ڈان لیکس کا ایشو اپنے فطری انجام تک پہنچےگا - عامر خاکوانی

ڈان لیکس کا معاملہ بگڑتا چلا جا رہا ہے۔ حکومت نے اسے ایزی لینے کی کوشش کی، خفت مقدر بنی۔ حیرت ہے کہ حکمران جماعت کے تھنک ٹینک کو ابھی تک یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ اس طرح کے معاملات مٹی پاؤ ٹائپ سٹائل میں نمٹائے نہیں جاتے۔ یہ انتہائی سنجیدہ اور گمبھیر مسئلہ ہے۔ کسی شخصیت کے جانے یا آنے سے اس کی حساسیت اور گمبھیرتامیں فرق نہیں پڑتا۔ ڈان لیکس کے ایشو کواپنے فطری انجام تک پہنچانا ہوگا۔ اس کے بغیر یہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مصنوعی کوششیں مزید بگاڑ پیدا کریں گی۔

حکمران جماعت کے حامیوں اور ہم خیال اخبارنویسوں کویہ کریڈٹ دینا بنتا ہے کہ انہوںنے اپنی تقریروں ، تحریروں کے ذریعے اس قدر گرد اڑائی کہ اصل نکتہ اس کے تلے دب گیا۔ سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن کے حامی بڑے منظم انداز میں حرکت کرتے اورضرورت پڑنے پر ایک بھرپور مہم چلادیتے ہیں۔ حقیقت سے توجہ ہٹانے کے لئے غیر متعلق سوالات اٹھائے جاتے ، بحث کو دانستہ اس قدر پھیلا دیا جاتا ہے کہ وہ نتیجہ خیز نہ رہے۔مثلاً ڈان لیکس کے معاملے پر آج کل یہ حلقے بڑی معصومیت سے دو تین سوالات اٹھارہے ہیں۔ یہ کہا جاتاہے کہ ڈان لیکس میں غلط کیا تھا؟ کون سی غلط خبر لیک ہوئی، یا پھر اس پر زیادہ زور دیا جارہا ہے کہ آخر اس معاملے میں کیا کیا جائے، وزیروں کو ہٹانے سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

بات بڑی سادہ ہے، اسے سمجھنا مشکل نہیں۔اس خبر کے دو زاویے ہیں۔ ایک کا تعلق ڈان اخبار اور صحافتی اقدار سے ہے۔ایشو کا دوسرا زاویہ حکومت اور کابینہ سے متعلق ہے۔پہلے اخبار کے معاملے کو دیکھتے ہیں۔

ڈان میں چھپنے والی سرل المےیڈا کی سٹوری غلط تھی یا درست ۔ اگر غلط تھی جیسا کہ حکومت اور ادارے کہتے رہے ہیںاور منطقی طور پر بھی یہ غلط لگتی ہے تو یہ نہایت سنگین ایشو ہے۔ کسی بھی اخبار یا چینل میں ایسی حساس نوعیت کے معاملات پر غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ نہیں ہونی چاہیے۔ صحافت کی وادی پرخار میں دوعشروں سے زائد عرصہ گزارنے کے بعد اس کا اچھی طرح سے اندازہ ہے کہ جہاں کچھ خبریں میڈیا سے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے، وہاں بہت سی خبریں میڈیا پر چھپوانے یا چلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔کوئی صحافی ہو یا میڈیا ہاﺅس، ہر کوئی استعمال ہونے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔آزادی صحافت کو زیادہ نقصان غیرذمہ دارانہ صحافتی طرز عمل سے پہنچتا ہے۔

