’پوسٹ کولڈوار‘ سیناریو سمجھنے کی ضرورت (2) – حامد کمال الدین

کافر کی ہمارے خلاف جنگ کا پہلا محور:

’’مسلمان‘‘ کو کسی بڑی جغرافیائی اکائی کے طور پر روئےزمین سے ختم کر ڈالنا

یہ جنگ جو عالم اسلام کے حق میں محض کچھ وقائع نہیں بلکہ ایک ’’دور‘‘ ہے، اور جس نے سرد جنگ ختم ہونے کے اگلے ہی دن جزیرۂ عرب میں ڈیرے لگا دیے اور ایک نئی ترتیب سے وہاں کے پانیوں اور پٹرول کے سوتوں پر آ بیٹھی، پھر چند ہی سال میں وہاں سے افغانستان و جنوبی ایشیا اور پھر اس کے ساتھ ہی عراق اور آخر پورے مشرق وسطیٰ اور ایشیائے کوچک (حالیہ ترکی) تک پھیل گئی اور اب عالم اسلام کی دو بڑی قوتوں پاکستان اور ترکی کے گرد طریقےطریقے سے منڈلا رہی اور ان کے خلاف ہزاروں اندرونی و بیرونی عوامل کو حرکت دینے میں لگی ہے… عالم اسلام کے خلاف جاری اِس جنگ کے دو ہی بڑے محور ہیں۔ ان میں سے پہلا یہ کہ: ’’مسلمان‘‘ کو کسی بڑی جغرافیائی اکائی کے طور پر روئےزمین سے ختم کر دیا جائے۔ حتیٰ کہ چند بڑی بڑی جغرافیائی اکائیوں کے طور پر بھی ’’مسلمان‘‘ کو روئےزمین پر نہ رہنے دیا جائے۔

سلسلۂ مضامین کی پہلی قسط
https://daleel.pk/2017/04/25/40871

اب جا کر معاملہ ان کے ہاتھ سے کچھ نکلتا محسوس ضرور ہو رہا ہے، وللہ الحمد، تاہم اُن کے ’سن دو ہزار ایک‘ والے تیور دیکھیں تو پروگرام یہی تھا کہ مسلمانوں کا کوئی بڑا خطہ مستحکم نہ چھوڑا جائے۔ یعنی کوئی گھر مسلمانوں کا ایسا نہ ہو جس میں یہ ’کروڑوں‘ کی تعداد میں اپنی قوت اور وسائل مجتمع کر سکتے اور اپنی قسمت کے آپ مالک ہو سکتے ہوں۔ مسلمانوں کا کوئی طاقتور خطہ جو کافر کے ساتھ برابری کی سطح پر آ سکتا ہو۔ بلکہ (گلوب پر اپنی مرکزی پوزیشن، اپنے بےتحاشا وسائل، خصوصاً اپنی ایک ہوش ربا ڈیموگرافی کے بل پر) کسی دن کافر پر فوقیت پا سکتا ہو، جس کے امکانات کچھ ایسے معدوم بھی نہیں رہ گئے اگر بعض مسلم ممالک یونہی پنپتے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ صلیبی/صیہونی/بھارتی الائنس اپنے ان بھاری بھرکم امکانات کے ساتھ جو اُسے آج حاصل ہیں، عالم اسلام کے ایسے کسی مستقبل کا سدباب کر جانا چاہتا ہے۔

