مسلم نشاۃ ثانیہ کا پریشان خواب - خواجہ احسان الحق

مختار مسعود مرحوم لکھتے ہیں کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع کیا جائے تو لشکر کشی اور خود کشی مترادفات بن جاتے ہیں۔ حکمرانوں کو یہ حکایت پڑھنے کی اور بار بار پڑھنے کی ضرورت ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں محترمی طیب اردگان کو بہت زیادہ ضرورت ہے۔

ترک قوم ایک سخت وقت سے گزری ہے۔ ترقی اور کامیابی کے لیے اس نے محنت کی ہے، جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں اور اس کے ثمرات سمیٹنے کی وہ سزاوار ہے۔ آج سے قریباً صدی قبل مصطفیٰ کمال نے ترک قوم کو جمود سے نکال کر جدیدیت کی راہ پر گامزن کیا تھا۔ کہنے کو معاشرے میں سیکولر ازم رائج کیا لیکن اس کی آڑ میں ترک عوام کو بدترین شخصی اور معاشرتی پابندیوں میں جکڑ دیا۔ اقبال ترکی کے جدید منظرنامے سے بہت پرامید تھے لیکن جب انہوں نے جمہوریت کو آمریت کا پروردہ بنتے دیکھا تو مصطفیٰ کمال سے روح شرق کی تجسیم کی امید ختم کر دی۔

ترکی میں بھی جمہوریت کو بلڈی سویلینز کی ایک فضول خواہش سے زیادہ کا درجہ کبھی نہیں دیا گیا اور وہاں بھی فوجی بوٹ مفاد عامہ کے پیش نظر معاشرتی برائیوں کے سدھار کے لیے وقتاً فوقتاً آتے رہے ہیں۔ یہاں ذوالفقار علی بھٹو تو وہاں نجم الدین اربکان اور عدنان میندرس اس سدھار کی بھینٹ چڑھے۔ اسلام پسند ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری پارٹی کا نام تبدیل کرتے رہے لیکن جمہوری نظام سے مایوس نہیں ہوئے اور بالآخر 1993 ء میں جب طیب اردگان کو استنبول کے میئر کا عہدہ ملا تو انہوں نے جرائم اور مسائل میں گھرے اس شہر کی حالت بدل کر رکھ دی۔ آثار قدیمہ اور عثمانی سلطانوں کی تعمیرات سے پر اس شہر کو سیاحت کے لحاظ سے یورپ کے برابر لا کھڑا کیا۔ اس کارکردگی کے نتیجے میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی 2003ء کا الیکشن باآسانی جیت گئی اور اردگان کے زیر قیادت ترکی نے ترقی کے نئے سفر کا آغاز کیا۔ اردگان کا پہلا دور ترکی کے لیے امن، عزت اور خوشحالی کا نیا باب ثابت ہوا۔ انتہائی محنت سے اس 'مرد بیمار' کے جسم میں نئی روح پھونکی گئی اور ہمیشہ یورپ کے معاشی رحم و کرم پر رہنے والا یہ ملک عالمی کساد بازاری کے دنوں میں نہ صرف اپنے مضبوط قدموں پر کھڑا رہا بلکہ یورپ کو امداد کی بھی پیشکش کی۔

یہ بھی پڑھیں:   عرب اور مغربی میڈیا اور ترکی کے حالات - عالم خان

پہلے دور میں معیشت پر بھرپور توجہ دینے کے بعد حکومت اس قابل ہوگئی کہ متنازع امور میں بھی سلجھاؤ پیدا کرسکے۔ چنانچہ ترکی سے بتدریج پابندیوں کا خاتمہ شروع ہوا۔ حجاب اور اذان سے پابندی ہٹائی گئی اور ترک خاتون اول بھی حجاب میں نظر آنے لگی۔ فوج کے سات جرنیلوں کو بہ یک وقت معزول کر کے جمہوری حکومت کی برتری اور حاکمیت کا پیغام دیا گیا۔ انہی دنوں 'عرب بہار' کے نتیجے میں مرسی کو مصر میں اقتدار ملا تو فوج اور عدلیہ سے رسہ کشی کے نتیجے میں ایک سال کے اندر ہی اقتدار سے فراغت نے اردگان کی پہلے دور میں متنازع امور سے دوری کی پالیسی پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ غزہ کے معاملے پر اردگان کے اقدامات سے مسلم امہ ترکی کی قیادت میں ایک بار پھر نشاۃ ثانیہ کے خواب دیکھنے لگی تھی لیکن آج اس خواب کی تعبیر پریشان نظر آرہی ہے۔

ترکی بتدریج متنازع امور میں الجھتا چلا جا رہا ہے۔ روس، ایران اور شام سے اختلافات دشمنی کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ دنیا کی کسی بھی علاقائی طاقت کے لیے خطے کی سیاسی صورتحال میں دلچسپی ایک ناگزیر امر ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اسے اپنا دامن شعلوں سے کیسے بچانا ہے۔ ترکی کے یہ اختلافات جہاں اس کے لیے سیکیورٹی کے مسائل پیدا کررہے ہیں وہیں اس کے معاشی اور تجارتی مفادات کو بھی زک پہنچا رہےہیں۔

بیرونی اختلافات کے ساتھ ساتھ اردگان نے بے شمار اندرونی محاذ بھی کھول رکھے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے دو ادوار مکمل کرنے کے بعد صدارت کا عہدہ اور اب اگلی مدت کے لیے آئینی ترمیم اور ریفرینڈم کا انعقاد یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بھی اقتدار سے چمٹے رہنے کی روایتی علت میں مبتلا ہو چکے ہیں اور دوسرا یہ کہ ایک طویل حکمرانی کے دوران وہ کوئی متبادل قابل اعتماد لیڈر تیار نہیں کر پائے جو ان کی نگرانی میں امور حکومت چلانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ حالیہ ریفرنڈم میں 51 فیصد اکثریتی رائے سے وہ ایک طویل مدت کے لیے عہدہ صدارت پر رہنے کا قانونی جواز تو حاصل کرچکے ہیں لیکن پاکستان جیسے ریفرنڈم سے متاثرہ ملک کے شہری بخوبی جانتے ہیں کہ 51 فیصد کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے۔ شواہد نظر آرہے ہیں کہ ترک عوام اپنے محبوب لیڈر سے اکتاہٹ کا شکار ہو رہی ہے اور ترک صدر کی اصل توانائیاں ملک کی بہتری کی بجائے اپنے اقتدار کو محفوظ تر بنانے کی سرگرمیوں پر صرف ہورہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ ترکی جسے فرانس اور جرمنی مرد بیمار کہتا تھا آج اسکے ایک سیلوٹ سے خوفزدہ ہے -

لیکن اس سے بھی مہلک عمل اردگان میں تیزی سے ختم ہوتی سیاسی برداشت کا ہے۔ حالیہ بغاوت کی کامیاب سرکوبی ایک مستحسن عمل تھا۔ اس کے بعد اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرتے ہوئے بغاوت کی اصل وجوہات کا جاننا ازحد ضروری تھا لیکن یہ سارا عمل فتح اللہ گولن کی مخالفت اور ساری دنیا میں موجود اس کے نیٹ ورک کے خاتمے کی کوششوں پر مرکوز ہوکر رہ گیا۔ جس شرمناک طریقے سے پاکستان پر پاک ترک سکولوں کے اساتذہ کی حوالگی کے لیے دباؤ ڈالا گیا وہ بھی اتنہائی قابل مذمت امر تھا۔ لیکن آج بغاوت کو کئی ماہ گزرنے کے باوجود ترکی کے اندر گرفتاریوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آرہا۔ جس شخص پر گولن سے وابستگی کا ذرا سا بھی شبہ ہو اسے پس زندان ڈال دیا جاتا ہے۔ اس امر سے لامحالہ ترک عوام میں بے چینی اور مایوسی بڑھے گی اور ضروری نہیں کہ خاکم بدہن جب دوبارہ غیر جمہوری قوتیں آپ کے خلاف صف آرائی کریں تو آپ کی یہ عوام دوبارہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالے سڑکوں پر آجائے اور ٹینکوں کے سامنے لیٹ جائے۔ ترکی میں پنپتی جمہوریت آمریت سے متاثرہ کسی بھی معاشرے کے لیے رول ماڈل اور امید ہے۔ خدارا دنیا کی مظلوم عوام سے یہ امید مت چھینیے!