اپنی رعیت کو پہچانیں - فرح رضوان

ایک سوال ہے خود اپنے آپ سے بھی کہ، جس حدیث کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے، کیا اس بات میں کسی بھی قسم کی کمی بیشی کی جرأت کوئی مسلمان کر سکتا ہے؟ (نعوذباللہ) کیا یہ سوال ہمارے امتحان کے پرچے میں شامل نہیں؟ یا اتنی ہی رعایت کر دی گئی ہو کہ، ”اب اس زمانے والوں کے لیے“، لازمی ترین والا سوال نہیں رہےگا؟
نہیں نا! تو پھر بنا مزید وقت برباد کیے، سب سے پہلے تو ہمیں اپنی رعیت کو جاننا ہوگا. اگر بہت دور تک حساب نہیں ہو پا رہا تو فی الحال یہاں سے ابتدا کر لیتے ہیں کہ جس جس بندے سے ہم خفا ہو کر اس سے اونچا بول سکتے ہیں، جس کسی کی بھی بآسانی بے عزتی کر سکتے ہیں، گھر سے، دل سے یا نوکری سے نکال باہر سکتے ہیں،گویا ان سبھی کے ہم بادشاہ وقت، اور یہ ہماری رعایا ہیں.

ویسے یہ لفظ رعایا، رعایت سے کتنا ملتا جلتا ہے نا! جیسے مہنگی چیز خریدنے سے قبل ہم بیچنے والے سے، نرم لہجے میں درخواست کرتے ہیں کہ، بھیا! کچھ تو رعایت کریں، یا سزا پانے والا غریب مجرم عدالت سے، رعایت کی التجا کرتا ہے، مقروض قرض خواہ سے رعایت کی ریکویسٹ، یا قیدی صیاد سے فریاد.. اوہ ! قید سے یاد آیا کہ دنیا تو مؤمن کے لیے قید خانہ ہے.

ہائیں! کیا بات ہے پھر تو ہماری! کہ قید خانے میں ریکویسٹ، التجا یا فریاد والا عاجزی کا انداز پرے ڈال کر، ہم دن رات میرا حق میرا حق، کی بات کرتے، اس پر لڑتے، مرتے ٹوٹتے بکھرتے، خاندانوں اور معاشرے کا شیرازہ بکھیرتے نہیں تھکتے، حالانکہ ڈیوٹی ہمیں یہ سونپی گئی ہے کہ ”حق کی تلقین کرو، صبر کی نصیحت“ (اور صبر تو جب تک، خود اپنے عمل سے کر کے، دکھایا نہ گیا ہو، اس کی زبانی نصیحت، کسی پر اثر کرنے والی ہی نہیں ہوتی)

گزشتہ کچھ سالوں میں ہم نے ایک ٹرم کافی سنی ہے، ”گولڈن شیک ہینڈ“، جس میں کمپنیز کسی بھی امپلائی کو کبھی بھی برطرف کر دیتی ہیں؛ کیا خبر! اس کی ایک وجہ، بحیثیت قوم، ہمیں اسی ملتے جلتے اشارے یا استعارے سے یہ سمجھانا مقصود ہو کہ، جس طرح بنی اسرائیل کو ان کی اخلاقی بدحالی کے سبب اللہ تعالیٰ نے، اعلی ترین عہدے سے، ان کو برطرف کر دیا تھا.
تو قبل اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں خدانخواستہ اچانک ایمان و عہدے سے برطرفی کا لفافہ، تاحیات ذلت پیکیج کے ساتھ تھما دیا جائے... اوہ! پیکیج سے یاد آیا یہ جو پورے پاکستان میں، فون کے ”زبردست پیکیج“ عطا فرمائے جا رہے ہیں، یہ کیا ہیں؟ کیوں ہیں؟ ”ہماری رعایا“ میں سے کتنے لوگ ان کو کس کس ”سفلی ضمن “ میں استعمال کر رہے ہیں؟ اسے کس طرح مثبت استعمال کیا جاسکتا ہے؛ کیا کبھی ہم نے فقط اس سلسلے میں ہی، ان کو حق کی تلقین، صبر کی نصیحت کی؟ جی! وہی، جو ہماری اولین ڈیوٹی میں سے بھی ہے، اور ہماری اپنی نجات، یعنی خسارے سے بچ جانے کا ایک اکلوتا سیف ایگزٹ بھی، منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک.

لیکن سچی بات کیا ہے پتہ؟ ہم صبر کی نصیحت نہیں کر سکتے، کبھی بھی نہیں کر سکتے، جب تک کہ اپنا حق دوسرے کو معاف کرنے جیسے، صبر پر اپنے آپ کو راضی نہ لیں، اور پھر اس صبر پر، مزید صبر کرتے ہوئے استقامت سے جم کر نہ رہ جائیں. (کوئیک نوٹ : استقامت = ق و م؛ قیام یا قوام ایسی مضبوط چیز کو کہتے ہیں جس کے سہارے کوئی دوسری چیز کھڑی رہ سکے، خود سوچیں کہ جب ارادہ استقامت والا نہ ہوگا تو جس بھی نیکی کا عزم کیا جائے، بھلا کیسے قائم رہ سکے گی. استقامت کی اہمیت اتنی ہے کہ جو ایمان لائے، اس پر جم کر، قائم رہے، ان کی غیب سے مدد کی جاتی ہے)

دیکھیں! ہم کہتے وہی ہیں نا، جو کچھ ہم سمجھتے ہیں، اور ہم سمجھتے یہ ہیں کہ ہمارے پاس وقت ہی نہیں، ”وقت میں برکت ہی نہیں، یہ بھی قیامت کی نشانی ہے صاحب“ کے زمرے میں ڈالا اور بری الذمہ، لیکن یقین کریں کہ اگر ہم اپنے ایک دوسرے پر یہ چنے منے والے حقوق کہ، فلاں نے یہ بات بول دی یا فلاں بات ہی نہیں کی، کھانے کو نہیں پوچھا، اچھا نہیں کھلایا، اچھا ویلکم نہیں کیا، تحفہ سرے سے نہیں دیا، یا اچھا نہیں دیا، فلاں وقت آئے نہیں، بلایا نہیں، ملوایا نہیں، وہ رسم ادا نہیں کی، میکے کو، بھائیوں کو، بیوی کو فلاں فلاں دے ڈالا اور فلاں موقع پر، بچوں کو، سسرال کو، بہنوں کو، اقربا کو، والدین کو فلاں نہیں دیا اور دیا بھی تو کتنا فضول سا دیا، اور پھر ان تمام تر شکایات پر دل میں بھی کڑھتے رہ کر سوچ، صحت اور وقت کا نقصان، پھر مزید وقت نکال کر اپنے ہم خیالوں سے اس کا تذکرہ کرنا، پھر ان ”رازداروں“ کے اس پر تجزیے، تبصرے کرنا (اور مزید آگے بات کو پہنچا کر اپنے وقت اور اعمال نامے کے حصے بربادی لکھ ڈالنا)، مزید براں اس”تبادلۂ خیالات“ کے نتیجے میں آپ کا خوب سیخ پا کر، منہ درمنہ طعن وتشنیع پر اتر آنا، یا اسی بات کو ”محبت“ کا نام دے کر سامنے والے سے شکوہ تو ضرور ہی کر دینا، جس کے نتیجے میں مدمقابل کا دل ٹوٹ جانا، اور اب اس کا بھی ایک نئی غیبت، اور رد عمل سائیکل پر سوار، سفر ناتمام پر نکل کھڑے ہونا. ادنی ادنی ادنی کی بھی کوئی حد ہو بھلا، اور ہم بڑی ہی حقارت سے سوچتے ہیں کہ بنی اسرائیل کس درجے کے احمق لوگ تھے، جو ادنی سی لذت کے دام میں گرفتار تھے، تو ہم کون سی مختلف باتوں کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں بھلا؟ اگر انہوں نے من و سلویٰ سے بیزاری دکھا کر، دال سبزی کو اہمیت دی تب بھی،
بنی اسرائیل، کم از کم اس دال سبزی کو پکانے کی ترکیبیں، کوکنگ شوز میں دیکھنے پر وقت تو برباد نہیں کر رہے تھے نا! نہ ہی پکا پکا کر اپنے سوشل سرکل میں سرکیولیٹ کرنے اور اپنی واہ واہ سننے پر مر مٹنے کی کوئی سند ملتی ہے!

یہ بھی پڑھیں:   آپکی محبت کے منتظر - امم فرحان

حد ہو گئی؛ ادنی، ادنی، ادنی! کوئی ادنی سا ادنی کام پکڑا ہے ہم نے! ہم کھانے سے ہٹیں تو، بے ستر کپڑوں کے ڈیزائن اور بے راہ روی کا شکار، ڈیزائنرز. بےدین مصنفوں کی لکھی فلموں، مذہب بیزار افراد کے بنائے ”سبق آموز“ ڈراموں، دنیا کو محض کھیل سمجھنے والے سپر سٹارز، اور ان کے غلط ذرائع سے کمائے مال کے نتیجے میں آسائشی رہن سہن کے بچھڑوں کی پرستش کرنے والے پرستار، (فین) بنے رہتے ہیں. مزید ستم یہ کہ ایسی ہی سوچ کے حامل افراد کے بنائے تعلیمی نظام اور نصاب میں پوری جان لگا کر، اور اپنی شان سمجھ کر، اپنے بچوں کو، یعنی اپنی رعیت کو، جھونک ڈالتے ہیں، جن کا پورا مشن اور ایجنڈا یہ ہے کہ رقص و موسیقی کو اتنا زیادہ، عام کر دیا جائے، کہ کسی کو یاد بھی نہ رہے کہ یہ ممنوع اور سخت ناپسندیدہ عمل ہیں، جن کا ماننا ہے کہ ایک چار سال تک کے بچے کا ماحول یہ ہونا چاہے کہ اس کے کان گانے سن سن کر رسیلے ہو چکے ہوں، اور رقص دیکھ دیکھ کر اس کے پاؤں تھاپ کو پہچان کر تھرک سکیں، جس کے لیے ان کے والدین کا اس ڈگر پر چلنا کتنی اہمیت کا حامل ہے، اندازہ لگایا جا سکتا ہے. آج کل چھوٹی سے چھوٹی عمر کے بچے کلا اور فن کے نام پر، شوز میں تو میاں بیوی کا رول کر سکتے ہیں، نوجوانی میں فیشن کے مطابق، دوستیاں کر سکتے ہیں لیکن شادی کی عمر ان کے بال سفید ہوئے تک نہیں آسکتی، تین چار سال بغیر نکاح کے نامحرم ساتھ گھوم لیں، ڈگری لیے بنا امیر کی اولاد کی شادی نہیں ہو سکتی، اور چار سو افراد کی ضیافت کا بندوبست نہ کیا جائے جب تک غریب کی اولاد کی شادی نہیں ہو سکتی،گھر میں مال کی ضرورت ہے، کرپشن کا راستہ کھلا ہے، زندگی میں محبت کی ضرورت ہے تو گناہ کا راستہ کھلا ہے. کیا یہ ہیں صفات! امامت کے منصب پر فائز ہونے کی؟ اگر ہم غلط ہیں تو خود پر کام کرنا سختی سے کام کرنا ہوگا اور اگر ہماری رعیت غلطی پر ہے تو اس سلسلے میں اس سے رعایت برتنے کی بہت عاجزی سے التجا کرنی ہوگی.

دنیا بھر میں لوگ تاحیات، اپنی معاش سے متعلقہ کورسسز کر کر کے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں تاکہ زندگی میں عزت اور کشادگی برقرار رہ سکے. اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہوئی اس اعلی ترین جاب اپنی ”امامت“ کو بچانے کا واحد ذریعہ بھی، اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے سوا کوئی اور نہیں، لہٰذا سب سے پہلے تو ہمیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کسی بہترین استاد کے ساتھ (جو ان اسباق و واقعات کو اس دور میں، اپنانا سکھاتے ہوں) کرنا ہوگا، آپ کوئی بھی زبان بہتر طور پر سمجھتے ہوں، آج کے دور میں تو، کتاب تک خریدنے کی ضرورت نہیں! کسی سکول کی فیس، اس کے لیے وقت یا ٹرانسپورٹ کی بھی حاجت نہیں، سبھی کچھ تو آن لائن طشتری میں سجا ہوا رکھا ہے، ہم ہی اس سہولت سے فائدہ نہ اٹھائیں تو یہ ہرگز بھی، صرف دکھ کی نہیں بلکہ سراسر گناہ کی بات ہوگی.

اس کے علاوہ ہماری دیگر مصروفیات کیا ہیں؟ کیوں ہیں؟ اور کیسے ان کو کم کیا جاسکتا ہے؟
اگر ہم صرف ایک، ایک کا مطلب صرف ایک، فقط ایک بات پر جم جائیں کہ جو کچھ مجھے نہیں ملا، اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی، کیونکہ وہ روک لے تو کوئی بھی اور دے نہیں سکتا، اور جو بھی آپ کی توقع یا معیار سے کمتر درجے کا ملا، خواہ وہ کسی کی طرف سے تحفہ ہو، وقت ہو، سپورٹ ہو یا محبت یا عزت یا توجہ یا دلاسا، صبر اور استقامت سے جمے رہیں، اسی بات پر کہ اچھی بری تقدیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے. بس اس بات کو اللہ تعالیٰ نے اسی درجے کا لکھا تھا، اور ممکن ہے کہ آپ کو جو کچھ بھی اعلی معیار کا درکار ہے، وہ بھی ذرا ہی دیر میں مل جائے اور فی الوقت اس صبر، کون سا صبر؟ لوگوں کے آگے رو رو کر شاکی اور مضمحل رہ کر؟ طعنہ یا غیبت سے جی ہلکا کر کے؟

یہ بھی پڑھیں:   باپ پر کیا گزری؟ یہ اولاد کو کب سمجھ آتا ہے۔ یمین الدین احمد

جی بالکل؛ نہ تو یہ صبر ہوتا ہے اور نہ یوں صبر ہو ہی پاتا ہے. صبر تو بس صبر جمیل ہوتا ہے، اللہ سے راز و نیاز، اسی سے التجا، اسی سے سب کی شکایتیں؛ اور اس صبر پر پھر اجر کی امید بھی اسی سے، تو یوں ڈبل مزہ. کیا صرف دگنا اجر یا سات سو گنا تک؟ ہمم گمان ہمیشہ اعلی رکھنا ہے اور دعا بھی جنت الفردوس الاعلی ہی کے لیے (الھم انّا نسالک الجنۃ الفردوس الاعلی و نعوذبک من عذاب النار)، اور جو کچھ ملے آپ کو، بہترین (اللہ سے یا بندے سے)، اس پر دینے والے کے، ضرور شکر گزار ہوں مگر اپنی دھاک جمانے یا دوسرے کو جلانے کی غرض سے کسی کےگوش گزار نہ ہوں اللہ کے واسطے! کسی بھی میڈیم سے پلیز، اور نہ ہی کسی سے اس قسم کے سوالات کریں کہ فلاں موقع پر کس نے کیا کیا، لیا، دیا، اور نہ ہی خود کو ایسے سوالات پوچھنے والوں کے دباؤ میں آنے دیں، خواہ وہ انسانوں میں سے ہوں یا آپ کا اپنا نفس، تو یقین جانیے کہ آپ پر یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ ایک دن، پورے چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے، اور زندگی اتنی تلخ و مایوس کن ہرگز نہیں.

ان چوبیس گھنٹوں میں بہت سے مثبت کام اور ان گنت اعمال صالح کر کے صالحین کی صف میں شامل ہوا جاسکتا ہے، اپنی اولین ڈیوٹی ”تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر“ انجام دیتے ہوئے، اللہ کے پاس اپنی نوکری، اپنے اعلی منصب کو بچانے کی خاطر ہر ممکن جہاد کیا جاسکتا ہے.

یاد ہے نا! کہ فعل اور عمل میں کتنا بڑا فرق ہے؟ فعل کی تعریف وہی ہے جو انگلش میں ورب کی ہے، یعنی کوئی بھی کام، اٹھنا سونا، کھانا پینا، کھونا پانا، رونا ہنسنا وغیرہ، لیکن کسی بھی فعل میں بری نیت شامل ہو جائے تو وہ عمل بد بن کر گلے پڑ سکتا ہے، اور کوئی بھی فعل کرتے وقت نیت اچھی کر لی جائے، تو وہ عمل صالح بن کرگلے کا ہار اور شانوں پر سٹار بن کر چمکنے لگے گا، جس کی چمک اور رمق آپ کو خود اپنے دل میں، کسی دوسرے کی آنکھوں میں ،باتوں میں، یا چہرے پر محسوس بھی ہوگی، اور امید ہے کہ پل صراط پر نور بن جائے. (ربنا اتمم لنا نورنا و اغفرلنا)

تو ابھی فی الحال آپ اس روشنی میں کیا دیکھتے ہیں؟ ہر سو اندھیرا، اندھیر نگری چوپٹ راج! لیکن راجہ تو آپ ہیں نا اپنی رعیت کے، تو جب پوری دنیا، پوری نگری کی ذمہ داری آپ کی ہے ہی نہیں، تو پھر اس پر کڑھ کڑھ کر حکومت سے بیزاری بھی نہیں، ان پر تبصرہ نگاری بھی نہیں، اور ان تمام باتوں میں وقت گزاری بھی نہیں، کیونکہ سوال صرف رعیت کے بارے میں نہیں ہونا، بلکہ ہمیں ملے ہوئے وقت، صحت، سہولت، صلاحیت سبھی کا ہونا ہے. اس بات کو آپ اپنی آسانی کے لیے ایک ہی لازمی سوال کے دو حصے سمجھ لیجیے.

ساتھ ہی ہر ایک کے لیے خیر کی دعا؛ بیشک دل نہ بھی کرے لیکن کرتے کرتے اپنی عادت بنا لینے سے، ان گنت فوائد حاصل ہوتے ہیں. پہلا یہ کہ اپنا ہی دل نرم ہوتا ہے، دوسرا صبر و شکر کی کیفیت کہ ہمیں جو بھی نیک توفیق ملی ہے، وہ منجانب اللہ تعالیٰ ہے، نہ ملتی تو ہم سامنے والے سے کہیں برے حال میں ہو سکتے تھے، تب اگر دوسرا آپ جیسی نیکی نہیں کر رہا تو اپنی نیکی پر، تکبر، اس انسان پر غصہ ہونے، اور ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہونے سے بچتا ہے. انسان ، بے دھڑک کفر کے فتووں کو داغ دینے سے ڈرتا ہے، اور یہ بات بھی طے ہے کہ جب بھی کسی کے لیے انجانے میں خیر کی دعا کریں، وہ اس کے لیے ہو نہ ہو، پر ہمارے حق میں ضرور قبول کی جاتی ہے.

اب رہ گیا اس محنت کا نتیجہ یا صلہ، یہ بھی ہمارا مسئلہ نہیں، اس لیے اپنی محنت کا بظاہر مخفی نتیجہ، یا اپنی رعیت کا منفی رویہ دیکھ کر ان پر برہم ہونے یا اپنا دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ بہت سے پیغمبروں تک کی، ان کی قوموں نے تکذیب بھی کی، اور ایک فرد بھی ایمان نہ لایا، یا محض گنتی کے کچھ لوگ، تو بس اللہ تعالیٰ نے ان نصیحت کرنے، اور نصیحت قبول کر لینے والوں کو نجات بھی عطا فرمائی، اور زمین کی وراثت بھی عطا فرمائی. ہماری نجات کا راستہ بھی اس سے جدا نہیں. اللہ تعالیٰ ہمیں سعادت مندوں اور صالحین میں شامل فرمائیں، اور جنت الفردوس الاعلی کی وراثت نصیب کریں.

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.