مجھے تم سے محبت ہے - رضوان اللہ خان

میں نے خونی رشتوں کے علاوہ جن لوگوں سے محبت کی ان لوگوں میں چند وہ باکمال شخصیات بھی ہیں کہ جنہیں پڑھا، سُنایا ان کے دشمنوں کی زبان سے ہی ان کا نام سنا تو خوشی سے دل جھومنے لگتا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی جرات، غیرت، حمیت اور حریت کے قصوں میں بغداد، قرطبہ، غرناطہ غرض اندلس و ہند کے ان آخری آخری شاہینوں کے آثار نظر آتے ہیں کہ جو اس وقت بھی جرات و بہادری کا استعارہ بنے رہے کہ جب اپنے بھائی، اولادیں اور دیگر امراء اہل صلیب کے بغل بچے بنے ہوئے تھے۔

وہ تب بھی حق کا پرچم لہراتے رہے کہ جب قلیل غیرت مندوں کے ساتھ انہیں دشمن کے ٹڈی دل لشکروں سے ٹکرانا پڑتا۔وہ اس وقت بھی مسکراتے ہوئے پھانسی گھاٹ کی جانب بڑھ جاتے جب ان کی اولادوں کو ان کے سامنے چیر دیا جاتا۔ وہ اس وقت بھی نعرہ تکبیر بلند کرتے رہے کہ جب جلاد کی تلوار ان کی گردنوں کو چھو رہی ہوتی۔ایسے حالات میں جب چاروں جانب غلام ذہن موجود ہوں، جب چاروں جانب خود کلمہ پڑھنے والے ہی اس کلمے کے دشمنوں کو اپنا آقا تسلیم کرچکے ہو، بھلا سوچیں کوئی ”مرد“ ہی تو ہوتا ہوگا جو کسی چٹان کی طرح ہر طوفان کا مقابلہ کرنے میں مزہ پائے۔

آج پھر وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ اہل صلیب نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو اس صلیبی جنگ میں چٹنی کی طرح پیسنا شروع کر رکھا ہے۔ وہی فارمولا، وہی قانون، وہی انداز اور وہی شاطرانہ چالیں آج بھی چلائی جارہی ہیں کہ جہاں اپنے منظورِ نظر حکمران مسلمان ممالک پر مسلط کر کے اور انہیں دوستی اور تحفظ کا جھانسہ دے کر خود مسلمانوں کی تکہ بوٹی کرنے میں مصروف ہیں۔ انہی مسلم ممالک کے زمینی اور فضائی راستے دوسرے مسلمانوں کے خلاف استعمال کی جارہی ہیں۔ اور طریقہ وہی ہے، ڈالر کے عوض، دھمکی کا زور اور بادشاہی کے سنہرے خواب۔ یہاں تک کہ یہ مسلمان حکمران دوسرے مسلمانوں کی خاطر اپنے ان آقاؤں کے خلاف تلوار بلند کرنا تو دور، آواز بلند کرنے یا شکوہ کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔
لیکن ایسا کب تک چلے گا؟
ایک دن تو ہر چراغ بجھ ہی جائے گا۔
ایک دن ہر غلام قتل کرہی دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   نریندر مودی سن لو، اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے - عمران خان

تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی اہل صلیب نے سب سے پہلے ان مسلمانوں کا خاتمہ کیا کہ جن کی رگوں میں حریت و حمیت کا خون شعلے بن کر تڑپ رہا تھا۔ ان کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے غلام ذہن مسلم حکمرانوں کے ہاتھ باندھے، انہیں طرح طرح کے خواب دکھائے، بعضوں کو ڈرا دھمکا کر ساتھ ملایا گیا۔ جب یہ آخری شاہین اپنوں کی غداریوں، لاپرواہیوں اور بے حمیتی کی وجہ سے شہادت کو گلے لگا کر جنت محل کو جا پہنچے تو صلیبیوں نے اپنے غلیظ چہروں سے امن کا جعلی ماسک اتار پھینکا اور ان غلام ذہن مسلمانوں کو بھی اذیت ناک موت کا سامنا کرنا پڑا۔

ان ناسمجھ غلاموں نے جب جان بچانے کے لیے اپنی وفاداریوں کی لسٹ گنوانا شروع کی تو اہل صلیب نے انہی وفاداریوں کو ان کا حقیقی جرم کہا، کہ جو لوگ اپنے ہی بھائیوں اور ہم مذہب لوگوں سے غداری اور کنارہ کشی اختیار کرسکتے ہیں، وہ بھلا ہمارے وفادار کیسے ہوسکتے ہیں۔آج بھی جو حکمران اور عوام صلیبیوں کی طاقت سے مرعوب ہوکر طرح طرح کی تاویلات اور بہانوں سے دوسرے مسلمانوں کو خود اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف ابھارتے ہیں. واللہ یہی لوگ خود ان صلیبیوں کی آگ کا ایندھن بن جائیں گے۔ لیکن دوسری جانب چند لوگ باطل قوتوں کی آنکھوں کے کانٹے عمرمختار اور ملا عمر کی طرح رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے کہ جنہوں نے ہلال و صلیب کے معرکوں میں ظاہری قوت و شوکت سے مرعوب ہوئے بغیر مشرق تا مغرب لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کی۔

ایسے میں کشمیر کے پہاڑوں میں برسرپیکار نوجوانوں سے، فلسطین کے بہادر شیروں سے اور دنیا بھر میں ظاہری اسباب کی کمی کے باوجود پرعزم مسلمانوں سے ایک ہی بات کہتا ہوں کہ ’’مجھے تم سے محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے‘‘۔ میں منافقت کے اس اندھیرے میں شیروں کی کچھار سے چاہت رکھتا ہوں، اس اُمید کے ساتھ کہ صبح روشن اب دور نہیں اور وہ دن ہرلمحہ ہر ساعت قریب سے قریب تر ہورہے ہیں،جن کا وعدہ چودہ سو سال پہلے کیا جاچکا تھا۔اور وہ ذہنی غلام جو غلامانِ خرد بن چکے ہیں یہ شعر اس دعا و امید کے ساتھ ان کے نام کررہا ہوں کہ اللہ انہیں اور ہم سب کو حق کے ساتھ کھڑے ہونے والا، حق کا دفاع کرنے والا اور اس پر ڈٹے رہنے والا بنا دے۔ آمین
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق !

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.