تاریخی فکشن: ادب کی صنف یا دشمن کو بدنام کرنے کا ہتھیار - تزئین حسن

تاریخ عموماً خشک مضمون ہوتا ہے لیکن اسے فکشن یا فلم کی صورت متعارف کرایا جائے تو یہ عام آدمی کے لیے دلچسپی کا باعث ہو جاتا ہے۔ اسی حوالے سے فی الوقت ادب کی ایک صنف دنیا میں بہت مقبول ہے جسے ’ہسٹوریکل فکشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں تاریخی واقعات، مقامات اور کرداروں کو لے کر پلاٹ میں غیر حقیقی یا افسانوی واقعات اور کرداروں کا اضافہ کر کے، ماضی کے واقعات، ثقافت اور سماجی زندگی کو دلچسپ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناول یا مختصر افسانے سے لیکر فلم، تھیٹر، ڈرامے اور وڈیو گیمز تک میں اس کا استعمال بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔

ہسٹوریکل فکشن کی ایک دلچسپ مثال انارکلی نامی کردار پر مبنی واقعہ ہے جس کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں تھا۔ جہانگیر کے ہم عصر مؤرخین کے علاوہ خود جہانگیر نے بھی اپنی خود نوشت تزک جہانگیری میں اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ یہ ایک انگریز ولیم فنچ کے ذہن کی اختراع تھی جسے عبدالحلیم شرر نے داستان کی شکل دی۔ یاد رہے کہ شرر نے کتاب کے دیباچے میں واضح طور پر اسے افسانہ یعنی فکشن کہا ہے۔ بعد ازاں1922ء میں امتیاز علی تاج نے اسے ڈرامے کی شکل دی اور بالی وڈ نے اسے متعدد بار سلور سکرین کی زینت بنایا۔ دلیپ کمار اور مدھو بالا کی مغل اعظم اس تاریخی افسانے پر مقبول ترین فلم ثابت ہوئی۔ یہ اس صنف کی طاقت ہے کہ انارکلی نامی قطعی افسانوی کردار برصغیر پاک و ہند میں اکبر اور جہانگیر کی پہچان بن گیا۔

اسی طرح بہت سے لوگوں کو یہ پڑھ کرحیرت ہوگی کہ مغل ریکارڈز کے مطابق اکبر کی 34 بیویوں میں کسی کا نام جودھا بائی نہیں تھا۔ انارکلی کی طرح یہ نام بھی ایک انگریز کرنل ٹوڈ نے اپنی کتاب Rajhistan of Annals and Antiquity میں تخلیق کیا۔ واضح رہے کہ کرنل ٹوڈ کوئی تاریخ دان نہیں تھا۔ اکبر کی تین تاریخوں ابوالفضل کی اکبر نامہ، بدایونی کی منتخب التواریخ اور نظام دین احمد کی طبقات اکبری میں کہیں بھی جودھا کا ذکر نہیں۔ مگر’ جودھا اکبر‘ نامی فلم کی کامیابی کے بعد کس کو اس بات کا یقین آئے گا؟ جہانگیر کی ماں ایک راجپوت راجکماری ضرور تھی مگر اس کا اصل نام ہیر کنور تھا اور شادی کے بعد مریم زمانی بیگم۔ اندرون لاہور میں اس نے ایک مسجد بھی بنوائی جو آج بھی موجود ہے۔ مغل ریکارڈز میں یہ بات بھی مذکور ہے کہ ایک دفعہ مریم زمانی نے حاجیوں اور تحائف سے بھرا ایک جہاز مکہ مکرمہ بھجوایا جسے پرتگالیوں نے لوٹ لیا۔ جہانگیر ان کے خلاف فوج کشی کے لیے نکلا، اس نے گوا کے قریب دمن نامی شہر پر قبضے کے علاوہ کچھ پرتگالی کلیساؤں کو بھی مسمار کرنے کا حکم دیا۔ آج کے انتہاپسند بھارت میں جودھا کو اکبر کی سیکولر پالیسیوں کی سرپرست قرار دے کر تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تاریخی فکشن کے ذریعہ یہ لڑائی آدھی سے زیادہ جیتی جا چکی ہے۔

ہمارے یہاں آغا حشر کاشمیری سے لیکر امتیاز علی تاج اور قرۃ العین حیدر اور نسیم حجازی تک، بہت سے لکھاریوں نے اس میدان میں کامیاب طبع آزمائی کی۔ الیاس سیتاپوری اس صنف پر سسپینس ڈائجسٹ میں مسلسل کئی سال لکھتے رہے مگر ان کے کام کو ڈایجیسٹیزم یا پلپ فکشن سمجھ کر نظر انداز کیا گیا۔ یاد رہے کہ نسیم حجازی کے ہر ناول میں تاریخی کرداروں کے علاوہ ایک سائیڈ ہیرو ضرور ہوتا تھا جس کو لے کر وہ کہانی کو آگے بڑھاتے تھے۔ بعض نقادوں کو ان کے پلاٹ ادبی لحا ظ سے کمزور محسوس ہوسکتے ہیں مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک عام پاکستانی اگر بغداد یا غرناطہ کے سقوط کے بارے میں کچھ جانتا ہے تو اس میں ان ناولوں کا بڑا کردار ہے۔

ہمارے بعض لبرل دانشور اقبال کی شاعری کی طرح نسیم حجاری کے ناولوں کو بھی ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی میں اضافہ کا سبب گردانتے ہیں، مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 11ستمبر2001ء تک پاکستان میں صرف ایک خود کش حملہ ہوا تھا جو القاعدہ نے مصری سفارت خانے پر کیا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اب نسیم حجازی کے ناولوں کو پڑھنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے، کم از کم وزیرستان کے پاکستانی طالبان ان کے ناول نہیں پڑھتے۔ جس وقت ان کے ناولوں کی بنیاد پر بننے والے ڈرامے ٹی وی پر چلتے تھے، اس کے 20 سال بعد بھی خود کش حملے شروع نہیں ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کی ایک بہت ہی خوبصورت عادت "ادب سے عروج کی داستان"

اکیسویں صدی کے اوائل میں مقبول ہونے والی فلم Gladiator جسے متعدد آسکر ملے، وہ تاریخ پر نہیں بلکہ تاریخی افسانے پر مبنی تھی۔ یہ درست ہے کہ مارکوس اوریلئس نامی رومی بادشاہ کے ایک بیٹے کموڈوس کے خلاف اس کی بادشاہت کے دوران تختہ الٹنے کی کچھ ناکام سازشیں ہوئیں مگر ہیرو کے طور پر ہسپانوی سپاہ سالار کا کردار قطعی فرضی تھا، اور غالباً تاریخ کے ایک دوسرے واقعہ اسپارٹا (ایک یونانی شہر) میں غلاموں کی بغاوت سے لیا گیا ہے۔

فکشن کو آسمانی صحیفوں میں مذکور واقعات کو فلمانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ Gladiator ہی کے ہدایت کار رڈلی اسکاٹ کی 2014ء میں بائبل کے ایک باب پر مبنی فلم Exodus: Gods and Kings پر بہت تنقید ہوئی کہ اس کا پلاٹ متعدد مقامات پر بائبل سے انحراف کرتا ہے اور فلم مذہب بیزاری کا پرچار کرتی ہے۔ فلم کا تعلقBiblical Epic نامی صنف سے تھا۔ ہمارے نزدیک غیر حقیقی عناصر کے اضافے کی وجہ سے اسے ببلِیکل فکشن کا نام دینا چاہیے۔ یاد رہے ہسٹوریکل فکشن میں مصنف کے پاس بہت آزادی ہوتی ہے، وہ اصل واقعات کے ساتھ جو چاہے اضافہ کر سکتا ہے مگر آپ حقیقی تاریخ پر ناول لکھنے یا فلم بنانے کا دعویٰ کریں تو آپ کو تاریخ کے ساتھ دیانت دار ہونا پڑتا ہے ورنہ نقاد آپ کے کام کو مسترد کر سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بسا اوقات فکشن اور نان فکشن یعنی افسانے اور حقیقت کی سرحدیں آپس میں مدغم ہو جاتی ہیں۔ایک عام ذہن تاریخ اور تاریخی فکشن کے اس نازک فرق کو محسوس نہیں کر پاتا اور اسے پورا سچ مان لیتا ہے۔ مغرب میں خصوصاً اس صنف کو دوسری قوموں کو بدنام کرنے کے لئے پروپیگنڈا کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

