جمہوریت زندہ باد لیکن - ریاض علی خٹک

جمہوریت بے شک زندہ باد ہے. ہمیں اس پر کوئی شک نہیں. آج کے دور میں جمہوریت ہی ایک ایسا رائج معاشرتی نظم ہے جس پر اجماع ہوتا ہے. لیکن اس جمہوریت کی آڑ میں، اس کے خوشنما نعروں میں عوام کو اپنے مضبوط اداروں کے خلاف صف آرا کرنے والوں سے ایک سوال بنتا ہے کہ جناب آپ ہمیں کس نظام کی بقا کے لیے صف آرا کروانا چاہتے ہیں.

فوج میں دو افرادی نظام ہیں. ایک نان کمیشنڈ ایک کمیشنڈ نظام. نان کمیشنڈ میں سپاہی بھرتی ہوتا ہے. اس کے بعد لانس نائیک، نائیک، نائب صوبیدار اور صوبیدار تک ترتیب سے جاتا ہے. ہر ایک عہدے کا حصول مخصوص امتحانات، ایک معین وقت کے بعد ممکن ہوتا ہے. ایک یونٹ میں بہت سے صوبیداروں میں انتظامی قابلیت اور تجربے پر ان کا سربراہ صوبیدار میجر لگتا ہے.

کمیشنڈ نظام میں زیادہ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ افراد سیکنڈ لیفٹننٹ سے لیفٹیننٹ کیپٹن اور میجر بنتے ہیں. اس کے بعد ایک کڑے امتحان کے بعد لیفٹننٹ کرنل سے کرنل بریگیڈئر، میجر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل بنا جاتا ہے. چیف آف آرمی سٹاف سے تو سب ہی واقف ہوتے ہیں.

ہم جمہوریت زندہ باد کے لیے گلیوں میں ٹینکوں کے آگے لیٹنے کو بالکل تیار ہیں. اگر ہمیں کوئی یہ سمجھا دے کہ مریم نواز، بلاول بھٹو، حمزہ شہباز اور بہت سے دوسرے انوکھے لاڈلے کس نظام سے گزر کر آج قوم کے لیڈر بنے ہیں؟ کیا کوئی جمہوری نظام ہے؟ کیا سیاسی جدوجہد کا ان کا ٹریک ریکارڈ قوم کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے؟

بجا کہ جمہوریت کو پنپنے میں وقت لگے گا. اس آس پر بھی ہم جی لیں گے لیکن کیا قوم پر جمہوریت کی اس عظمت کی تقدیس لازم کروانے والے اپنی ذات اور پارٹی میں بھی مثال نہیں بن سکتے؟

شرم تو شرما کر ہمارے معاشرے سے نکل چکی. ہم کسی کو شرم نہیں دلا سکتے. لیکن جناب جمہوریت کی تقدیس کے لیے اس جنگ میں عوامی کاندھے سچ پر حاصل کریں. اس میں عوامی مفاد کو مونگ پھلی کی بانٹ نہ بنائیں. قوم بھی اب کافی مفاد پرست ہوگئی ہے. قدم بڑھاؤ میں اس تضاد کے ساتھ جب پلٹ کر آپ دیکھیں گے تو تنہا ہوں گے.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.