مذہب اور آج کے نوجوان- ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی

نہ عبادت نہ ریاضت نہ مروت نہ خلوص

ہائے کس منہ سے کہوں میں بھی ہوں امت ان کی

دن کو دن ، رات کو رات کہتے ہوئے
لوگ ڈرتے ہیں حق بات کہتے ہوئے
کیا آج کا نوجوان مذہب بیزار ہے؟
یہ ایک ایسا چبھتا ہوا سوال ہے کہ اس کا جواب اگر اثبات میں دیا جائے تو نوجوان طبقے کے جذباتِ انا کو ٹھیس پہنچے گی اور اگر نفی میں جواب دیا جائے تو خلاف حقیقت اور واقعہ کے خلاف جواب ہوگا۔ لیکن اس تلخ حقیقت کے ساتھ ساتھ اس بات کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ آج کا نوجوان مذہب سے بیزار ہے یا نہیں؟ اِس کا جواب تفصیل طلب کے ساتھ ساتھ غورطلب بھی ہے۔ کیونکہ ہر انسان فطری طور پر اپنے مذہب کا شیدا ، اپنے دھرم پر جان نثاری کرنے والا اور مرمٹنے والا ہوتا ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ اپنے مذہب کا کامل پیرو اور مکمل پابند نہیں ہوتا۔ وہ اس سلسلہ میں سرتاپا قصوروار ہے، غلطی کا مرتکب ہے ، مجرم ہے اور جرم کی سزا کا سزاوار ہے اور اس جرم کے لئے وہ سستی ، کاہلی ، غفلت اور لاپرواہی کا شکار ہے۔ سستی و کاہلی انسان کی وہ بنیادی کمزوری ہے جوانسان کو ہر قسم کے عروج و ترقی سے مانع ہوتی ہے۔ ہر قسم کی عروج و ترقی کے پس پردہ محنت و محنت و استقلال کو جواہمیت حاصل ہے اس سے کوئی عقلمند انکار نہیں کرسکتا۔

دین سے دوری، دین سے بیزاری، دینداری کا فقدان، نوجوانوں کی خام خیالی، امت کی زبوں حالی اور قوم کی بدحالی نے عرصہ حیات تنگ کردیا ہے۔ دینی و اسلامی باتوں کی طرف راغب نہ ہونا، دینی باتوں کی طرف توجہ نہ دینا، دینی و اسلامی شعائر کی قدر نہ کرنا، امت مسلمہ کے نوجوانوں کیلئے لمحہ فکریہ سے کچھ کم نہیں، کسی بھی قوم کے عروج و ترقی، انحطاط و تنزلی دونوں میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ تاریخ کے حوالے سے بات کی جائے تو انقلابی اقدام انقلابی نوجوانوں سے ہی متوقع ہوتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے جس وقت اسلام قبول کیا اس وقت ان کی عمر ۲۷ سال تھی ان کے قبول اسلام سے پہلے اسلام کی چھپ چھپ کر دعوت دی جاتی تھی مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول تھا لیکن حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں میں ایک نئی جان، قوت و طاقت پیدا ہوئی حضرت عمرؓ کے یہ کلمات سنہرے دور کا آغاز ثابت ہوتے ہیں ’’اب میں ایمان لاچکا ہوں نماز اب کعبہ میں ہوگی، کسی میں ہمت ہو تو روک کر دیکھے‘‘ حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کے بعد یہ کلمات نوجوانوں کے ولولے اور جوش کو ابھارنے کیلئے کافی ہیں ۔فاتح ہند محمد بن قاسم نے ۱۸ سال کی عمر میں فوج کشی کی اور ہندوستان کو فتح کیا۔ تاریخ دعوت و عزیمت کے مطالعہ سے بہت ساری ایسی نوجوان ہستیوں کی جانکاری حاصل ہوجائے گی جنہوں نے دین اسلام، قوم و ملت اور وطن کی حفاظت کیلئے سرفروشی کا مظاہرہ کیا۔
تو نظر آئے مسلماں اپنے ہر کردار سے
وضع سے اخلاق سے رفتار سے گفتار سے
شادی بیاہ کی بے جا رسومات و خرافات کا معاملہ ہو یا عریانی، فحاشی، منشیات کا استعمال ہو، بد نگاہی، بد نظری، اور ان کے ہوتے ہوئے پیدا ہونے والی حرکات و سکنات، موسیقی، گانوں کے سننے کا معاملہ ہو، شعائر اسلام سے روگردانی یا اسلامی تعلیمات سے انحراف ہو، ترک نماز، روزہ و زکوۃ، اور دیگر نیک کاموں کے کرنے کے سلسلے میں ان کے اقدامات یہ تمام باتیں لائق توجہ، قابل غور و فکر، اور امت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔
نہ عبادت نہ ریاضت نہ مروت نہ خلوص
ہائے کس منہ سے کہوں میں بھی ہوں امت ان کی
ایک انمول نعمت ہے، ایک قیمتی امانت ہے جس کی جتنی بھی قدر کی جائے کم ہے، ان تمام خوبیوں کے باوجود ہر جائی ہے۔ مختصر اور غیر معینہ مدت کا نام ہے۔ چند روزہ فائدہ اٹھانے کی جگہ ہے رب چاہی مطلوب و مقصود ہے، من چاہی معتوب و مغضوب ہے۔ کار آمد بھی اس کو کہا جائے گا جو صحیح سمت میں سچے اصولوں کے مطابق گزاری جائے، حیوانوں اور دیگر اقوام کے طور طریقوں پر گزاری ہوئی نہ ہی مطلوب ہے اور نہ ہی کار آمد۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار بھی مطلوب و مقصود و کا آمد پر ہے۔
گئے دونوں جہان سے ہم، نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
چند کامیابوں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہے، نشیب و فراز، عروج وترقی، دکھ سکھ، خوشی و راحت ، غم و رنج جیسی متضاد کیفیتوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ کا دوسرا نام حرکت بھی ہے۔ انسان کے ہر کام کی منصوبہ بندی کرتا ہے لیکن منصوبہ بند کیلئے نہ ہی کوشش کرتا ہے اور نہ اس طرف اس کا دھیان ہی جاتا ہے۔ منصوبہ بند سے غفلت اور لا تعلقی ہی اس کی کے اجیرن ہونے کا سبب ہے۔ نوجوانوں کی بے راہ روی، ان کی خام خیالی، دین سے دوری، دین کے شعائر سے عدم دلچسپی، غیر منصوبہ بند معاشرتی سے عدم توجہی، یہی حقیقی اسباب ہیں امت کے زبوں حالی کے، قوم کی بدحالی کے۔ ان ہی چیزوں نے ہم سب کا عرصہ حیات تنگ کردیا ہے۔
خبر نہیں کیا نام ہے اس کا خدا فریبی کہ خود فریبی؟
عمل سے فارغ ہوا مسلماں، بنا کے تقدیر کا بہانہ
تاریخ شاہد ہے تجربات اس بات کی غمازی کرتے ہیں اور واقعات یہ بتاتے ہیں کہ بام عروج اور ترقی کے اعلیٰ منازل کو وہی لوگ پہنچے جنھوں نے ذوق و شوق و لگن اور دلچسپی کے ساتھ ساتھ محنت و استقلال کو اپنا شعار بنایا، جدوجہد وجانفشانی کو اپنایا اور کسی منزل کو پانا اور اس منزلِ مقصود کے حصول کے لئے تمام تر قربانیوں کا تحفہ پیش کرنا ان کا وطیرہ رہا۔ ترقی چاہے مادی ہو یا روحانی، علمی ہو یا سماجی ، کسی بھی قسم کی ترقی کے لئے محنت و استقلال کا وجود بے حد ضروری ہے۔ عظیم فلاسفر ، سائنس داں جن کی اں منہ بولتی تصویریں ہیں۔ ولی کامل ، بزرگان دین ، سنت ، صوفی ، علماء و فضلاء ہمارے لئے آئیڈیل (نمونہ) ہیں۔ ان کی اں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ جنھوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا ، سستی و کاہلی ، غفلت و لاپرواہی کو اپنے قریب پھٹکنے نہ دیا۔ وہ یقیں محکم ، عزم کامل اور جہد مسلسل کا پیکر بنے رہے اور اپنے زمانے میں اونچے مقامات اور اعلیٰ مناصب پر فائز رہے۔
بلا عمل تو کسی کو صلہ نہ ملا
وہ چیز کیسے ملے جس کا حوصلہ نہ ملا
نوجوان کی عمرعزیز کا وہ بیش بہا اور گرانقدر حصہ ہے جو خدا کا عظیم انعام اور بے مثال تحفہ ہے۔ جوانی ایک حسین تناسب ہے بادل کی کڑک اور بجلی کی چمک کا ، برسات کے پانی اور دریا کی روانی کا ، پہاڑوں کے جلال اور گلستانوں کے جمال کا ، نخلستانوں کی ہوا اور صبا کی ادا کا ، شبنم کی وارفتگی اور کہکشاں کی دلکشی کا ۔ اور کسی شاعر کی نظر میں نوجوان ؂
اُبھرے تو آندھی ، بپھرے تو طوفان، چٹکے تو غُنچہ ،لرزے تو شبنم
اور دوسرے شاعر کی نگاہ میں ؂
ولولہ ، جوش ، عزم ، حوصلہ ، ہمت ، مختلف نام ہیں جوانی کے
اس نعمت عظمیٰ سے ہم آغوش ہونے والے ’’جواں نسل‘‘ کہلاتے ہیں اور اپنے گھر کا بلکہ قوم و ملت کا سرمایہ افتخار ہوتے ہیں۔ وہ تمام امنگوں کا مرکز اور مستقبل کے امین و پاسدار اور قوموں کے عروج و زوال کا مدار ہوتے ہیں۔
سوسائٹی اور معاشرہ کو اگر جسم قرار دیا جائے تو نوجوان اس سماج کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ میدانِ عزم و جزم کے بزم ور زم کے شہسوار ہوتے ہیں۔ جب بزم سجاتے ہیں تو ملی عظمتوں کی بنیادیں استوار ہو جاتی ہیں۔ قومی تعمیر و ترقی کے چشمے پھوٹنے لگتے ہیں ، عظمت رفتہ پر رنگ نو آجاتا ہے۔ ملکوں کی قسمت جاگ اٹھتی ہے اور اندھیروں کی کوکھ سے تجلی جلوہ گر ہوتی ہے لیکن جس طرح جوانی اپنی ساری لطافتوں کے باوجود ہرجائی ہے اسی طرح نوجوانوں کے بارے میں کسی دانشور نے کہا ہے کہ :’’آدمی برسوں میں جوان ہوتا ہے ، لیکن اگر اپنے اوقاتِ کارکو عمدہ طریقے پر صرف نہ کرے تو گھنٹوں میں بوڑھا ہوجاتا ہے اور جس طرح مالدار کو اس کی کنجوسی ، حاکم کو اس کی لالچ برباد کرتی ہے ، اسی طرح نوجوان کو ا س کی سستی اور کاہلی لے ڈوبتی ہے۔‘‘
کسی نے خوب کہا ہے ؂
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہو بے داغ ضرب ہو کاری
کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے
سانپ کو مار کر گنجینۂ زر لیتا ہے
انسان نے زمین پر قدم رکھنے کے بعد سے لے کر آج تک اپنے اور اپنے خالق کے درمیان روحانی رشتے کی تلاش کا عمل جاری رکھا ہے۔ اس سفر میں اسے جو رہنمائی ملتی رہی ہے اور جو پیغام الگ الگ وقتوں میں ہادیوں ، نبیوں ، رسولوں ، پیغمبروں ، سنتوں اور صوفیوں کے ذریعہ اس کو پہنچتا رہا ، وہ اپنی صداقت اور آفاقیت میں لاثانی ہے۔ دنیا کے سارے ہی مذاہب اپنے ماننے والوں کو محبت و اخلاص ، نیکی و شرافت ، انسانیت و ہمدردی اور عمل صالح کا راستہ دکھا کر ان میں توازن اور اعتدال کا رجحان پیدا کرتے ہیں اور آج کے اس پرخطر ماحول میں انسان کے لئے مذہب سے وابستگی بے حد ضروری ہے اور اس وابستگی کے نہ ہونے کی بناء بے شمار برائیاں جنم پارہی ہیں۔ آج کا انسان اپنے عقائد و معاملات میں اپنی سطح سے اس قدر گر گیا ہے کہ اسے نہ اپنی مذہبی تعلیمات کی پرواہ ہے اور نہ اصولِ کا خیال۔
جہالت میں ہماری قوم جو کام کرتی ہے
اسے دنیا شریعت مان کر بدنام کرتی ہیں
بنا ڈالا ہے ہم نے کھیل شادی کو طلاقوں کو
ہماری یہ حماقت دین کو بدنام کرتی ہے
آج کے ترقی یافتہ مگر پرآشوب اور پرفتن دور میں طبقۂ نوجوان دوسرے میدان میں آگے ہیں یا پیچھے ، اس پر بحث نہ کرتے ہوئے مذہب سے بیزار ہیں یا نہیں، وہ دیگر میدانوں کی طرح اس میدان میں بھی سستی و کاہلی اور غفلت و لاپرواہی میں مبتلا ہیں۔ اس وجہ سے وہ اپنے مذہب کی تعلیمات سے ناآشنا اپنی تہذیب و ثقافت سے نابلد اور اپنے تشخص و شناخت سے بے خبر ہیں اور انہیں اپنے مذہب سے لگاؤ ہے مگر کامل تابعداری ، مکمل فرماں برداری اور اپنے مذہب کی تعلیمات پر کامل طریقے سے عمل پیرا نہیں ہیں وہ اپنے مذہب، پیغمبر اسلام، شعائر اسلام پر مرمٹنے کیلئے تیار ہیں لیکن شرعی احکامات اور اسلامی تعلیمات پر جینے کیلئے آمادہ نظر نہیں آتے۔
نہ چھوڑوگے اگر اعمالِ بد افعالِ شیطانی
نہیں ہوگا کبھی ہرگز تمہارا قلب نورانی