ہالی ووڈ اور بعد ازاں بالی ووڈ نے اس صنف کو بہت بے دردی سے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا۔ امریکی CBS نیوز کے ایک سابق مڈل ایسٹرن کنسلٹنٹ جیک شیہان نے اپنی کتاب Real Bad Arabs میں ہالی ووڈ کی متعدد ایسی فلموں کی نشاندہی کی جس میں قصداً غیر محسوس طریقے سے عربوں کو وحشی اور ظالم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کہنے کو یہ فلمیں ہی ہوتی ہیں مگر ان کے دیرپا اثرات دیکھنے والوں کو ولن کی قوموں کے خلاف نسل پرستی پہ ابھا رتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ خصوصاً American Sniper نامی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم کے بعد سامنے آیا، جب فلم بینوں نے ٹویٹر پر عراقیوں کے خلاف نسل پرستانہ ٹویٹس کے ذریعے اپنی نفرت کا برملا اظہار کیا، کیونکہ فلم میں عراقی بچوں اور عورتوں کو بھی دہشت گردوں کے طور پر پیش کیا گیا اور فلم کے آغاز میں کچھ ایسا تاثر دیا گیا تھا جیسے وہ نائن الیون کے ذ مہ دار ہوں۔ درحقیقت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر عراق پر جو حملہ کیا گیا، اس کے نتیجے میں اصل مظلوم عراقی تھے نہ کہ امریکی۔ نائن الیون سے عراقیوں کے تعلق کی بات تو کبھی پینٹاگون نے بھی نہیں کی۔

یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ تاریخی فکشن پر مبنی ایسی فلموں یا ناولوں کو آسکر سے نوازا جاتا ہے یا ’نیویارک ٹائمز‘ کا بیسٹ سیلر قرار دیا جاتا ہے جو مغرب کے کسی مخصوص ایجنڈے کو پورا کر رہی ہوتی ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ پچھلے دنوں خالد حسینی کے ایک ناول Kite Runner کو ’نیویارک ٹائمز‘ کا بیسٹ سیلر قرار دیا گیا، بعد میں اس پر فلم بھی بنائی گئی۔ کہانی بظاہرایک افغان بچے کی ہے جو 1979ء کی روسی جارحیت کے بعد امریکا منتقل ہو گیا تھا مگر بہت غیر محسوس طریقے سے اس میں افغان طالبان کے مظالم کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ ایک طرف انھیں اسلامی سزائیں دیتے ہوئے ولن کے طور پر پیش کیا گیا۔ دوسری طرف ہم جنسی اور بچوں کے ساتھ زیادتی کا برملا عادی دکھایا گیا۔ طالبان کے کردار کے یہ دونوں پہلو واضح طور پر ایک دوسرے سے متصادم ہیں مگر ایک عام آدمی ان تضادات کو محسوس نہیں کر سکتا۔

فکشن میں ایک دفعہ کسی فرد یا قوم کو ولن بنانے کے بعد ہیرو اسے جتنا پیٹے، لوگ اس پر تالیاں ہی بجاتے ہیں۔ لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفیرکی ہلاکت پر بنائی جانے والی فلم Thirteen Hours میں امریکی سپیشل فورسز کونہایت بےدردی سے لیبیا کے عوام کو ہلاک کرتے ہوئے دکھایا گیا جیسے وہ انسان نہیں کسی دشمن سیارے کی مخلوق ہوں۔ ایک امریکی فلمی نقاد نے تبصرہ کیا کہ اسے فلم کے بجائے ویڈیو گیم ہونا چاہیے تھا اور صرف سکرین پر ڈیتھ کاؤنٹ نمودار ہونے کی کمی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   دیوارِ شب کے پار- سائرہ نعیم

American Sniper, Thirteen Hour, Kite Runner یہ تینوں بھی ایک طرح سے ہسٹوریکل فکشن کے ذیل ہی میں آتی ہیں کیونکہ روس اور امریکا کے افغانستان پر حملے کی طرح، عراق پر امریکی حملہ، اور لیبیا سے قذافی کا سقوط بھی اب تاریخ کا ایک باب ہوگیا ہے۔ امریکا اور نیٹو کی مشرق وسطیٰ میں فوجی کاروائی کو جائز قرار دینے کے لیے یہ فلمیں بہت ضروری ہیں اور ان کا سلسلہ بہت عرصے سے جاری ہے۔