ایک منٹ کے لیے فرض کر لیں کہ یہ خبردرست تھی، تب بھی اس قسم کی نیشنل سکیورٹی سے متعلق خبریں نہایت احتیاط سے ڈیل کی جاتی ہیں۔ جس انداز میں اسے چھاپا گیا وہ درست نہیں تھا۔ سٹوری کی کنسٹرکشن ٹھیک نہیں تھی، ایسی قطعیت کے ساتھ ایسی خبریں نہیں دی جاتیں، جس میں نام بھی واضح ہوں اور ان کے مکالمے بھی، گویا رپورٹر نے میٹنگ میں بیٹھ کر اسے رپورٹ کیا ہو۔ ہم نے اپنے سینئرز سے دو باتیں سیکھیں، ایک ایسے انداز میں خبر دی جائے یا لکھا جائے کہ ابلاغ بین السطور(Between The Lines)ہوجائے اور کوئی اعتراض بھی نہ کر پائے، دوسرا یہ کہ وہ نہ چھاپا جائے، جسے بعد میں ثابت نہ کیا جا سکے۔ ایسی خبر جس میں رپورٹر خود یہ لکھ رہا ہے کہ جس کسی سے رابطہ کیا گیا، اس نے تصدیق نہیں کی۔ جب کوئی کنفرم کرنے پر تیار ہی نہیں تو بھیا پھر خبر کیوں دے رہے ہو؟ یہ آزادی صحافت کا ایشو ہے ہی نہیں بلکہ یہ بے لگام ، بے مہار صحافت اور خواہشات سے مغلوب ایکOver-ambitious صحافی کی انفرادی کارروائی ہے۔ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لینا بنتا تھا۔ کل کو کسی اخبار یا چینل میں پاکستانی نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے کوئی بے بنیاد سٹوری چل جائے اور پھر معلوم ہو کہ اس کی بنیاد پردنیا میں پاکستان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ بن گئی ۔

یہ بھی پڑھیں:   اقتدار کی بل کھاتی ہوئی کہانی - الطاف حسن قریشی

اس معاملے کا دوسرا زاویہ حکومت اور کابینہ سے ہے۔ ڈان لیکس کے معاملے پر بنیادی سوال یہ تھا کہ ایک ٹاپ سکیورٹی اجلاس کی خبر کس نے باہر لیک کی؟ یہ اہم ترین نکتہ تھا۔ خبر بھی اس قدر تفصیلی اور جامع کہ یوں لگے جیسے اجلاس کے منٹس فراہم کئے گئے ہیں۔ ڈان لیکس کے انکوائری بورڈ کو تمام تر تحقیق اسی نکتے کے گرد کرنی چاہیے تھی کہ آخر وہ کون تھا جس نے خبر لیک کی؟اگلا سوال یہ تھا کہ جو خبر لیک ہوئی ، وہ درست تھی یا غلط ؟ وزیراعظم نواز شریف سے لے کر مختلف وزراءنے واضح الفاظ میں یہ کہا ہے کہ خبر غلط تھی اور ایسی کوئی بات اس اجلاس میں نہیں ہوئی۔ یہی موقف ہمارے سکیورٹی اداروں کا بھی ہے۔ ایسی صورت میں تواس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کہ اس سازشی شخص کو پکڑا جائے جس نے یہ خبر توڑ مروڑ کر ڈس انفارمیشن کے انداز میں لیک کی۔

انکوائری بورڈ کی سفارشات سامنے آنے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ یہ انکوائری بورڈ اپنے اہم ترین ایجنڈے میں کس حد تک کامیاب رہا۔ سردست جو کچھ سامنے آیا ، وہ بظاہر ایک نوٹیفکیشن کی صورت میں تھا، نہایت کمزور ، مٹی پاﺅ سٹائل میں دی جانے والی سفارشات۔ جس میں انتہائی سادگی اور معصومیت سے اخبار والا معاملہ تو اے پی این ایس کے سپرد کرنے کا کہا گیا ۔ گویا یہ سفارش کرنے والے واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ اخباری مالکان کی یہ نمائندہ تنظیم اپنے ایک اہم ترین ممبر اخبار کے خلاف کوئی کارروائی کر سکے گی؟دیگر سفارشات میں طارق فاطمی اور راﺅ تحسین کو ہٹانے کا کہا گیا۔ اصل نکتہ اس میں تھا ہی نہیں کہ وہ خبر کس نے لیک کی اور اس کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے؟ اس پر احتجاج تو بنتا تھا ، کیا بھی گیا۔ اگرچہ ضرورت سے زیادہ سخت الفاظ میں اورخاص کر” مسترد“ کا لفظ غیر ضروری طور پر استعمال کیا گیا۔اس سے منفی تاثر پیدا ہوا اورسوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔ اگر وہ ٹویٹ نہ کیا جاتا یا زیادہ سلیقے سے الفاظ منتخب کئے جاتے تو اس منفی ردعمل کی نوبت ہی نہ آتی ۔یہ بات مگر سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ نوٹیفیکیشن یا جو کچھ بھی تھا، وہ کس لئے جاری کیا گیا؟ وزیرداخلہ کا فرمان ہے کہ یہ نوٹی فکیشن تھا ہی نہیں اور دراصل مزید کارروائی کے لئے یہ وزارت داخلہ کو بھیجا گیا۔ سوال تو یہ ہے کہ چاہے وزارت داخلہ ہی کو بھیجا گیا ،کیا انکوائری بورڈ کی تمام تر سفارشات یہی تھیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو پھر باقی سفارشات مزید کارروائی کے لئے کیا وزارت تعلیم کو بھیجی گئی ؟ یا پھر وزارت ماحولیات وغیرہ سے رائے مانگی گئی تھی؟اگر کوئی یہ رائے قائم کر لے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہی اصل نوٹیفکیشن تھا اور شدید ردعمل کے پیش نظر بعد میں پسپائی اختیار کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومتِ وقت اور ملکی سیاست - شیخ خالد زاہد

