لیپ ٹاپ ، اوسبورن ایفیکٹ اور پاکستان – شہاب رشید

شام کو موسم بہت اچھا تھا، ہر طرف بادل چھائے تھے، ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور ان خوبصورت لمحات میں، چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے لیپ ٹاپ کو گود میں رکھ کر میں نے پاور کابٹن دبایا اورونڈوز بوٹ اپ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ اسی دوران گہری سوچ میں ڈوب گیا کہ ہم ان لوگوں کی نسبت کس قدر خوش نصیب ہیں جوجدید سائنسی دور سے پہلے اپنا اپنا کردار ادا کر کے دنیا سے چلے گئے۔ سائنس کی بدولت آج ہمیں کتنی آسانیاں اور آرام میسر ہیں۔دورـ ـحاضر میں ایجادات کا ایک سلسلہ ہے جو تھمنے میں نہیں آ رہا، ہر روز نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں جو صرف اور صرف سائنس اور سائنسدانوں کی بدولت ممکن ہو ئیں۔ میں نے سوچالیپ ٹاپ بھی کیا ایجاد ہے کہ دنیا بھر کا علم، معلومات، خبریں،ٹی وی چینلز، فلم و ڈرامہ اور سوشل میڈیا گویا ہر چیز ہمیں اپنی گود میں حاصل ہے۔ لیپ ٹاپ نے کمپیوٹر کی جگہ لی اور آج تقریباً ہر گھر میں موجود ہے اور کمپیوٹرغیر ضروری سامان کی طرح کہیں پڑا ملتا ہے۔

ونڈوز بوٹ ہوئی تو میں نے سوچا کیو ں نہ آج اس محسن کے بارے میں سرچ کروں جس کی بدولت آج لیپ ٹاپ ہم سب کی دسترس میں ہے۔ گوگل کے سرچ انجن میں لیپ ٹاپ کے متعلق جاننا شروع کیا تو حیرت انگیز معلومات سامنے آئیں۔

ایڈم اوسبورن تھائی لینڈ میں پیدا ہوئے اور ان کے والد برٹش جبکہ والدہ پولش تھی۔والد آرتھر اوسبورن تھائی یونیورسٹی میں انگلش کے پروفیسر تھے۔ فیملی ممبر کو تامل زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ان کے گھر پر انڈین ملازمین کی خاصی تعداد تھی۔اوسبورن نے کلاس 6 تک تعلیم کنونٹ سکول میں حاصل کی۔ 1949ء میں آرتھر اوسبورن اپنی بیوی، بیٹے ایڈم اوسبورن اور دو بیٹیوں کو لے کر انگلینڈمنتقل ہو گئے۔ اوسبورن نے گریجویشن برمنگہم یونیورسٹی سے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری ڈیلاویر یونیورسٹی سے حاصل کی۔

اوسبورن نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور کیمیکل انجینئر کیا اور شیل آئل میں ملازمت کرنے کے بعد 1970 میں اسے خیر باد کہہ کر کمپیوٹر کی دنیا میں قدم رکھا۔ اوسبورن کو کمپیوٹر سافٹ وئیر اورٹیکنیکل رائیٹنگ کا بھی شوق تھا۔

اوسبورن نے کمپیوٹر کارپوریشن کی بنیاد رکھی اور1981 میں لیپ ٹاپ ایجاد کر لیا جس کا نام ” اوسبورن 1 ” رکھا۔ اسکو بنانے میں 1795 امریکی ڈالر کی لاگت آئی۔ جو کہ اس وقت کے بنائے جانے والے پی سی کی آدھی قیمت کے برابر تھی۔اوسبورن 1 کے ساتھ ایک چھوٹی کمپیوٹر سکرین اور کی بورڈ منسلک تھا اور اس کا کل وزن صرف11 کلو تھا۔ اس کو اس طرح سے ڈیزائین کیا گیا تھا کہ بریف کیس کی طرح آسانی سے کہیں بھی لے جایا جا سکے۔اس کی ایجاد کا سہرا وسبورن کمپیوٹرز کارپوریشن کو جاتا ہے۔

یہ اس وقت کے صارفین کے لیے پی سی کے مقابلہ میں نہایت ہی سستا لیپ ٹاپ تھا۔ جبکہ آئی بی ایم کے پی سی کے ساتھ ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر اور آپریٹنگ سسٹم بطور بنڈل نہیں بیچا جاتاتھا بلکہ ہر ایک کی الگ الگ قیمت ادا کرنی ہوتی تھی۔نہ صرف مانیٹربلکہ ہر طرح کے کیبلز بھی الگ سے فروخت کیے جاتے تھے۔

اس پورٹیبل کمپیوٹر کی پہلے ماہ کی فروخت 10,000 یونٹس رہی جو اپنے وقت میں کمپیوٹر کی فروخت کا ایک عالمی ریکارڈ تھا۔ اتنی بڑی کامیابی نے اوسبورن کمپیوٹرز کو راتوں رات آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اوسبورن کمپیوٹر کارپوریشن کا منافع 6ملین سے 68ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔کمپیوٹر کارپوریشن کے میگزینزمیں ایڈم اوسبورن کو کمپیوٹر کی دنیا میں ایک پر اثرشخصیت کے طور پر لیا جانے لگا جس طرح اس وقت ہنری فورڈ ٹرانسپورٹیشن کی دنیا میں ایک بڑے اور پر اثر نام کے طور پر جانے جاتے تھے۔

