افغانستان کا منظرنامہ - محمد حسان

بنجر زمین اور سنگلاخ پہاڑوں کے دیس افغانستان میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ تیز رفتاری سے بڑے بڑے واقعات ہونے لگے ہیں،گزشتہ بیس دنوں کی خبریں حیرت انگیز ہیں۔
حالیہ چند دنوں میں پہلی بار افغانستان اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا جب
(1) روس نے 14 اپریل کو ماسکو میں افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے کانفرنس منعقد کروائی۔ 12 ممالک کی اس کانفرنس کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ اس میں جناب امریکہ بہادر کی شرکت نہیں تھی۔ اس نے دعوت ملنے پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس بلانے سے پہلے مشاورت کیوں نہیں کی گئی۔
(2) کانفرنس سے اگلے ہی روز 15اپریل کو امریکہ نے اپنی موجودگی کا احساس ایسا دلایا کہ ایٹم بم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا بم جسے بموں کی ماں کا نام دیا گیا ہے، افغان صوبہ ننگرہار کے گاؤں میں گرا دیا اور دعوی کیا کہ یہاں داعش کا بڑا ٹھکانہ تباہ کیا گیا، اس حملے میں داعش کے 94 عسکریت پسند مارے گئے۔
(3) ابھی بموں کی ماں کا دھواں چھٹا نہ تھا کہ طالبان نے 21 اپریل کو شمالی صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف کے فوجی مرکز پر بڑا حملہ کر دیا، ’’موسم بہار کی کارروائی‘‘ اس قدر بڑی اور اثر انگیز تھی کہ عالمی میڈیا نے دو سو فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف جبکہ طالبان نے 500 کے مارے جانے کادعویٰ کیا۔گویا طالبان نے جواب دیا کہ ہم بموں کے باپ ہیں۔
ان تینوں بہت بڑے واقعات کا ماحاصل یہ تھا کہ روس نے دیگر بارہ ممالک کو ملا کر کانفرنس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اب خطے میں اس کا نفوذ بڑھ رہا ہے۔ طالبان مذاکرات کریں۔ امریکہ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور متوجہ کیا کہ تم سب لوگوں نے لاحاصل کانفرنس کی ہے، افغانستان کے لیے اب اصل خطرہ داعش ہے جس پر مؤثر کارروائی میں نے کی ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس بم کا انتخاب روس اور شمالی کوریا کو اپنی قہر آلود آنکھیں دکھانا بھی تھا، جبکہ طالبان نے فوجی مرکز پر بڑا حملہ کر کے سب کو اپنی طاقت کا احساس دلا دیا کہ دشمن کے لیے اصل خطرہ آج بھی ہم ہی ہیں۔

اس سارے منظرنامے میں اب تک کا کلائمیکس انجینئر گلبدین حکمت یار کا نمودار ہونا ہے۔ حکمت یار کی واپسی نے اُن سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا جو طالبان سے پہلے کے افغانستان کو جانتے ہیں۔

حکمت یار دھوئیں کے بادلوں اور بارود کی بو سے بوجھل فضا میں نمودار ہوئے ہیں۔ ان کی آمد سے قبل 5 سال سے زائد عرصے تک مذاکراتی عمل چلتا رہا، ان کے سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے پہلے تمام تر اقدامات مکمل کیے گئے، حزب اسلامی اور افغان حکومت کے درمیان گزشتہ برس ستمبر میں کابل کے صدارتی محل میں باضابطہ معاہدے پر دستخط ہوئے، امریکہ سے عالمی دہشت گرد ڈکلیئر کرنے کا اعلان واپس کروایا گیا، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی طرف سے عائد سفری پابندیوں کو ختم اور منجمد اثاثوں کو بحال کروایا گیا، افغان حکومت نے جیلوں میں بند قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی مکمل کی۔ اس کے بدلے حکمت یار نے سیاسی عمل کا ساتھ دینے اور جنگی کارروائیاں بند کرنے کی یقین دہانی کروائی، اور غیر ملکی افواج کی ملک سے واپسی کو سیاسی عمل سے ممکن بنانے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان مفاہمتی عمل کے ادوار، آغاز تا اختتام کیا ہوا - قادر خان یوسف زئی

یہ تمام تر انتظامات مکمل ہونے کے بعد سب سے پہلے ایک کمرے میں حکمت یار کی ملاقاتوں کی تصاویر منظرعام پر آئیں۔ وہی سیاہ عمامہ مگر داڑھی اب مکمل سفید ہو چکی تھی۔ وہ لوگوں سے گلے مل رہے تھے اور بہت سے بزرگ فرط جذبات سے آبدیدہ نظر آ رہے تھے۔ لغمان میں اپنے پہلے خطاب میں انھوں نے طالبان کو امن کارواں میں شمولیت اور ہتھیار پھینک کر لاحاصل جنگ چھوڑ کر مذاکرات کا آغاز کرنے کی دعوت دی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں ایک آزاد، خودمختار، بافخر اور اسلامی افغانستان چاہتا ہوں‘‘۔ اکیس سال کے بعد حکمت یار کے منظرعام پر آنے کو افغانستان کی تمام سیاسی قیادت نے تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا۔

