اردوان کی سلامتی کونسل کے لیے بھارت کی حمایت؟ آصف محمود

طیب اردوان بھارت کے دورے پر آئے، اور سیکولر احباب نے سر پیٹ لیا. ہر تیسرا سیکولر بی جمالو بن کر طعنہ زن ہو گیا کہ دیکھا مولویو! تم بڑا اردوان اردوان کرتے تھے لیکن اس اردوان نے تو بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی حمایت کر دی ہے. بس اس کے بعد جگت بازی، ٹھٹھا اور ہاو ہو کا شور. یہ ویسا ہی شور تھا جس پر اقبال نے گرہ لگای تھی: شور ایسا ہے قصابوں کی ہو جیسے بارات.

حیرت سے میں نے سوچا کہ فکری بد دیانتی کی کوئی حد ہوتی ہے. اردوان اپنی نیشن سٹیٹ کے مفاد کے لیے کوئی کام کریں تو ظاہر ہے حق بجانب ہوں گے کہ ہر حکمران اپنی ریاست کا مفاد سوچتا ہے لیکن اردوان نے ایسی بات کہی نہیں اور سیکولر احباب ”ہے جمالو“ ہوگئے. ہمارے پڑوس میں ہمارے سامنے ایک دورہ ہو رہا ہے اور یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں، تو یہ جو برسوں پرانی تاریخ لکھتے ہیں وہ تو کس حد تک سچ ہو گی.

بھارت میں شور مچا ہے کہ ترک صدر آئے اور کشمیر پر متنازعہ بیان دے دیا. این ڈی ٹی وی پر ترجمان بھارتی وزارت خارجہ گوپال باگلے کا بیان شائع ہوا کہ کشمیر پر ترک صدر نے ہمارا مؤقف سن تو لیا تاہم ان کے تحفظات تھے. بھارت اسے دو طرفہ مسئلہ کہتا رہا اور اردوان ثالثی کی پیش کش کر گئے. بھارت پاکستان کو دہشت گردی کا الزام دیتا رہا اور اردوان نے مان کر نہ دیا.

بھارتی اخبارات میں نے چھان مارے کہ اردوان نے کہاں یہ کہا کہ بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی حمایت کرتے ہیں. یہ اصل میں ٹائمز آف انڈیا کی خواہش تھی جسے خبر کی صورت پیش کیا گیا. اس نے سرخی جما لی کہ اردوان نے بھارت کی حمایت کر دی. متن میں ایسی کوئی بات ہی نہ تھی. اردوان نے اصولی بات کرتے ہوئے سلامتی کونسل کے ڈھانچے کو تنقید کا نشانہ بنایا. ان کے الفاظ یہ تھے:
”ایک اعشاریہ تین بلین کی آبادی کا بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں ہے. ایک اعشاریہ سات بلین کی مسلم دنیا کی آبادی ہے لیکن وہ بھی مستقل رکن نہیں ہے. جاپان جیسی قوم بھی اس کی مستقل رکن نہیں ہے. یہ کوئی صحت مند علامت نہیں. ہمیں سلامتی کونسل میں منصفانہ اور جائز اصلاحات کی ضرورت ہے. "

یہ بھی پڑھیں:   اس دور کا محمد بن قاسم آنے والا ہے - شیراز علی

اردگان کے خطاب کی ویڈیو
http://https://www.facebook.com/RTEUrdu/videos/2283105228581998/

غور فرمایا جائے تو یہ ایک اصولی بات تھی جس کا مقصد سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاحات تھا نہ کہ بھارت کی حمایت کرنا.

لیکن یہاں یاروں نے سربازار می رقصم شروع کر دیا.
خدا کے بندو! اختلاف اپنی جگہ لیکن فکری بد دیانتی سے کام لینا تو چھوڑ دو.
اب یہاں ایک اہم سوال ہے. یہ سیکولر اتنے سادہ تو نہیں. انہیں تو اپنے علم و فضل اور تحقیق پر ناز ہے. تو کیا یہ مولویوں کے بغض میں جھوٹ بول رہے تھے یا یہ ٹائمز آف انڈیا اینڈ کمپنی کے فکری رضاکار ہیں؟

( دونوں لنک حاضر خدمت ہیں)
http://timesofindia.indiatimes.com/india/turkey-president-erdogan-backs-indias-bid-for-permanent-unsc-seat/articleshow/58463784.cms

http://www.ndtv.com/india-news/turkish-president-recep-tayyip-erdogans-controversial-comment-on-kashmir-as-he-visits-india-1688095

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.