اتنی بڑی کامیابی ملنے کے بعد1983میں، اوسبورن نے بغیر کسی ہوم ورک کے، فرط جزبات میں آ کر دو اعلیٰ درجے کے نئے کمپیوٹروں کی تیاری کا بے وقت اعلان کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ا وسبورن 1 کی مانگ میں تباہ کن کمی واقع ہو گئی،صارفین نئے ماڈل کے اپگریڈڈ لیپ ٹاپس کا انتظار کرنے لگے جن کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ کمپنی کے کیش فلو میں اس قدر کمی آ ئی کہ13 ستمبر، 1983۔ کو کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔ ایک نئے پراڈکٹ کے اعلان نے پہلے سے موجود کمپنی پراڈکٹ کی مانگ میں اس قدر کمی کردی جو کمپنی کے خاتمے کا باعث بن گئی اور اس کو اوسبورن اثر (Osborne effect)کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اوسبورن کمپیوٹر کارپورشن کی ناکامی کے بعد اوسبورن نے اپنے تجربات کی روشنی میں شہرہ آفاق کتاب The Rise and Fall of Osborne Computer Corporation لکھی۔

1984 میں اوسبورن نے پیپر بیک سافٹ ویئر انٹرنیشنل کی بنیاد رکھی۔جو کہ کم قیمت سافٹ ویئر ز بنانے میں مہارت رکھتی تھی۔ایک بار کمپنی کے اشتہار میں اوسبورن نے ٹیلی فون کمپنیز کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بھی سوفٹ ویئر کمپنیز کی طرح قیمتوں کے تعین میں لوجک (logic) کا استعمال کریں تو ٹیلی فون کی لاگت 600 امریکی ڈالر تک رہ جائے گی، جس پر لوٹس کارپوریشن نے 1987میں پیپر بیک انڑنیشنل پر کنزیومر اور انویسٹر کے اعتماد اور تعلق کو ٹھیس پہنچانے کا مقدمہ دائر کر دیا۔ 1990میں لوٹس کارپوریشن یہ مقدمہ جیت گئی جس کی وجہ سے اوسبورن کو پیپر بیک کارپوریشن کو چھوڑنا پڑا۔

شاید انہی ناکامیوں کے باعث1992 میں ا وسبورن لا علاج دماغی ابتری کا شکار ہوئے اوراپنی بہن کاٹیا ڈگلس کے پاس بھارت منتقل ہو گئے۔ دماغی خلل اس قدر بڑھا کہ بار بار دورہ پڑتا۔ اوسبورن 64برس کی عمر میں 18مارچ، 2003، کو بھارت میں انتقال کر گئے۔

ٓآج اگر ہم پاکستان کے حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا ہر بڑا پراجیکٹ، ہر بڑا ادارہ، ہر بڑی سیاسی پارٹی اوسبورن افیکٹ کا شکار ہے۔ آپ میگا پراجیکٹس کو لے لیں، نندی پور، قائد اعظم سولر پارک، نیلم جہلم، اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ، میٹرو بس و ٹرین سروس، گوادر، سی پیک، آشیانہ ہاؤسنگ سکیم، ہر جگہ آپ کو اربوں روپے ڈوبتے نظر آئیں گے جو شیخی خوری، کرپشن،بے انتظامی ، ہوم ورک کی کمی اور سال ہا سال کی تاخیر کا نتیجہ ہیں۔ شیخی خور سیاسی جماعتیں بغیر کسی ہوم ورک کے بلند وبانگ دعوے کر تی ہیں اور عوام کو سبز باغ دکھا کر اربوں روپے یا تو ہڑپ کر لیتی ہیں۔ پاکستان کی گڈ گورننس کے حالات بھی آپ کے سامنے ہیں اگر آپ گوگل و سوشل میڈیا پر صوبوں کی گورننس کے بارے میں سرچ کریں تو جو معلومات ملیں گی وہ آپ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہوں گی۔ بیڈ گورننس کی اصل ذمہ دار ہماری سیاسی پارٹیاں اور ان کے قائدین ہیں اوریہ بھی اس وقت اوسبورن کی طرح لاعلاج دماغی خلل کا شکا ر ہیں، ان کو بھی بار بار دورے پڑتے ہیں، اگر حالات ایسے ہی برقرار رہے تو بہت جلد عوام ان سب سیاسی پارٹیوں کو قبروں میں اتار دے گی اوران کے کتبوں پروجہ موت میں اوسبورن افیکٹ لکھا ہو گا۔

Comments

FB Login Required

شہاب رشید

شہاب رشید ہے وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں، اور سول کے ساتھ کارپوریٹ اور ٹیکس لاء میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہری وابستگی ہے۔ حالات حاضرہ، اردو افسانہ و ڈرامہ پسندیدہ موضوعات ہیں

Protected by WP Anti Spam