حکمت یار کے کابل پہنچنے کے لیے خاصی تیاریاں کی گئیں، کابل کی سڑکوں میں خوش آمدیدی بورڈز اور استقبالیہ بینرز آویزاں تھے۔ ان کو سینکڑوں گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں کابل لایا گیا۔ سڑکوں کے دونوں جانب شہریوں کی طویل قطاریں ہاتھ ہلاتے استقبال کے لیے موجود تھیں۔ اکیس سال بعد کابل میں حکمت یار کی آمد پر یہ ایک شاندار اور پرتپاک استقبال تھا۔ سرکاری سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی۔ ایک متاثر کن استقبال، انگریزی میں مختصرا جسے اوسم کہہ دیا جائے، کابل کے صدارتی محل میں صدر اشرف غنی، سابق صدر حامد کرزئی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور استاد سیاف کے درمیان سرخ قالین پر چلتے ہوئے حکمت یار کو گارڈ آف آنر دیا گیا۔ اور پھر صدارتی محل میں ہونے والی تقریب میں ان سب نے خطاب کیے. ان سارے مناظر کو افغان اور عالمی میڈیا نے براہ راست دکھایا۔ اس کے بعد حکمت یار عوامی جلسے میں پہنچے جہاں حیران کن طور پر عوام کا جم غفیر اور ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ گویا غیر معروف ہوجانے والی حزب اسلامی کے سب چاہنے والے اپنے آپ کو اتنا عرصہ چھپائے بیٹھے تھے، یا خاموشی سے اپنی قوت مجتمع رکھتے ہوئے گھاس میں پانی کی طرح تیرتے جارہے تھے اور اب وقت آیا تو سروں کی فصل لہلہا رہی تھی۔

حکمت یار کی زندگی عجیب و غریب نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ عروج و زوال کی حیرت انگیز داستان ہے۔ انتھک جدوجہد سے عبارت حکمت یار کی زندگی کے بے شمار گوشے ہیں۔ ایک ایک گوشہ اپنے اندر لاتعداد داستانوں اور گہرے رازوں کو سموئے ہوئے ہے۔
روس کے خلاف افغان جہاد کا آغاز کرنے اور پھر اسے بام عروج تک لے جانے کا دور ۔۔۔!
یہ دور ایک مجاہد ہیرو کے طور پر حکمت یار کی پذیرائی کا دور تھا۔ ہر طرف سے محبتیں اور چاہتیں نچھاور ہوتی رہیں۔ اتنی پذیرائی ملی کہ وہ ایک دیو مالائی کردار کے طور پر جانے جانے لگے۔ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے کارکنوں پر ان کی مقناطیسی شخصیت نے سحر طاری کیے رکھا۔
اس کے بعد روسی فوجوں کی واپسی کے بعد سے حکمت یار کے وزیراعظم بننے تک کا دور ہے۔
یہ افغان گروپوں میں خانہ جنگی، اندرونی و بیرونی سازشوں اور رگ وپے میں زہرگھول دینے والی تلخیوں کا زمانہ رہا۔
اور پھر طالبان کے افغانستان میں رونما ہونے کے بعد حکمت یار کی گمنامی کا دور شروع ہوتا ہے۔ زمین کھا گئی کہ آسمان نگل گیا۔ ایسی گمنامی کہ تذکرہ ہی ختم ہوگیا۔ اور پھر افغانستان میں امریکی تسلط کے خلاف جدوجہد کا دور۔ اس دور میں حکمت یار کے بارے میں مہینوں بعد کوئی خبر تو آجاتی مگر روپوشی کا یہ عالم کہ کوئی گرد بھی چھو نہ سکا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک خط - ڈاکٹر صفدر محمود

اور اب بیس سالہ جلاوطنی، روپوشی اور گمنامی کے بعد منظرعام پر آنے کا دور شروع ہوا چاہتا ہے۔ گزشتہ 20 سالوں کے سب راز حکمت یار کے سینے میں ہیں۔ پاکستان، ایران، سعودی عرب سمیت امریکہ و روس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تہہ در تہہ کرداروں اور کہانیوں کی مؤرخین کو ہمیشہ سے ہی تلاش اور جستجو رہی۔ حکمت یار سب سے بڑا کردار اور رازوں کا امین ہے.

حکمت یار کے دوبارہ منظر عام پر آنے کے حوالے سے جب بھی کوئی خبریں آئیں تو خاص طور پر پاکستانی تجزیہ کاروں نے انہیں زیادہ اہمیت نہ دی۔ انھیں بس ماضی کے ایک کردار کے طور پر ہی دیکھا مگر واپسی پر ملنے والی ’’پذیرائی‘‘ ایک بار پھر سے ماضی کے اس ہیرو کی، مستقبل کے افغانستان میں ’’حکمت کاریوں‘‘ کا پتہ دے رہی ہے۔

افغانستان کے اس سارے منظر نامے میں خاص طور پر حکمت یار کی حکومتی رضامندی سے سیاسی عمل میں شمولیت اور عوامی پذیرائی پر، ستر فیصد علاقے پر قابض افغان طالبان فی الحال خاموش ہیں، جبکہ داعش جمہوری قیادت اور طالبان دونوں سے لڑنے کے لیے پنپ رہی ہے۔ بہرحال چاروں جانب سے بھارتی اثر میں گھری افغان سیاسی قیادت میں حکمت یار کا یوں ابھر کر آنا بھارت کے لیے پریشانی اور پاکستان کے لیے نیگ شگون اور حوصلے کی علامت ہے.

دیکھنا ہے کہ سرزمین کابل کے کھنڈرات میں تیزی سے بننے والی بلند و بالا عمارتوں میں گہرے شیشوں کی چمک پیدا ہوگی یا ایک بار پھر کھنڈرات ان کا مقدر ہیں؟