عقیدہ اور عقیدت کے خوارج - بلال شوکت آزاد

اکثر سوچتا تھا کہ یہ برصغیر پاک و ہند میں خالص اسلام کب ناپید ہونا شروع ہوا اور یہ دیگر اسلامک برانڈڈ مسالک کب اور کیوں وجود میں آئے؟کیوں عقیدہ کی جگہ عقیدت کو داخل مذہب کرکے ابہام و تشکیک پیدا کیے گئے؟تقریباً سبھی مسالک اور مذہبی جماعتوں کے پاس اپنی سچائی بیان کرنے اور دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنے کو کافی "الہامی مواد" اور اپنے مسلک کے اکابر کا "تحقیقی مواد" موجود ہوتا ہے۔میں نے اپنا پہلا قرآن پاک تین الگ مسالک تبلیغی دیوبندی، بریلوی اور دعوت اسلامی کے اساتذہ کے پاس پڑھ کر مکمل کیا تھا۔ دیوبندی اور بریلوی اساتذہ سے تو یہی پتہ چلا کہ ہم سبھی مسلمان ہیں لیکن پہلی دفعہ لفظ فرقہ اور مسلک سے واقفیت مجھے دعوت اسلامی والوں نے کروائی۔ بتایا گیا کہ بعد میں آنے والے اکابرین کی تحقیق میں فرق نے مسالک اور فرقوں کی بنیاد رکھی اور یہ کہ 70 سے زائد فرقے ہوں گے اور ایک ہی سچا اور جنتی ہوگا۔(واللہ علم)

بچپن کراچی میں گزرا جہاں بھانت بھانت کی نسل، زبانوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے آباد ہیں۔ ہمارے اپارٹمنٹس میں کل 16 گھر تھے اور سبھی مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اور زبانیں بولنے والے تھے۔ سوچ اور مذہبی افکار کی جدائی کے باوجود ہم متحد تھے اور اسی طرح دوسرے بلاکس میں بھی یہی صورت حال تھی۔

یہ گزشتہ صدی کے بالکل آخری سالوں کی بات ہے۔ ہماری آبادی پاکستانی سوچ کی عکاسی کرتی تھی۔ محرم سے لے کر ذوالحج تک ہر اسلامی ماہ میں آنے والے تہواروں میں سبھی پیش پیش ہوتے۔ خود اس تہوار کا تعلق کسی بھی مسلک سے کیوں نہ ہو، ہر گھر اس میں فراخدلی سے شریک ہوتا تھا۔ گھر کے سربراہ سے لے کر بچہ تک ایک دوسرے کے عقائد یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ عقیدتوں کا احترام کیا کرتا تھا۔ وہاں کے دس، گیارہ سالہ طویل قیام میں میرا کسی بھی مسلکی یا سیاسی بحث سے سامنا نہیں ہوا، نہ ہی کسی دو مسلک والوں کا میں نے کبھی جھگڑا دیکھا۔

پھر نائن الیون کے بعد مسلکی اور سیاسی بنیادوں پر بے چینی کی لہر میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا۔ پہلے اختلاف دلوں میں کہیں بہت اندر تھا اور پھر کھل کر سامنے آنے لگا۔ رہی سہی کسر "آزاد میڈیا" نے پوری کردی۔بریکنگ نیوز کی نحوست نے اس قوم کو کراچی کے شیعہ سے لیکر خیبر کے دیوبندی تک کے ظلم و زیادتی اور مظلومیت دونوں سے آگاہ کردیا اور پھر جو اپنے عقیدتی و مسلکی بہن بھائیوں کی مظلومیت کا بدلہ لینے کا سلسلہ شروع ہوا وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

اس سے بڑھ کر امت کا درد غلط انداز میں پیش کرنے اور سمجھنے تک چلی گئی۔پھر مسلک کی جنگ میں فوج بھی شک کے دائرے میں آگئی۔ خود ساختہ جہاد نے دلوں اور ذہنوں کو جکڑ کر ایسا قید کیا کہ اسلام جو بہت تھوڑی مقدار میں مسلکی لبادے میں لپٹا ہوا دلوں میں موجود تھاوہ بھی جاتا رہا۔

پھر تاریخ کی کتابوں میں درج اصلاحات خوارج اور خارجیت سے ملک کا ہر بوڑھا، جوان اور بچہ واقف ہوگیا۔صرف واقف ہی نہیں ہوئے بلکہ ان اصلاحات کے عامل اور ان سے متعارف کرانے والوں کے بے جا غیض وغضب کا شکار بھی ہوئے۔

پھر قوم دوراہے پر آ گئی کہ کون مردار ہے اور کون شہید؟کون مسلمان ہے اور کون کافر؟

مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ عقائد پر لڑنے مرنے والے اسلام کی کون سی خدمت کر رہے ہیں اور کس دعوت کو عام کر رہے ہیں؟ کیا انہی فروعی و اجتہادی جھگڑوں نے اسلام کو پس پشت نہیں کردیا؟کیا الحاد کی بنیاد بھی جانے انجانے میں عقائد کا فرق پیدا کرنے والوں نے نہیں رکھ دی تھی؟کیا قرآن و حدیث اور فقہ کو غلط انداز میں سمجھ کر تکفیر اور تشکیک کا سہارا لیکر قتل و غارت گری کرنے والے ہی خوارج ہیں؟ بر صغیر پاک وہند کے مقابلے میں مشرق وسطیٰ میں کتنے مسلک اور جماعتیں ہیں ؟ ماسوائے شیعہ سنی اور سلفی کے؟ عرب ملکوں میں کتنے الحادی و دہریے ہیں ؟

میں نہ کسی مسلک کو صحیح کہہ رہا ہوں نہ کسی کو غلط بلکہ میری رائے یہ ہے کہ اگر فرقہ واریت کو ختم کرنا ناممکن یا مشکل ہے اور ایک عقیدہ توحید یا اسلام پر اجماع نہیں کرنا تو کم از کم ایک دوسرے کی عقیدتوں کا ہی احترام کرنا شروع کردیں۔ اس طرح مل کر ایک قوم ایک پر امن معاشرے کی بنیاد تو رکھی جا سکتی ہے کہ وہ بھی عبث ہے؟

اس سوال کا جواب ضرور تلاش کریں قبل اس کے کہ آپ عقیدہ اور عقیدت کے خوارج بن کر دنیا چھوڑ جائیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */