آدم زادے - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

عورت کہانی لکھنے کے بعد سے دل و دماغ میں کشمکش برپا تھی کہ آدم زادے لکھنی ہے، ورنہ میرا قلم تعصب کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا..
ایک دوسرا الزام تھا کہ میں حوا کو ہمیشہ ایک مظلوم بیوی کی شکل میں پیش کرتی ہوں. ایسا شاید اس لیے کہ ایک مسیحا ہونے کی حیثیت سے میرا واسطہ زیادہ تر شادی شدہ خواتین کے دکھ اور تکلیف سے رہتا ہے، تو میری تحاریر کی عورت شادی شدہ مظلوم عورت ہے ..
لیکن آج میں آدم زادے لکھنا چاہتی ہوں.
ایک حوا کی زندگی میں آنے والے مردوں کی کہانی.

پہلا مرد .. .. والد. .
میں بنت آدم ہوں ..
میرے والد جن سے مجھے شناخت ملی .. میری پہچان اور قبیلے کا تعین ملا ..
میری اٹھان، میرا رہن سہن، میری تربیت میں جن کا کردار بلاشبہ عظیم ہے ..
ہمارے معاشرے میں ماں کو اولاد کی تربیت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور والد کو ضروریات زندگی بہم پہنچانے کا ..
جبکہ اسلام میں واضح کیا گیا ہے کہ
ماں باپ اپنی اولاد کو جو بہترین تحفہ دیتے ہیں، وہ اچھی تعلیم و تربیت ہے..
سو تعلیم اور تربیت والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے ..
ایک بیٹے کو پڑھانے میں ماں اور باپ دونوں کردار ادا کرتے ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ ایک بیٹی کو پروفیشنل (مثلا ڈاکٹر، انجینئر، سائنٹسٹ) ایک باپ بناتا ہے.. بیٹی کو اس کی ذاتی شناخت اس کا باپ ہی دے سکتا ہے .. ایک باپ ہی اپنی اولاد کو اپنے سے آگے نکلتا دیکھ کر خوشی محسوس کرتا ہے اور اس کی کامیابی کو اپنی ذاتی کامیابی سمجھتا ہے .. یہ دنیا کا سب سے بہترین بےلوث رشتہ ہے .. ایک باپ کو اپنی اولاد کے لیے دوست ہونا چاہیے .. جس سے اولاد قطع نظر جنس کے اپنے اپنے دل کی بات بےجھجھک کہہ سکے ..
کاش بیٹیوں کے باپ ہمیشہ سلامت رہیں..

دوسرا مرد.. بھائی. ..
یہاں میں اخت ہوں. ہمشیر بھی ..
میرا بڑا بھائی ایک باپ کی سی شفقت رکھتا ہے تو چھوٹا بھائی ایک بیٹے سی الفت ..
بڑے بھیا مجھے موٹر سائیکل یا کار پر کالج چھوڑتے اور چھوٹے بھیا سائیکل پر ٹیوشنز پر لیے پھرتے ..
ایک حوا کے بھائی اس کے محافظ ہوتے ہیں. دنیا کی کوئی نظر ان محافظوں کی موجودگی میں حوا کا دامن تک نہیں دیکھ سکتی ..
اوپر تلے کے بہن بھائی ایک دوسرے کے دوست بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مقابل بھی ..
ایک دوسرے سے محبت بھی کرتے ہیں اور لڑتے بھی ہیں .. والدین کی محبت پانے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے تمنائی بھی..
آدم زادوں کا یہ روپ اللہ تعالٰی کی عطا کردہ حسین ترین نعمتوں میں سے ایک ہے ..
اللہ برادران حوا کی عمر دراز کرے...

یہ بھی پڑھیں:   مرد مضبوط سائبان اور محافظ - اریشہ خان

تیسرا مرد... شوہر .. خاوند ..نصف بہتر .. شریک حیات .. مجازی خدا ..
اب میں بیوی ہوں، نصف بہتر بھی، اور شریک حیات بھی ..
اب یہاں آدم زاد کو ایک بڑے مقابلے کا سامنا ہے .. کیونکہ عموما بیوی کو اپنے شوہر میں اپنا آئیڈیل چاہیے ہوتا ہے اور اکثر خواتین کا مثالی کردار ان کا باپ ہوتا ہے .. ..
اب اگر خاوند کے روپ میں آدم زاد ویسے ہی بڑے مقام کا تمنائی ہے تو اسے اپنی بیوی کو وہی اعتماد دینا پڑے گا جو اس کی حوا کے والد صاحب اسے دیتے تھے .. یعنی بیگم کی کامیابی پر حسد میں مبتلا ہونے کے بجائے خوشی، بیگم کی ترقی کو اپنی کامیابی جاننا .. اپنی نصف بہتر کی نہ صرف ضروریات کو پوراکرنا بلکہ خواہشات کا بھی احترام کرنا ..
بیوی کی ایک آزاد حیثیت میں الگ شخصیت کا تعین کرنا .. اور برابری کے معیار پر اس کی رائے کا احترام کرنا ..
بےشک خاوند کا نام عورت کے لیے ہمارے معاشرے میں عزت کا ضامن ہے. . میری ایک مریضہ کا شوہر کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا لیکن وہ اس کی عزت کرتی تھی جبکہ خود محنت مزدوری کرتی تھی .. وجہ پوچھی تو کہنے لگی ڈاکٹر صاحب او تے میرے بوہے دا جندرا اے. . (وہ تو میرے دروازے کا تالا ہے ..یعنی عزت کا امین )

چوتھا مرد .. بیٹا .. ابن حوا..
اب میں والدہ ہوں، ام آدم بھی، امی بھی، مادر بھی، مام بھی ..
میرے بیٹے (!اولاد سبھی لیکن موضوع کی مناسبت سے لفظ بیٹے استعمال کیا گیا ہے) میرا مان ہیں . میرے قدموں تلے جنت لانے کا باعث ہیں.. میری محبت و شفقت کے حقدار ہیں..
بیٹے کی حیثیت میں آدم زاد کا کردار ایک مودب اور محبت کرنے والی خدمتگار اولاد کا ہونا چاہیے .. جو اپنے والدین کے دوست بھی ہوں اور وفادار خادم بھی ..
حوا کے بیٹے جب جب اسے اپنی ضروریات کے لیے آواز دیتے ہیں تو حوا کو اپنے کارآمد اور اہم ہونے کا احساس دلاتے ہیں .
حوا جانتی ہے کہ اس کی کی ہوئی تربیت ان آدم زادوں کو اس کے لیے صدقہ جاریہ بنائے گی .

یہ بھی پڑھیں:   بیٹی کے سوال، والد کے جواب - احسن سرفراز

پانچواں مرد.. محبوب .. آئیڈیل. .
میں جانتی ہوں کہ اس پانچویں مرد پر بات کرنا کس قدر خطرناک ہے لیکن اس پر بات کرنا ازحد ضروری بھی ہے ..
اے حوا! تو آدم کے لیے اللہ کا عطا کردہ تحفہ ہے .. تیرا آدم دنیا ہی میں کہیں موجود ہے جو اپنے درست وقت پر تجھے ضرور ملے گا ..
جس آدم کی پسلی سے تو بنائی گئی ہے، اس کا صبر اور شکر سے انتظار کرتی رہ .. ورنہ آدم زاد کا یہ روپ تیرے لیے سانپ کا ایسا زہر بھی ثابت ہو سکتا ہے جس کا تریاق میسر نہیں..
اے حوا! تیری عزت اسی میں ہے کہ ایجاب و قبول کے بعد اپنے خاوند میں ہی اپنا محبوب تلاش کر ..
یہ گلی کے کونے پر کھڑے ہوس زدہ آدم زادے ..
میڈیا اور موبائل کے پیکجز پر وقت بتانے والے آدم زادے درحقیقت ابلیس زادے ہیں..
.
اے حوا خبردار! اپنے رب کے عطا کردہ محرم رشتوں میں جڑے آدم زادے ہی تیرا سرمایہ ہیں. .
تیرا باپ بھائی شوہر اور بیٹے ہی تیرے آدم ہیں .. منہ بولے رشتے کی کوئی حیثیت نہیں. اے حوا اپنے مرتبے کو پہچان اپنے آدم کو پہچان.. اور خبردار رہ.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.