ایک اور اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ جس کسی نے یہ خبر لیک کی، اس نے بڑے منظم انداز میں پلاننگ کی۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کسی بھی صحافی کو اس قدر اہم خبر ملے گی تو وہ چھاپنے سے پہلے اسے کنفرم کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ٹاپ سکیورٹی سے متعلق خبرمتعلقہ حکام سے چیک کئے بغیر شائع کی جائے۔اس لئے یہ تو یقینی تھا کہ رپورٹر اس خبر کو کنفرم کرنے کے لئے وزیراطلاعات، پرنسپل انفارمیشن آفیسر اور دیگر اہم حکام سے فون یا ٹیکسٹ کی صورت میں رابطہ ضرور کرے گا۔ انکوائری بورڈ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے سے حتمی بات کی جاسکتی ہے، مگر بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں نہایت ہوشیاری سے کام لیا گیا۔رپورٹر یا اخبار نے ایک سے زیادہ بار متعلقہ حکام سے رابطہ کیا ،مگر انہوں نے خبر کی تصدیق تو نہیں کی(ظاہر ہے ایسی تباہ کن غلطی تو وہ نہیں کر سکتے تھے کہ پھر یہ تصدیق ریکارڈ پر آ جاتی)، مگر اس کی پرزور تردید بھی نہیں کی۔ لگتا ہے بعض لوگوں نے اس میسج یا ای میل کا جواب نہیں دیا ، یعنی نظر انداز کر دیا ۔ ڈان لیکس کے بعد جو بھی کارروائی ہوئی، وہ اسی بنیاد پر ہوئی کہ ان لوگوں نے علم ہوجانے کے بعد بھی خبر رکوانے کی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ خبر کی حساسیت اور اہمیت کو جانتے ہوئے انہیں اسے رکوانے کی کوشش کرنا چاہیے تھی۔ کوئی چاہے تو اسے دانستہ خاموشی یا عدم فعالیت قرار دے سکتا ہے۔

ویسے بھی جس جس کے خلاف کارروائی کی گئی، اس کا کیا فائدہ ہوا؟ایک صاحب نے عدالت میں جانے کا اعلان کیا اور خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ اس کا مشورہ خود حکومت نے دیا۔ ایک صاحب نے وزارت خارجہ کے افسران کے نام ایک جذباتی خط لکھا جس میں اپنی خدمات کے گیت گائے اور برطرفی کو ظلم قرار دیا۔ پرویز رشید صاحب جن سے وزارت لی گئی، وہ خود کو عظیم جمہوری شہید کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔گزشتہ روزآنجناب نے ازراہ تمسخر فرمایا کہ خبر رکوانا وزیر اطلاعات کا کام نہیں ،اگر ایسا ہے تو اس کے لئے یونیورسٹیوں کو نیا کورس شروع کرنا چاہیے۔ جناب پرویز رشید کی حس مزاح قابل رشک ہے، مگر صحافی اداروں میں کام کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ کس جنونی انداز سے روزانہ محکمہ اطلاعات کے افسران اور وزراءمختلف خبریں رکواتے اورحکومت کے حق میں جانے والی خبریں نمایاں کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ پرویز رشید صاحب کا دور بھی سب کے سامنے ہے، وہ جو جو کچھ کرتے رہے، کسی سے چھپا ہوا نہیں ، اتنی معصومیت اوربھولپن انہیں زیب نہیں دیتا۔

بات صاف ہے، انکوائری بورڈ کابنیادی کام اس اصل مجرم کی نشاندہی کرنا تھاجس نے خبر لیک کی۔ اگر بورڈ یہ معلوم کرنے میں ناکام رہا تو افسوسناک ہے۔اس کی باقی سفارشات پھر ازخود صفر ہوجاتی ہیں، ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ ڈان لیکس کے ایشو کواپنے فطری انجام تک پہنچانا ہوگا۔ اس کے بغیر یہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مصنوعی کوششیں مزید بگاڑ پیدا کریں گی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.