بھاگ لے - معلمہ ریاضی

دروازے پہ دستک ہوئی۔ کھولا تو محلے کا ایک بچہ کھڑا تھا، ہم پہ نظر پڑتے ہی بولا، ’۔۔۔۔۔ ڈبو کھیل رہا ہے، میں نے کہا کہ آپ کو بتا کر آتا ہوں تو بولا جاؤ جاؤ بتا دو‘
ہم نے دروازے سے سر آگے نکال کر ڈبو کی دکان پہ نظر ڈالی، ’کہاں ہے؟‘
’بھاگ گیا، آپ کو دیکھ کر‘
ہم دو قدم آگے بڑھے اور ہاتھ بڑھا کر آنے والے بچے کا کان پکڑ کے کھینچ کرکہا، ’تیری بھی شکایت سنی ہے میں نے۔۔۔ اب اگر ڈبو پہ نظر آیا تو بہت ماروں گی‘
صاحبزادے کھسیانی ہنسی ہنستے واپس چلے گئے
ــــــــــــــــــــــ
’۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھ نہیں رہا، گلی میں بیٹھا ہے‘
’۔۔۔۔۔۔۔۔ آج پھر کام پہ نہیں گیا‘
’۔۔۔۔۔۔۔۔ محلے کے پاگل کو تنگ کر رہا تھا‘
ــــــــــــــ
ہماری ہمشیرہ جو خیر سے ہماری ہم محلہ ہیں، جیسے ہی محلے کے کسی بچے کو کوئی غلط حرکت کرتا دیکھتی ہیں فوراً سے پیشتر ہمارے پاس شکایت لگانے آجاتی ہیں۔ کیونکہ ہماری خطا یہ ہے کہ مزکورہ بالا بچے یا تو ہمارے موجودہ شاگرد ہیں یا ہم سے پڑھ کر جا چکے ہیں۔
پچھلے دنوں ایک والدہ بھی تشریف لائیں اپنی صاحبزادی کی شکایت لیکر کہ وہ ہر وقت گانے سنتی رہتی ہے، منع کریں اس کو۔۔
ہم نے عرض کیا، ’ہم نہیں منع کر سکتے، اس عمر میں ہم خود گانے سنتے تھے، ہاں دعا کریں گیں کہ بچی کی عادت جلد ختم ہوجائے‘۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
ہماری رہائشی گلی میں ایک گھروالوں نے ڈبو کی دکان کھول لی ہے۔ محلے میں کسی میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ ان کو منع کرے ۔۔۔۔ اور منع کریں بھی کیسے ۔۔۔۔ نہیں مانیں گے تو ہم شکایت لیکر کہاں جائیں گے؟ یا تو کوئی شکایت سننے والا نہیں اور اگر ہے تو پہلے ہی اپنا حصہ وصول کر چکا ہے۔
جس ملک میں واضح ترین بدعنوانی پہ بھی منصف کہے، ’نہیں نہیں ابھی نہیں، ابھی نہیں کیا کبھی نہیں‘ ۔۔۔ وہاں چھوٹے سے گھر میں رہنے والے اگر ڈبو لگا کر، قوم کے مستقبل کا وقت ضائع کروا کر، پیسے کمائیں تو ان پر کسی قسم کی اخلاقیات لاگو نہیں کی جا سکتی۔
ــــــــــــــــــــ
مگر یہ دکان کھلنے پہ جو غصہ ہمیں ہے، وہ اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔ دکان کھلنے کے پہلے ہی دن ہم نےایک شاگرد کو کھیلتا دیکھ کر جھاڑ پلا دی۔
’یہاں کیا وقت ضائع کر رہا ہے تو؟ کتنے پیسے دیے؟ پانچ روپے؟ کم ہیں پانچ روپے؟ روز کے پانچ روپے۔ مطلب مہینے کے ایک سو پچاس، سال کے اٹھارہ سو روپے۔ حرام کماتے ہیں تمہارے والد جو ان لوگوں کو اتنے پیسے دے رہے ہو تم؟ چلو گھر جاؤ‘
بچہ تیر کی طرح گھر بھاگ گیا۔
ـــــــــــــــ
اب یہ حالت ہے کہ اِدھر ہم گھر سے نکلے اُدھر ڈبو پہ کھُلبلی مچی۔ کوئی بھاگا، کوئی دیوار یا درخت کے پیچھے چھُپا۔۔۔۔ اور جو زیادہ جی دار ہوا وہ کھیل چھوڑ کر پیچھے ہوجاتا ہے اور آسمان، بجلی کے تاروں اور درخت کی شاخوں کا معائنہ شروع کر دیتا ہے۔
سب سے مزیدار منظر وہ تھا جب ہمارے ایک شاگرد کسی صاحب کے ساتھ کھیل میں مگن تھے اور ہمارے برآمد ہونے پہ کھیل چھوڑ کے بھاگ لیے، سامنے والا ہکا بکا ہینڈل گھماتا رہ گیا کہ اسے کیا ہوا۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــ
’قبول ہے‘ نے فرمایا، ’اب چھوڑ بھی دو ان بچوں کا پیچھا۔۔۔ نا سمجھ تھوڑی ہیں، میٹرک انٹر کے طالبِ علم ہیں، جاب کرنے والے ہیں، تمہاری ذمہ داری تھوڑی ہیں‘
’ایسے کیسے نہیں ہیں؟ ہر ایک کی بات نہیں مگر جن کو میں نے پڑھایا، وہ میری ذمہ داری ہیں، روزِ محشر ان کے بارے میں بھی مجھ سے سوال ہوگا‘
ــــــــــــ
دورِ حاضر میں جبکہ میڈیا والد کی نافرمانی کو کامیابی کا زینہ بتا رہا ہو اور گلوکاری و رقص کے پروگرامز میں چھوٹے بچوں کی فحش کلامی اور زبان چلانے کو ذہانت اور حاضر جوابی باور کرائی جا رہی ہو، وہاں معمولی معلمہ ریاضی کے شاگرد اگر ان کی بات کے سامنے سر نہیں اٹھا رہے تو یقیناً اس میں ہمارا کمال نہیں۔ اس علم کی برکات ہیں جو ہم نے انہیں خلوصِ نیت سے دیا ہے اور اس فخر کا صدقہ ہے جو ہم اپنے معلمی کے پیشےسے کرتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــ
ہم تمام اساتذہ کو دعوتِ مبارزت دیتے ہیں کہ وہ صرف اپنے علم سے محبت کرنا اور اپنے پیشہء معلمی پہ فخر کرنا ہی شروع کردیں تو اپنے شاگردوں کی نوے فیصد نافرمانی کی شکایات سے چھٹکارا پا لیں گے۔
ــــــــــــــــ
نوٹ! دعا کیجیے کہ ہمارے محلے سے ڈبؔو، ماوا، گٹکا اور سگریٹ کی دکانیں ختم ہوجائیں۔
ــــــــــــــ

Comments

معلمہ ریاضی

معلمہ ریاضی

معلمہ ریاضی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، 15 سال سے ریاضی پڑھاتی ہیں۔ سیاسی، مذہبی اور معاشرتی مسائل پر لکھنا پسند ہے۔ ان کے خیال میں اصل نام کے بجائے "معلمہ" کی شناخت ان کی مذہبی اور پیشہ ورانہ آسودگی کا باعث ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */