’’ واسع جلیل صاحب! جواب مل گیا ہوگا‘‘ – احسان کوہاٹی

سیلانی کا خیال ہے کہ واسع جلیل صاحب کو اب جواب مل چکا ہوگا اور صرف ایک واسع جلیل ہی کو نہیں، تمام واسعوں کو بہت اچھی طرح جواب مل گیا ہوگا جو بانیان پاکستان کی اولاد ہونے کا ٖڈھول گلے میں ڈال کر اپنے ہی آباء کی ارواح کو شرمندہ کیے دے رہے ہیں۔ پاکستان کے نام پر اپنی حویلیاں، کوٹھیاں، لہلہاتے باغ اور زمینیں و جاگیریں چھوڑ کر قائد اعظم کے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ ان کا نام اس طرح بھی کیش کرایا جائے گا۔

واسع جلیل سے سیلانی کی دوستی تو کبھی نہیں رہی البتہ شناسائی رہی ہے، وہ بھی اس لیے کہ سیلانی کو ایک رپورٹر کی حیثیت سے ایم کیو ایم کی نیوز کانفرنسوں کی کوریج کے لیے عزیزآباد میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو جانا ہوتا تھا۔ سیلانی ان دنوں ایک نیوز چینل سے وابستہ تھا، اس لیے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ایم کیو ایم کی کوئی پریس کانفرنس قضا ہوجائے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کراچی میں ایم کیو ایم کا طوطی بولتا تھا اور ایسے بولتا تھا کہ جب تک ایم کیو ایم کے لیڈر خورشید میموریل ہال میں کیمروں کے سامنے بول رہے ہوتے تھے، پی ٹی وی کو چھوڑ کر تمام چھوٹے بڑے نیوز چینلز اسے براہ راست نشر کرنا فرض سمجھتے تھے اور پوری سعادت مندی کے ساتھ یہ فریضہ ادا کر رہے ہوتے تھے۔ یہ ممکن نہ تھا کہ ایم کیو ایم کی نیوز کانفرنس ہو اور کوئی نیوز چینل نظرانداز کردے۔ یہ سب واسع جلیل کی میڈیا مینجمنٹ کا کمال تھا۔ واسع جلیل ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے بااثر رکن اور میڈیا کمیٹی کے دبنگ انچارج تھے۔ نیوز چینل کے کس شو میں کس راہ نما کو بھیجنا ہے؟ کس سے معذرت کرنی ہے؟ اور کس کو ٹکا سا جواب دینا ہے؟ یہ سب میڈیا کمیٹی طے کرتی تھی۔ ایم کیو ایم کا کوئی لیڈر اپنی مرضی سے کسی نیوز چینل کے پروگرام میں تو کیا اس کے رپورٹرسے کیمرے کے سامنے دس سیکنڈ کے لیے بات بھی نہیں کر سکتا تھا۔ سیلانی نے اپنی آنکھوں سے مزار قائد پر ایک جلسے کی تیاریوں کے دوران فاروق ستار کو ایک نیوز چینل کی رپورٹر سے معذرت کرتے دیکھا ہے اور جب اس رپورٹر نے شکوہ کیا کہ ابھی آپ نے ایک نیوز چینل سے بات کی ہے تواپنے کانوں سے فاروق ستارکو یہ کہتے سنا کہ مجھے اس ہی نیوز چینل سے بات کرنے کے لیے کہا گیا تھا، آپ بھی بات کرلیں، وہ کہہ دیں گے تو میں آپ سے بھی بات کرلوں گا۔

سیلانی کا خیال تھا کہ واسع جلیل ایم کیو ایم کے نظریاتی کارکنان میں سے ہیں اور ان کارکنان میں سے جو یونٹ اور سیکٹر سے ہوتے ہوئے نائن زیرو تک پہنچے ہیں لیکن الطاف حسین کی 22 اگست 2016ء کی وطن مخالف تقریر کے بعد واسع جلیل کے بارے میں سیلانی کا خیال یکسر بدل گیا۔ وہ ایک فلسفے کے نہیں ایک شخصیت کے ماننے والے نکلے۔ انہوں نے اپنے آباء و اجداد کے خوابوں کی تعبیر پر ایک شخص کی مغلظات کو مقدم جانا۔ وہ الطاف حسین کے ترجمان بن گئے، مختلف نیوز چینلز پر ان کی مغلظات کی تاویلیں پیش کرنے لگے بلکہ اس میں پیش پیش رہنے لگے۔ کبھی کہا کہ الطاف بھائی نے شدید جذباتی دباؤ میں 22 اگست کی تقریر کی، وہ مہاجر قوم کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر افسردہ تھے اور جب بات نہ بن سکی تو کہا کہ الطاف بھائی نے معافی بھی تو مانگی ہے، معذرت بھی کی ہے، اسے قبول کر لینا چاہیے۔ واسع جلیل گاہے بگاہے یہی مؤقف لے کر مختلف نیوز چینلز پر نمودار ہوتے رہے اور کوشش کرتے رہے کہ الطاف حسین کی ’’حب الوطنی‘‘ پر سوال نہ اٹھائے جائیں۔ یہ گردان کرتے کرتے نیوز اینکروں اور محب وطن پاکستانیوں سے الجھتے الجھتے واسع جلیل نے جانے کس کیفیت میں گذشتہ ماہ 24 اپریل کو ٹویٹ کر کے اپنے ہی کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ واسع جلیل کا یہ ٹویٹ ایک ’’توبہ تائب‘‘ ہونے والے دوست نے سیلانی کو واٹس اپ کر دیا۔ جسے پڑھ کر سیلانی بس چپ ہی تو ہو کر رہ گیا، واسع جلیل کاکہنا تھا
Altaf Hussain reserves legal right to seek support of Modi under Liaquat-Nehru Pact

یہ بھی پڑھیں:   میری کہانی تنہائیوں کی زبانی - عابد آفریدی

(الطاف حسین لیاقت نہرو معاہدے کے تحت مودی سے مدد کی اپیل کا قا نونی حق محفوظ رکھتے ہیں)

سیلانی نے واسع جلیل کا بیان پڑھ کر اناللہ پڑھا اور ٹھنڈی سانس بھر کر خاموش ہوگیا کہ کسی مناسب وقت واسع جلیل صاحب کی اس دھمکی کا جواب دے گا۔ ان سے پوچھے گا کہ کل تک تو آپ اپنے قائد کی ملک دشمن تقریر کو جذباتی دباؤ قرار دیتے تھے۔ آج آپ کس جذباتی دباؤ کا شکار ہیں جو کھل کر دھمکی دے رہے ہیں کہ ہمارے قائد مدد کی اپیل کے لیے پاکستان اور مسلمانوں کے بدترین دشمن مودی سے مدد طلب کرنے کا قانونی حق رکھتے ہیں۔ لیکن خدا کی شان دیکھیے کہ واسع جلیل کی اس خوش فہمی کو بھارت کے دورے پر گئے ہوئے پچاس پاکستانی بچوں کو گھر سے نکال کر نریندر مودی نے دور کر دیا۔

یہ پچاس بچے جن کی عمریں گیارہ برس سے پندرہ برس تک تھیں، دہلی کی ایک این جی اوکی دعوت پر بھارت کے پانچ روز کے مہمان بنے تھے۔ Routes2Roots نامی این جی او نے پاکستانی بچوں کو بھارت آنے کی دعوت دی تھی اور ظاہر ہے اس نے اپنی اس خواہش سے سرکار کو بھی آگاہ کیا تھا اور ان کی اجازت سے ہی ویزے لگوائے تھے۔ یہ پچاس بچے اپنے پڑوسیوں کے مہمان بننے یکم مئی کو واہگہ پار کر گئے تھے لیکن دوسرے ہی دن بھارت نے انہیں سامان باندھنے کا حکم دے دیا۔ بھارتی وزرات خارجہ کے ترجمان اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی کے سبب یہ وقت اس قسم کے پروگرامات کے لیے مناسب نہیں۔ این جی او کے سربراہ راکیش گپتا کا کہنا تھا کہ انہیں کشمیر میں پاکستانی فوجیوں کی جانب سے دو بھارتی فوجی جوانوں کے مارے جانے کے بعد بچوں کا دورہ ختم کرکے انہیں واپس بھیجنے کے لیے کہا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   میری کہانی تنہائیوں کی زبانی - عابد آفریدی

اس سے پہلے اسی پاکستان نے اسی ملک کا پاسپورٹ رکھنے والے بزنس مین سجن جندال کی ایسے آؤ بھگت کی کہ سارے اصول قواعد ایک طرف رکھ دیے۔ اللہ جانے کہاں ویزہ لگا اور کہاں قانونی تقاضے پورے ہوئے؟ ہوئے بھی کہ نہیں۔۔۔ سجن کو لے کر میاں جی مری کی سرسبز پہاڑیوں پر جا پہنچے۔ ساتھ کھانا کھایا اور وہ سب کچھ کہا سنا جو وزیراعظم ہاؤس میں سننا اور کہنا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے میڈیا سمیت کسی کی بھی تنقید خاطر میں نہ لائی۔ سجن کی آمد کے وقت پاکستان اور بھارت لڈیاں نہیں ڈال رہے تھے،گڈی گڈے کا بیاہ بھی نہیں رچا رہے تھے، نہ یہاں سے لڈو کے تھال جا رہے تھے، نہ وہاں سے جلیبی کی تھالیاں آ رہی تھیں، کشیدگی ایسے ہی تھی، اسی کشیدگی میں جندال کو وی وی آئی پی پروٹوکول دے کر وزیراعظم نے ایک جنجال مول لیا تھا اور بھارت پچاس بچے پانچ روز تک نہ رکھ سکا؟

واسع صاحب! یہ ہیں وہ پتے جن پر آپ کو تکیہ تھا۔ جو مودی پانچ روز کے لیے ہمارے پچاس بچے نہیں دیکھ سکتا، وہ آپ کے کہے پر لاکھوں مہاجروں کے لیے کیا بازو پھیلائے گا؟ ان کی مدد کو آئے گا؟ اور آپ نے ایسا سوچ کیسے لیا جناب؟ جن کے آباء اس وطن کی خاطر اپنے پرکھوں کی دبی ہڈیاں چھوڑ کر چلے آئے تھے، زمینیں جاگیریں چھوڑ آئے تھے، ان کی اولادیں کس طرح پاکستان چھوڑنے کا سوچ بھی سکتی ہیں؟ ہاں یہاں مہاجر نوجوانوں کو شکایات ہیں بالکل ویسے ہی جیسے بلوچ، سندھی، پشتون، پنجابی، گلگتی اور سرائیکی نوجوانوں کو ہیں لیکن یہ شکایات یہاں کے نظام سے ہیں، پاکستان سے نہیں، اور یہ بھارت میں مسلمانوں کا حال اچھی طرح جانتے ہیں جہاں 150ملین کی افواج میں مسلمان بمشکل 29,000 ہیں۔ جہاں حال یہ ہے کہ فیکٹریوں میں مسلمانوں کے ٹفن چیک کیے جاتے ہیں، مسلمانوں کو گاؤ کشی کے الزام میں سرعام قتل کر دیا جاتا ہے اور کوئی پکڑا نہیں جاتا۔

آخری بات! پہلے مودی جی کا دل اپنے مسلمان بھارتیوں کے لیے تو بڑا کروا دیں، وہ دکھاوے کے ہی سہی بھارت میں بسنے والے مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کے بھی وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے ان کے لیے بھی حلف اٹھایا ہے۔ نہرو لیاقت معاہدہ سے زیادہ تروتازہ وہ حلف ہے جو انہوں نے نئی دہلی میں اٹھایا تھا۔ انہیں اپنی جنتا سے کی جانے والی وہ کمٹمنٹ یاد دلادیجیے! شاید وہ آپ کے کہے پر کان دھرتے ہوں۔ یہ سوچتے ہوئے سیلانی نے واسع جلیل کے ٹویٹ پر نظر ڈالی اور طنزیہ اندازسے مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.