آنکھوں کی ٹھنڈک- ممتاز شیریں

قرآن مجید میں شوہر اور بیوی کے لئے ایک بہت پیاری دعا ہے، جسے زبان سے ادا کرتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ دعا کی قبولیت بس ابھی سامنے آجائے۔ دعا کے الفاظ ہیں: رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔ ترجمہ: ہمارے رب ہمارے جوڑے اور ہماری اولاد سے آنکھوں کو ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنادے۔ اس میں " قرۃ أعین" یعنی "آنکھوں کی ٹھنڈک" بہت پیارا لفظ ہے۔ خوشی اور مسرت کی یہ بہت اعلی تعبیر ہے، جو قرآن مجید میں کئی بار آئی ہے۔ یہ دعا شوہر اور بیوی دونوں کے لئے ہے، أزواج کا مطلب جوڑے ہوتا ہے، اس میں شوہر اور بیوی دونوں شامل ہیں۔

اس دعا کے الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اللہ کے نزدیک بہترین شوہر وہ ہے جس کو دیکھ کر بیوی کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، اور بہترین بیوی وہ ہے جو شوہر کی آنکھوں کو ٹھنڈک دے، اور بہترین اولاد وہ ہے جس سے ماں باپ دونوں کو آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہو۔ قرآن مجید میں زیادہ دعائیں اللہ کی رحمت، اس کی مغفرت، جہنم سے نجات اور جنت کے حصول کے بارے میں ہیں، ان دعاؤں کے درمیان اس مضمون کی دعا خود بتاتی ہے کہ یہ مضمون اللہ کے نزدیک کتنا اہم ہے۔

یہ خواہش بالکل فطری اور بہت اچھی ہے کہ شریک حیات آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے، لیکن اس خواہش کی تکمیل کے لئے لازمی شرط یہ ہے کہ آپ آگے بڑھ کر شریک حیات کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائیں۔ غلطی اس وقت ہوتی ہے جب آپ یہ تو چاہتے ہیں کہ دوسرا آپ کو خوشی کے تحفوں سے نوازے، لیکن خود آپ اس کو خوش دیکھنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کے چہروں پر آنکھیں تو ہوتی ہیں، ان میں روشنی بھی ہوتی ہے، لیکن دونوں کی زندگی حقیقی لطف اور دونوں کی آنکھیں اس ٹھنڈک سے محروم ہوتی ہیں۔ اس محرومی کی ذمہ داری دونوں پر یکساں طور سے عائد ہوتی ہے۔

جو شخص شریک حیات کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کی کوشش نہ کرے اور دعا کرے کہ اہل وعیال اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں، اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص آخرت کا توشہ تیار نہیں کرے اور خدا سے آخرت کی کامیابی مانگے، یا نماز نہ پڑھے اور اللہ سے قریب ہونے کی دعا کرے، یا زکوٰۃ ادا نہ کرے اور مال میں برکت کی دعا کرے۔

اس دعا میں یہ پیغام بھی موجود ہے کہ جو شوہر یا بیوی اپنے شریک حیات کے لئے رنج اور تکلیف کا سبب بنتے ہیں، وہ اللہ کو ناراض کرتے ہیں۔ ایک انسان کو کسی بھی انسان کے لئے رنج اور تکلیف کا سبب نہیں بننا چاہئے اور زوجین میں سے اگر کوئی کسی کو ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچاتا ہے، تو وہ اللہ کے اہم مقصد تخلیق کی بے حرمتی کرتا ہے، کیونکہ اللہ کے نزدیک اس رشتے کا مقصد ہی ایک دوسرے کے لئے وجہ سکون اور باعث راحت ہونا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ کو خوش کرنے کے لئے شریک حیات کو ناراض کردینے کے مواقع تو آسکتے ہیں، لیکن شریک حیات کو ناراض کرکے اللہ کو ناراض کردینا بہت بڑی حماقت ہے؟؟

ہمارے سماج میں رشتوں کی خرابی اور گھروں کی بربادی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ کہیں بیوی کو شکایت ہے کہ شوہر اور اس کے گھر والے اس پر ظلم اور تشدد کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، اور کہیں شوہر شاکی ہے کہ بیوی اور اس کے گھر والوں نے زندگی کو عذاب بناکر رکھ دیا ہے۔ بہت زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اللہ کے ان بندوں کی عائلی زندگی بھی جہنم بنی ہوئی ہے جو اللہ کی مرضی کے حصول کے لئے دن رات ذکروعبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ خیال آتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اللہ کی مرضی کا یہ پہلو ان لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے؟؟

بچے جنت کے پھول ہوتے ہیں، والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بڑے ہوکر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں، لیکن اس کے لئے گھر میں وہ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جس میں اولاد کے دل کو خوشی اور آنکھوں کو ٹھنڈک ملے۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو تلخیوں کے گھونٹ پلاتے ہوئے اولاد کو محبت کا میٹھا رس نہیں پلاسکتے ہیں۔ اور جب بچوں کی زندگی بڑوں کے جھگڑوں کی وجہ سے تلخ ہوجائے، تو یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ وہ بڑوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے۔ ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننا اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ بچوں کو نشوونما کے لئے مناسب اور فرحت بخش ماحول مل سکے۔ روز روز کے جھگڑوں سے گھر کو جہنم بناکر اس میں جنت کے پھول کھلانے کی خواہش رکھنا خام خیالی ہے۔ گھر میں جنت کے پھول دیکھنے کی خواہش ہو تو لازم ہے کہ گھر کو جنت کا ماحول بھی عطا کیا جائے۔

جو شوہر یا بیوی بدمزاج ہوتے ہیں، ہر وقت ایک دوسرے پر زہر اگلتے ہیں، خود غرضی کے غلام ہوتے ہیں، ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اپنی انا کی تسکین چاہتے ہیں، اور اپنے رفیق زندگی کو خوشی دینے کے بجائے اس کی زندگی اجیرن کرتے ہیں، وہ اپنے رب کو ناراض کرتے ہیں، اپنے گھر کا ماحول خراب کرتے ہیں، اپنے بچوں کی زندگی پر برا اثر ڈالتے ہیں، اور خود بھی زندگی کے لطف سے محروم رہتے ہیں۔ ایسے لوگ رشتوں کی خرابی کا ذمہ دار ہمیشہ دوسرے فریق کو بتاتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ خود اس کے قصوروار ہوتے ہیں۔ کامیاب ازدواجی زندگی گزارنے کے لئے اپنی انا اور اپنی زبان کو لگام دینا ضروری ہے۔ یہ وہ کھیل ہے جس میں صرف ایک کی جیت دونوں کی ہار ہوتی ہے۔

اللہ کو بہت پسند ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے، اور بیوی اپنے شوہر کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے، والدین اپنی اولاد کے لئے تقوی اور پرہیزگاری کا بہترین نمونہ بنیں اور بچے اپنے نیک والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائیں۔ یہی اللہ کی پسند ہے، اور اسی کو اللہ کے بندوں کی پسند بن جانا چاہئے۔ اللہ کی پسند کو اپنی پسند بنانے والے مرد اور عورت دونوں کے لئے اللہ پاک نے جنت میں آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا انتظام کیا ہے، جس کا کوئی تصور نہیں کرسکتا۔

کتنا اچھا ہو اگر اولاد کو بچپن سے ہی یہ دعا ذہن نشین کرادی جائے، تاکہ اپنے والدین اور اپنے شریک حیات کو آنکھوں کی ٹھنڈک کا تحفہ دینا بھی ان کے مستقبل کے خوابوں میں شامل ہوسکے۔