حکمتیار کی کابل واپسی - زبیر منصوری

دانا آدمی ہے، رکھنے والے نے نام بھی خوب رکھا ”حکمت یار“

کہتے ہیں ریگستان میں طوفان آ جائے تو لوگ اوڑھ لپیٹ کر اوندھے منہ ریت ہی سے چمٹ کر جان بچاتے ہیں.
کہتے ہیں حکمت صرف اقدام اور اقدام کا ہی نام نہیں، کبھی دانائی اور پسپائی کا بھی باہمی تعلق بڑا حکیمانہ ہوتا ہے.
کہتے ہیں گھاس میں پانی کی طرح رہنا ضرورت ہو تو موجیں مارنا حکمت نہیں جہالت ہے.
کہتے ہیں اصول توڑے نہیں ضرورت پڑنے پر موڑے جا سکتے ہیں.
کہتے ہیں سونامی طوفان کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جانا بہادری نہیں بے وقوفی ہے.

وہ دانا آدمی بھی کہ حکمت سے جس کا خمیراٹھا، اس نے کمال عقل مندی سے ٹھیک وقت پر پس منظر میں چلے جانے کا انتخاب کیا،
وہ جلال الدین خوارزم شاہ کے لشکر کا کوئی زیرک کمانڈر ثابت ہوا،
وہ اور اس کے سبھی ساتھی معرکہ آرائیوں میں رہے بھی اور نہیں بھی رہے،
اس نے عسکریت کا راستہ نہیں چھوڑا مگر صرف اس پر قناعت کرکے نہیں بیٹھا،
اس کے حامیان و کارکنان نے ایک طرف دعوت و تبلیغ کا راستہ چنا، اور آج چھوٹے چھوٹے شہروں میں ہزاروں لوگ ان کے دروس قرآن میں شریک ہوتے ہیں، بالکل ہمارے ہاں کے تبلیغی اجتماعات کی طرح.
حکومتی اداروں میں نفوذ سے بھی وہ غافل نہیں رہے، اس کے ساتھی کابل میں اعلی عہدوں پر ہیں،
افغانستان میں آزادانہ طور پر صدارتی الیکشن میں بھی حصہ لیتے رہے، نائب صدر کے طور پر بھی سامنے آئے.
یوں اس نے اپنے لوگوں کو حسب مزاج پالیسی اختیار کرنے دی، کسی کی نفی نہیں کی، یوں اپنی قوت کو مجتمع رکھا.
وہ گھاس میں پانی کی مانند کابل اور افغان معاشرے کے اندر یوں جذب ہوئے کہ گویا کبھی تھے ہی نہیں.
انہوں نے اپنی توانائی محفوظ رکھی، خود کو مربوط رکھا، مصروف رکھا، زمین سے چمٹے رہے اور ٹھیک وقت کا انتظار کیا.
وہ کٹھ پتلیاں نہیں بنے، سونامی کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہونے سے گریز کیا اور اب جب فتح کا ٹھیک موسم بہار آیا تو
کلیوں کی مانند چٹک رہے ہیں،
ابھر رہے ہیں،
نمودار ہو رہے ہیں،
چہار سو مہکانے کو تیار ہیں،
یہ روشن چہرے، حزب اسلامی۔

یہ بھی پڑھیں:   پون صدی کی لاحاصل جنگ - پروفیسر جمیل چودھری

اور اب حکمتیار کابل واپس پلٹا ہے تو کیا مغربی سفارتکار اور کیا مغرب کے ہی تجزیہ نگار
سبھی کہہ رہے ہیں
کہ وہ بکاؤ مال اور کٹھ پتلی نہیں ہے،
وہ کسی اور کے ہاتھوں میں کھیلنے والا نہیں ہے،
وہ موجودہ افغان قیادت اور طالبان کے مقابلے میں طاقتور نظریاتی رہنما ہے،
وہ سخت گیر اسلامسٹ ہے،
وہ کرشماتی شخصیت کا حامل اور مقبول ترین پختون رہنما ہے،
اس کی پارٹی حزب اسلامی حکومت میں پہلے سے مضبوط پوزیشن میں ہے،
اس کی جڑیں گہری اور عوام میں ہیں اور وہ اس کی قیادت میں سب سے بڑی اور مضبوط ملک گیر پارٹی کے طور پر ابھرے گی،
حکمتیار کی حیثیت کیا حکومت اور کیا عسکریت پسند، سب کے مقابلے میں استاد کی ہے، اور اس کی بات مانی جائے گی.

مجھ کم علم کو نصیحت کرنا بھلا کہاں زیبا؟
مگر اے شہہ سوار!
دائیں بائیں دیکھ بھال کے!
سانپ قابل اعتماد ہو تو ہو مگر یہ؟؟ نہیں! شاید ہرگز نہیں.
دیکھو!
دانائی ہر لمحہ کی ساتھی نہ ہو تو فضیلت کی پگڑیاں بغداد کے بازاروں میں لوٹ کا مال بن جاتی ہیں۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.