’لارنس آف عریبیا‘ نامی فلم کے آغاز میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک عرب دوسرے عرب کو محض اپنے کنویں سے پانی پینے پر گولی مار دیتا ہے۔ اگر عرب واقعی ایک دوسرے کو پانی کے مسئلے پر ہلاک کرنے کے عادی ہوتے تو شاید آج عرب نام کی قوم دنیا میں موجود نہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ لارنس کے ساتھ ساتھ بے شمار مغربی سیاحوں اور مہم جوؤں نے عربوں کی ناقابل یقین مہمان نوازی کا اعتراف کیا ہے مگر پاپولر میڈیا کبھی اس پہلو پر روشنی نہیں ڈالتا۔

دوسری طرف مغربی ہیرو کو بلاجھجک عربوں کو قتل کرتے دکھایا جاتا ہے جس کی بعض اوقات پلاٹ میں بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ انڈیانا جونز سیریز کی پہلی فلم میں جونز کو ایک مجمع میں ایک مقامی کو محض اس لیے گولی مارنی پڑی کہ مراکش میں شوٹنگ کے دوران اسے اسہال کی بیماری ہو گئی تھی اور وہ زیادہ دیر تک سیٹ پر نہیں رک سکتا تھا ورنہ اصل سین میں مزید فائٹنگ تھی۔

مغربی ناظرین کی طرح ہم بھی ان کرداروں سے لطف لیتے ہیں کیونکہ افسانے کی طاقت سے جب کسی قوم یا فرد کو ایک دفعہ ولن یعنی ”دہشت گرد“ اور ”انتہا پسند“ قرار دے دیا جائے تو پھر اس کے پٹنے پر لوگ تالیاں ہی بجاتے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس درحقیقت انھیں فلمی کرداروں کی حقیقی شکل تھا۔ اسی طرح پروپیگنڈے کے بعض دوسرے ہتھیار بھی فکشن اور نان فکشن میں استعمال کیے جاتے ہیں مگر ان کا تذکرہ پھر سہی۔

بعض اوقات کسی مخصوص ایجنڈے پر کام کرنے والے مصنفین بھی اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سلمان رشدی نامی بھارتی نژاد مصنف نے مغرب کی قبولیت حاصل کرنے کے لیے اس صنف کا بہت غلط استعمال کیا۔ Verses Satanic نامی کتاب سے پہلے بھی (جس پر ساری دنیا کے مسلمانوں نے احتجاج کیا) اس کی ایک کتاب پر اسے اندرا گاندھی کی طرف سے لندن کی ایک عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ مزے کی بات یہ کہ اس مقدمے کے نتیجے میں اسے Midnight's Children نامی اپنی کتاب کے نئے ایڈیشن سے قابل اعتراض مواد نکا لنا پڑا مگر مسلمانوں کے احتجاج پر مغرب نے کان نہ دھرے بلکہ الٹا اسے آزادی اظہار رائے کا ہیرو بنا کر نوازا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آزادی اظہار پر قدغن قرار دینا تو دور کی بات اندرا گاندھی والے مقدمہ کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔

حقیقت یہ ہے کہ سردست بین الاقوامی سطح پر اس اہم صنف کے اصول و ضوابط طے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نسل پرست قومیں اسے دوسری قوموں اور نظریوں کو بدنام کرنے کے لئے استعمال نہ کر سکیں۔ اس صنف کے غلط استعمال کے لئے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے تاکہ اس کا استحصال کرنے والے کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ مغرب میں اس حوالے سے کچھ قوانین موجود ہیں(جیسا اندراگاندھی کیس میں دیکھا گیا) مگرمسلمان اپنی کم علمی کی وجہ سے اس کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

اردو ادب میں تاریخی فکشن درحقیقت کوئی نئی صنف نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں اس صنف کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کی یہ مستحق تھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر میں ہمارے ہاں بھی تخلیقی ادب اور فلم میکنگ کے ادارے قائم ہوں جہاں باصلاحیت بچوں، بڑوں کو ان فنون کی تعلیم دی جائے جس کے ذریعہ نئی نسل کا ناتا اس کی تاریخ سے جوڑا جائے۔ جو قوم اپنی تاریخ کو بھول جاتی ہے، تاریخ بھی اسے فراموش کر دیتی ہے۔