مسلمانوں کا ایسا کوئی گھر ’اسلامی نظام‘ پر بےشک آج نہ بھی کھڑا ہو، اور چاہے وہاں دین سے دُوری کے ان گنت مظاہر بھی دیکھنے میں آتے ہوں، اور بےشک قرآن بھی وہاں بےسوچے سمجھے ہی فی الحال پڑھا جا رہا ہو، اذان اور نماز کے کلمات بھی فی الحال ان کی زندگیوں میں کوئی خاص مضمون ادا نہ کر پا رہے ہوں… اس کے باوجود اذانوں کا کوئی دیس ایسا نہ چھوڑا جائے جو ’کروڑوں‘ پر مشتمل ہو۔ ’لاکھوں مربع میل‘ پر کھڑا ہو۔ ’وسائل‘ کا ایک بڑا ذخیرہ رکھتا ہو۔ کسی ’بڑی فوج‘ کا مالک ہو۔ کوئی ’ایٹمی طاقت‘ رکھتا ہو۔ کسی ’بڑی عسکری قوت‘ کا مخزن ہو۔ کسی علاقائی یا عالمی توازن کے اندر کوئی اہم ’ایکویشن‘ equation بنا سکتا ہو۔ مسلمان بےدین سے بےدین بھی اِس حیثیت میں قبول نہیں۔ اور وہ بھی فی الحال۔ ورنہ؛ مسلمان کسی بھی حیثیت میں قبول نہیں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اور ترکی دنیا کی چند بڑی فوجی طاقتوں میں آتے ہیں۔ (صدام کا عراق بھی دنیا کی کچھ قابل ذکر فوجی طاقتوں میں آنے لگا تھا، جو اَب صلیب کی ڈاڑھ تلے آ چکا، اور وہ عراق اِس وقت عبرت نگاہ ہے۔ کوئی فرضی اور ’کانسپی ریسی‘ کہانی نہیں ہے)۔ پاکستانی انٹیلی جنس دنیا کی پہلی چار یا پانچ انٹیلی جنسوں میں آتی ہے اور گلوب کا ایک قابل ذکر کھلاڑی۔ ترکی یورپ کی ابھرتی ہوئی ایک اقتصادی طاقت ہے، اس وقت جب یورپ کی کئی معیشتیں بیٹھ رہی ہیں۔ نیز مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی ایک سیاسی طاقت اور بحر ابیض کا ایک مرکزی ترین کھلاڑی۔ ادھر افغانستان میں ایک ’’پاکستان دوست‘‘ حکومت کے آتے ہی وسط ایشیا تک جو ایک سُنی بلاک بنتا ہے وہ ’بھارت‘ سے بڑی ایک ایمپائر ہے۔ مسلمانوں کے یہ دو سُنی پول two sunni poles at the heart of the globe (ایک ابھرتا ہوا ترکی مغرب میں، اور ایک ریجنل پاور کے طور پر نمایاں ہوتا پاکستان مشرق میں) کسی ’دورِعثمانی‘ کی یاددہانی نہ بھی ہو، ’دورِ ممالیک‘ ایسا ایک داخلی استحکام تو مسلم دنیا کو پھر بھی دلواتا ہے؛ جہاں مسلم پانیوں میں ہر کسی کو پوچھ کر گزرنا پڑتا ہے۔ یعنی زمین کے مرکز میں مسلمانوں کی چلتی ہے اگرچہ عالمی فیصلوں پر وہ ابھی نہ بھی اثرانداز ہوں۔ کوئی ’بڑی مجبوری‘ نہ ہو تو ملتِ صلیب ایسی کسی صورت کو واپس آتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔

ادھر ہمارے کچھ دینداروں کے خیال میں، چونکہ یہاں اسلامی شریعت قائم نہیں ہے اس لیےکافر کو ہمارے اِن مسلم ملکوں پر حملہ آور ہونے یا انہیں غیرمستحکم کرنے کی کیا ضرورت! (بلکہ وہ تو ہمارے اِن حضرات کے خیال میں اِن مسلم ملکوں کو مستحکم کرنے کی فکر میں ہو گا!) معاملے کی یہ ایک نہایت سطحی یا شاید گمراہ کن تصویر ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اِس اشکال ہی کا ازالہ کرنا ہوگا؛ جوکہ ہماری آئندہ تحریر (دشمن آپ کے صرف ’آج‘ کو نہیں دیکھتا) کا موضوع ہے۔ اس ازالۂ اشکال کے بعد ہم اپنے اصل مضمون کی جانب لوٹ آئیں گے۔
(جاری ہے)

Comments

FB Login Required

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین ایقاظ (ماہنامہ، ویب سائٹ) کے ایڈیٹر، اور 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ دین سے وابستہ تحریک اور معاشرہ، اصولِ سنت، تجدید اور تجدد کے مابین خط فاصل کا بیان ان کا دلچسپی کے موضوعات ہیں

Protected by WP Anti Spam