چمن بارڈر سے پاکستان کے لیے پیغام - ڈاکٹر اسامہ شفیق

تئیس سال گم ہوگئے.
اے کاش!
کہ کوئی ان کو ڈھونڈ کر لے آئے.

آج وہ لوگ جو افغانستان سے پاکستان پر حملے اور نو بےگناہ افراد کی ہلاکت پر نوحہ کناں ہیں، ان کو شاید ماضی کا علم نہیں یا پھر وہ خود اپنے ماضی پر نادم ہیں. کیا ظلم اس خطے کے عوام کے ساتھ ہوگیا. ربع صدی سے تاریخ کی بھول بھلیوں میں گھومنے والی ریاست پاکستان ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکی کہ دوست کون ہے اور دشمن کون؟

بدقسمتی سے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں سپر پاور کو شکست دینے کے بعد اقتدار کی ہوس نے اس عظیم الشان فتح کے اثرات کو گہنا دیا. ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ ہم نے اس جنگ میں افغان عوام کا ساتھ دے کر درست فیصلہ کیا تھا یا وہ غلط فیصلہ تھا؟ خاص کر ان حالات میں کہ جب مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں سے پاکستان کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں آتی. عرصہ ہوا وہ افغانستان جو پاکستان اور برصغیر کے ساتھ تاریخ میں آٹھ سو سال سے جڑا ہے، اسے یکایک اجنبی بنادیا گیا.

9/11 کیا ہوا، پاکستان نے افغانستان سے اپنی جان اس طرح چھڑائی کہ گویا کبھی افغانستان اور پاکستان میں کوئی تعلق اور اشتراک تھا ہی نہیں. یہ کیوں ہوا؟ اس کے لیے آج سے تئیس سال قبل کے منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے. افغانستان میں روس کی شکست اور سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد یک قطبی سپرپاور کی حیثیت سے امریکہ چاہتا یہ تھا کہ افغانستان میں اس کی مرضی کی حکومت وجود میں آئے. اس مقصد کے حصول کے لیے جہاد افغانستان کے دو مرکزی کرداروں انجینئر گلبدین حکمتیار اور پروفیسر برہان الدین ربانی کو قابو میں کرنے کے لیے پاکستان کے ذریعے دباؤ میں اضافہ کیا گیا، اور بعدازاں اسلام آباد میں مارچ 1993ء میں افغان امن معاہدے کے تحت برہان الدین ربانی کو صدر اور گلبدین حکمتیار کو وزیر اعظم کا قلمدان سونپ دیا گیا، لیکن یک قطبی سپرپاور امریکہ کی خواہش پر افغانستان کو پاکستان کے ذریعے کنٹرول کرنے کی خواہش اور افغان قیادت کی بےصبری اور ہوس اقتدار نے افغانستان کو امریکی گریٹ گیم کے لیے راہ ہموار کرنے دی. دوبارہ خانہ جنگی کی ابتداء امریکی مفادات کے خطے میں تحفظ اور افغان جہاد کے ثمرات کے ضیاع کا سبب بن گئی. افغانستان میں طالبان کا ظہور اور راتوں رات کابل پر قبضہ اور اس کے پس پردہ کردار اب کوئی راز نہیں.

9/11 کے بعد افغان پالیسی پر ایک اور یوٹرن نے پاکستان کو وہاں پہنچا دیا کہ جہاں شاید کبھی سوویت یونین نے بھی نہ سوچا ہوگا. افغان پاکستان پالیسی امریکی بیانیہ کا حصہ بن گئی، اور ہم اس سے اپنی جان چھڑانے میں لگ گئے جس کے نتیجے میں ہم ان لوگوں کے قتل میں شریک ہو گئے جو ہمیں اپنے محسن کے طور پر دیکھتے تھے. اس سے آٹھ سو سالہ برصغیر اور افغان تعلقات نے وہ موڑلیا کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال ملنا ممکن نہیں. اسلامی بھائی چارے کی ڈور میں پروئے ہوئے تاروپود بکھر گئے اور ہم نے اپنے ہی ہاتھوں اور پالیسیوں کے سبب افغانستان میں اپنی مخالف اور بھارت نواز حکومت کی بنیاد رکھ دی. وہ افغانستان پاکستان پالیسی کہ جس سے ہم جان چھڑانے کے لیے اپنے محسنوں کو تہہ تیغ کرتے رہے، وہ پالیسی بھارت نے اپنے دوستوں کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا لی.

ریع صدی بعد کا آج کا منظرنامہ یہ ہے کہ انجینئر گلبدین حکمتیار کابل میں ایک عرصے بعد دوبارہ نمودار ہوئے تو بطور وزیراعظم نہیں بلکہ ان کے دونوں طرف بھارت نواز اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی ہیں. کل حکمتیار کے کابل میں فقیدالمثال استقبال نے جہاں پاکستان کے باسیوں کے لیے اچھے حالات کی نوید دی، وہیں بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی، لہذا آج کا چمن بارڈر سے پاکستان کے لیے پیغام ہے کہ افغانستان کے حکمران حکمتیار نہیں ہیں. مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود پاکستان کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ حکمتیار اب افغانستان میں پورے آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں.

پاکستان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اس خطے کی تاریخ آٹھ سو سال سے افغانستان کے ساتھ منسلک ہے. حال کا ماضی سے گہرا تعلق ہے. اب فیصلہ ہم کو کرنا ہے کہ افغانستان کو اپنا دوست رکھنا چاہتے ہیں یا بھارت کا دوست بنوانا چاہتے ہیں. پالیسیوں کے عدم تسلسل نے دوستوں کو دشمنوں میں تبدیل کردیا خدا کرے کہ افغانستان میں امن قائم ہو، اور وہاں پاکستان دوست حکومت وجود میں آئے. یاد رکھیے کہ افغانستان اور برصغیر کی تاریخ باہم مربوط ہے، اس سے جان چھڑانے کی باتیں کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں.