امام بخاری اور غامدی صاحب - فضل ہادی حسن

امام بخاری کی کتاب ’’صحیح البخاری‘‘ یا ’’بخاری شریف‘‘ یا اس کا ’اصلی اور پورا نام ‘وہ کسی بھی طرح قرآن کے برابر نہیں ہے اورنہ آج تک کسی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بخاری شریف کوقرآن کے برابر سمجھا جائے۔ بلکہ صحیح احادیث کے حوالے سے بھی اما م بخاری یا کسی اور محدث سے ثابت نہیں کہ بخاری کے علاوہ صحیح احادیث نہیں ہیں۔ خود امام بخاری نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا ہے اور نہ کرسکتے تھے کہ جو احادیث انہوں نے چھوڑی ہےان کی اکثریت ضعیف یا ساری کی ساری من گھڑت تھیں۔ امام بخاری اپنی کتاب کی تصنیف سے فراغت کے بعد کہتے ہیں ’’وما ترکت من الصحیح اکثر ‘‘ کہ صحیح احادیث جو میں نے درج نہیں کیں، وہ زیادہ ہیں (ھدی الساری،ج1، ص18)۔ امام بخاری کے شاگرد ابراہیم بن معقل النسفی اپنے استاذ سے نقل کرتے ہیں کہ امام بخاری ؒکہتے تھے کہ ’’ میں نے سب صحیح احادیث اس لیے درج نہیں کیں کہ کتاب بہت لمبی نہ ہوجائے۔ (تاریخ بغداد، ج: ۲، ص: ۳۲۲، طبع: دار الغرب الاسلامی، بیروت)۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ بخاری کو کوئی مقام اور مرتبہ حاصل نہیں ہے بلکہ یہ کتاب قرآن کے بعد اسلامی کتب میں سے سب سے زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہے اور امت کے بڑی جماعت نے اس پر اتفاق بھی کیا ہے۔

اب اگر کچھ لوگ بخاری کی احادیث پر اعتراض اٹھاتے ہیں کہ چھ لاکھ میں سے سات ہزار سے کچھ زیادہ احادیث کا انتخاب کیوں کیا ؟ کچھ تو مذاق میں ایسے آگے چلے جاتے ہیں کہ اگر وہ اپنے آباء واجداد کے کارناموں کا ذکر کرنے شروع ہوجائیں تو عمر اور کارنامے کیلکولیٹ نہیں ہوں گے لیکن امام بخاری سمیت کسی بھی فقیہ و محدث کی کتب، زبانی یاد احادیث کو ان کی عمر،ذاتی زندگی اور ضروریات سے کیلکولیٹ کرنا شروع کر دیں گے۔ ویسے کم احادیث کو نقل کرنے کی ایک وجہ کا تو اوپر ذکر ہوا لیکن چھ لاکھ احادیث کے بارے میں امام بخاری یا دیگر محدثین کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ چھ لاکھ احادیث کی ایک سند(Chain)تھی، بلکہ ایک حدیث کی دو سو سے زائد سندیں بھی تھیں۔ اس طرح ان چھ لاکھ اسانید سے امام بخاری نے ان اسانید و طرق کا انتخاب کیا جو بخاری کے اندر موجود ہیں۔

محترم جاوید غامدی صاحب ایک دانشور اور تحقیق کے میدان سے تعلق رکھنے والے انسان ہے۔ضروری نہیں کہ ان کی ساری باتوں سے اختلاف یا مکمل اتفاق کیا جائے۔ان کی تحقیق ردی کی ٹوکری کی لائق ہے اور نہ اسے حرف آخر اور قرآن کے بعد قابل تعظیم۔ اگست 2014 میں غامدی صاحب اوسلو، ناروے تشریف لائے تھے۔ حدیث کے بارے میں ان کا مشہور موقف ہے اس وجہ سے ایک نشست میں ان سے احادیث کے انکار اور دیگر موضوعات پر بات ہوئی۔ میں نے بخاری کے بارے میں پوچھا تو غامدی صاحب کا جواب تھا "میں نے بخاری کا ایک سال تنقیدی جائزہ و مطالعہ کیا ہے اور اس غرض سے مطالعہ کیا کہ مجھے بخاری میں کوئی نقص یا غلطی مل جائے لیکن مجھے نہیں ملی " اور یہ جملہ انہوں نے بڑے پُراعتماد لہجے میں دہرایا۔

غامدی صاحب تحقیق اور کتابوں کے درمیان میں رہنے والے وسیع المطالعہ انسان ہے۔ ان کی رائے سے ہمارا بھی اختلاف یا اتفاق ہوسکتا ہے لیکن یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی محقق جب اپنی تحقیق کےلیے کسی کتاب کا ’ تنقیدی جائزہ‘ لینے کا انتخاب کرتا ہے تو وہ ضرور اپنی تحقیق کو بارآور ثابت کرنے کے لیےاس کتاب میں کوئی نہ کوئی کمزوری یانقص نکالنے کی نشاندہی کی کوشش(تاکہ ایک نئی تحقیق کہلائی جاسکے) کرتا ہے۔ میں اس حوالے غامدی صاحب کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتاکہ انہوں نے کھل کر بخاری کے بارے اپنی تحقیق اور مطالعہ کا ذکر کر دیا۔انہوں نے ضرور چھ لاکھ احادیث میں چند ہزار کا انتخاب، اتنی بڑی تعداد میں حفظ شدہ احادیث، ان کی عمر اور ذاتی زندگی کے علاوہ بظاہر عقل سے متصادم احادیث کا بھی مطالعہ کیا ہوگا، لیکن غامدی صاحب اس ’’فنی‘‘کتاب پر اعتراض و تنقید نہیں کی۔ غامدی صاحب نفس حدیث کے بارے میں ایک ’خاص‘ موقف رکھنے میں اتنے بے باک واقع ہوئے ہیں جو جمہور علماء کی رائے سے مکمل الگ ہے تو بخاری میں کوئی نقص ملنے پر وہ خاموش کیسے بیٹھ سکتے تھے ؟لیکن ان سے تعلق رکھنے والے ان کے شاگرد یا شاگردوں کے شاگر ایک طرف کھل کر حدیث کو ہد ف تنقید بناتے نظر آئیں گے تو دوسری طرف حدیث کے ائمہ اورکتب کو بھی نشانہ بنائیں گے۔

بخاری سے ’بخار ‘کا مسئلہ بالکل ان چھوٹے بچوں جیسا ہے جو بچپن میں کسی سایہ وغیرہ کے ڈر و خوف سے ’بخار‘ کا شکار ہوجاتے ہیں، بس فرق صرف اتنا سا ہے کہ بچے ’من کے سچے‘ ہونے کے ناتے چھپا تے نہیں اور بخاری سے ’بخار‘ والے چھپاتے ہوئے ’انکار‘ بھی کرتے ہیں۔