حضرت ابراہیم بن ادہم – علی حسین

آپ ؒ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ حضرت داتا گنج بخش ؒ آپؒ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپؒ ”امیراُمراء“ ہیں۔ آپ ؒ کا تعلق خراسان کے بادشاہوں کی اولاد سے تھا اور امیر بلخ تھے۔ آپ ؒ ان چند ہستیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے تخت و تاج کو چھوڑ کر فقر کو اختیار فرمایا، اس وجہ سے حضرت داتاگنج بخش ؒ نے آپؒ کو ”امیرامراء“ کا لقب دیا. اس میں دونوں طرف اشارہ ہےکہ آپ ؒ دنیا کے بادشاہوں کے بھی بادشاہ ہیں اور دینی بادشاہوں کے بھی بادشاہ ہیں۔ آپؒ کا ایک لقب ”سالکِ طریقِ لقاء“ ہے. اس کا مطلب ہے راہِ مشاہدہ کا مسافر۔ جب آپؒ نے توبہ کی تو پھر ہر قدم پر دو رکعت نفل ادا کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کی طرف سفرکیا جب وہاں پہنچے، کیفیت بدلی تو پھر کعبہ مقصود بالذات نہ رہا بلکہ کعبے والا مقصود بالذات بن گیا۔ آپؒ کا ایک لقب ”یگانہ عارفِ طریقت“ ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ ؒ اپنی ذات و صفات میں، اپنےکلام و افعال میں اور اپنے احوال میں یگانہ ہیں، آپؒ نے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں متاثر کیا بلکہ غیر مسلم بھی آپ ؒسے متاثر ہوئے۔ آپؒ کا ایک لقب ”سید اقران“ ہے، اس کا مطلب یہ ہےکہ آپؒ کے زمانے کے جتنے اولیاء کرام ہیں سب آپ ؒ کی عظمت کےمعترف ہیں اور سب آپؒ کو اپنا امام مانتے ہیں۔

آپؒ کی توبہ کا قابل ذکر ہے.
جب آپؒ بادشاہ تھے تو ایک دفعہ دربار میں ایک بدو آیا:
آپؒ نے پوچھا: کون ہو؟
بدو نے جواب دیا: مسافر ہوں۔
آپؒ نے پوچھا: یہاں کیا کرنے آئے ہو؟
بدو نے جواب دیا: سرائے میں آیا ہوں، کہیں ٹھہرنا ہے ۔
آپؒ نے کہا: یہ شاہی دربار ہے سرائےنہیں، آپ کسی سرائے میں جا کر ٹھہریں۔
بدو نےجواب دیا: یہ بھی سرائے ہی ہے، میں نے یہاں قیام کرنا ہے.
یہ کہتے ہوئے بدو آپؒ کے پاس آگیا اور کہا:
آپ بادشاہ ہیں ؟
آپؒ نے جواب دیا: جی ہاں۔
بدونےکہا: آپ سے پہلے یہاں کون بیٹھتا تھا؟
آپؒ نےجواب: میرے والد صاحب۔
بدو نے پوچھا: ان سے پہلے کون تھا؟
آپؒ نے جواب دیا: میرے دادا۔
بدو نے کہا: سرائے اسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی تھوڑی دیر کے لیے ٹھہرتا ہے، پھر چلا جاتا ہے، اس کی جگہ کوئی دوسرا آجاتا ہے۔
بدو کا یہ کہنا تھا کہ دل کوایسی چوٹ لگی کہ آپؒ سوچ میں پڑ گئے۔

رات کوخواب گاہ میں سوئے تو چھت پر غیرمعمولی حرکت محسوس کی،
آپؒ نے پوچھا: یہ شور کیسا ہے؟
جواب آیا: ہم اپنے اونٹ تلاش کر رہے ہیں۔
آپؒ نےکہا: اونٹ محل کی چھتوں پر تھوڑی ہوتے ہیں؟ کسی جنگل میں جا کر تلاش کرو۔
جواب ملا: رب کو بھی نرم گرم بستروں پہ تلاش نہیں کرتے، رب کو تلاش کرنا ہےتو پھر اس کی راہ میں مشقت اٹھاؤ۔ یہ سن کر آپ ؒ کے دل کو پھر چوٹ لگی، توبہ کی اور فقر کے راستے کی طرف نکل گئے۔ دنیا سےکنارہ کشی اختیارکی اور زہد و تقویٰ کے راستے کو اختیار کیا۔

توبہ کرنے کے بعد آپؒ نے بیت المال سےکچھ نہیں لیا بلکہ کام کر کے کمانا شروع کیا یعنی آپؒ کی توبہ میں صدق اس درجے کا تھا کہ اس کا آغاز ہی توکل کےدائرے سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی شانِ کریمی ہے کہ وہ بندے کو بار بار موقع دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر کے لوٹ آئے۔ آپؒ کو سمجھ آگئی کہ اب وہ وقت آگیا ہے، اب مجھے اپنے رب کی طرف مڑ جانا چاہیے۔ بعض اوقات انسان پر جب ایسا لمحہ آتا ہے تو وہ پہچان نہیں پاتا، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس پر غفلت کا غلبہ ہوتا ہے، لہذا اس لمحےکو پہچاننے کے لیے ہمیں چاہیے کہ غفلت سے نکلیں اور اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر غور کریں۔

