بڑھ کر بڑی بد تمیزی سے سوال کیا اور اس کے باقی دوستوں نے زور دار قہقہہ لگایا ۔ " مجھے دونوں باتوں پر اعتراض ہے پٹاخہ چلانے پر بھی اور بچے کے قریب چلانے پر بھی "زمان صاحب اس کی بدتمیزی برداشت کرتے ہوئے نرم لہجے میں گویا ہوئے " دیکھو بیٹا! تم میرے بچوں کی طرح ہو اگر تم کوئی غلط کام کرو گے تو میں ضرور منع کروں گا ۔ شب برات عبادت کی رات ہے اس رات انسان کی زندگی کے ایک سال کے دوران پیش آنے والے معاملات کا حساب کتاب فرشتوں کے سپرد کیا جاتا ہے ۔ انسان کے آئندہ سال کے رزق، زندگی اور موت کے بارے میں بھی فرشتوں کو باخبر کر دیا جاتا ہے گزشتہ لوگ یہ رات عبادت اور دن روزہ رکھ کر گزارتے تھے تاکہ وہ ان بابرکت گھڑی میں عبادت کی حالت میں ہوں اور تم۔۔۔۔۔؟ تم یہی قیمتی وقت لوگوں کو تنگ کر کے اذیت اور تکلیف دے کر ضائع کرتے ہو ۔ ھمارے آقا علیہ الصلوۃ و السلام کی حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ "وہ شخص مسلمان نہیں جس کی ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ نہ ہوں "۔ اب تم سب مجھے خود بتاؤ کہ کیا یہ کام مسلمانوں والے ہیں؟"

"دیکھو بزرگو! آپ نے ہمیں گھنٹے بھر نصیحت کی ھم نے سن لی، چلو اب چلتے پھرتے نظر آؤ ، ہمیں اور بھی بہت کام ہیں"فرخ کے ایک دوسرے دوست نے بدتمیزی سے کہا اور فرخ کا ہاتھ پکڑ کر کھینچنے لگا ۔

وہ سب قہقہے لگاتے جا چکے تھے اور زمان صاحب تاسف میں وہیں کھڑے ان کے لیے ہدایت کی دعا کرنے لگے ۔ پھر گہری آہ بھری اور اپنے گھر کی طرف چل پڑے ۔

اگلے دن فرخ کے گھر ایک کہرام مچا ہوا تھا اس کے دوست کی شرارت سے پھینکا جانے والا پٹاخہ فرخ کے سر پر گر کر پھٹا جس سے وہ موقع پر ہی چل بسا۔ زمان صاحب نے بھی بڑی دل گرفتگی سے یہ خبر سنی اور ان کے ذہن میں حدیث مبارکہ کے الفاظ گونجنے لگے : "اَسْلِمْ تَسْلِمْ " یعنی اسلام لے آؤ سلامتی پا جاؤ گے۔

آقا علیہ الصلوۃ و السلام نے سلامتی کی نوید ضرور دی تھی مگر اس سلامتی کے لیے صرف مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا کافی نہیں جب تک ہمارے اعمال اسلام کے بتائے اور بنائے گئے اصولوں سے میل نہیں کھائیں گے سلامتی کی کوئی صورت نہیں اور فرخ کے لیے یہ بات وقت ثابت کر چکا تھا ۔