آپؒ نے بہت سے مشائخ سے صحبت پائی جن میں حضرت سفیان ثوری ؒ بھی شامل ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کی مجلس میں حاضر ہو کر ان سے علم حاصل کیا۔ یہ وہ دور تھا جب فقہ میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کا نام تھا اور لوگ آپؒ سے رجوع کرتے تھے، آپؒ کے حلقے میں ہر درجے اور ہر مکتبہِ فکر کے لوگ جمع ہوا کرتے تھے۔

آج پیری مریدی کے لیے دو صورتیں بن گئی ہیں، پہلی صورت میں گدی میراث میں مل جاتی ہے جبکہ دوسری چھ ماہ چلہ لگا کر گدی بنا لی جاتی ہے۔ آج طریقت اور خانقاہی حلقوں میں آدابِ مرید پر تو بہت زور دیا جاتا ہے لیکن شیخ کی اہلیت کا کوئی معیار نہیں ہے۔ کسی بھی مرتبے کے لیے تین چیزیں ہوتی ہیں پہلاعلم، دوسراعمل اور تیسرا اخلاص، اگر علم درست نہیں تو عمل کبھی درست ہو نہیں سکتا، اگرعلم اور عمل دونوں ہیں لیکن اخلاص نہیں ہے تو پھر بھی منزل نہیں مل سکتی. ان تینوں کا ہونا بہت ضروری ہے، جب تک یہ پیکج مکمل نہیں ہوگا تب تک مرتبہ نہیں مل سکتا۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہےکہ دو چار قدم چلنے کو ہی منزل سمجھ کر ڈیرہ ڈال لیا جاتا ہے، اس لیےمنزل نصیب نہیں ہوتی۔

حضرت جنید بغدادی ؒ آپؒ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: آپ ؒطریقت و معرفت کےعلوم کی کنجیاں ہیں۔
اس قول کی وضاحت یہ ہے کہ آپؒ کے پاس نہ صرف ظاہری علوم تھے بلکہ اسرار و معارف بھی تھا، ان علوم سے جنید و بایزید جیسی ہستیوں نے استفادہ کیا۔
حضرت ابراہیم بن ادہم ؒارشاد فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ کو اپنا دوست بناؤ اور لوگوں کو ایک طرف کر دو۔
حضرت داتاگنج بخش ؒ اس کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: جب بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بن جاتا ہے تو پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، اس میں اخلاص آ جاتا ہے۔ احکام کی پیروی میں اخلاص اس وقت نصیب ہوتا ہے جب بندے کی اللہ تعالیٰ سے محبت میں اخلاص ہو اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں اخلاص اس وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان اپنی نفسانی خواہشات کا دشمن بن جائے۔ جوشخص نفسانی خواہشات کا پیروکار ہوگا وہ اللہ تعالیٰ سے جدا ہوگا اور جو شخص نفسانی خواہشات کو ترک کر دیتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا فیض ملتا ہے۔ ہر شخص کا کسی نہ کسی سطح پر اللہ تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ کیا وہ تعلق مادی مفادات پر مبنی ہے، کیا وہ ذہنی تعلق ہے، اورکیا قلبی تعلق ہے۔ صوفیاء کا ٹارگٹ اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ خالق تک ہماری رسائی میں مخلوق حائل نہ ہو (اس کا مطلب یہ ہے کہ بندے کا ظاہر تو مخلوق کے ساتھ ہو لیکن اس کا باطن اللہ تعالیٰ کی محبت میں غرق ہو). یہ شدتِ طلب کی انتہا ہے۔

روحانی تجربے کے بغیر دین کا حقیقی فہم محال ہے. جب تک انسان خود روحانی تجربے سے نہیں گزرتا، وہ دین کو اپنا تجربہ نہیں بنا سکتا۔ح ضرت شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں جو علم حق کی راہ نہیں دکھاتا وہ علم ہی نہیں بلکہ جہالت ہے۔ جب بندے کو چیزیں اپنی حقیقت کے ساتھ دکھائی دینے لگیں تو وہ صوفی بن جاتا ہے، اس سے پہلے وہ راہِ تصوف کا مسافر ہوتا ہے۔ جب اللہ رب العزت کی طرف سفر ہوتا ہے تو اس کی پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ اس میں ملاوٹ نہ ہو۔ صوفیاء اس معاملے میں اتنی احتیاط برتتے تھے کہ مسجد میں جاتے ہوئے نہ تو وہ رکتے تھے اور نہ راستے میں کسی سے بات کرتے تھے سوائےاس کے کہ چلتے چلتے کسی کو سلام کر دیا، اسی احتیاط کی وجہ سے اخلاص پیدا ہوتا ہے اور پھر استقامت آتی ہے. صوفیاء فرماتے ہیں کہ استقامت کرامت سے اوپر کی چیز ہے۔ جب استقامت آتی ہے تو پھر مشاہدہ آتا ہے، پھر عبادت زبردستی کی نہیں ہوتی بلکہ وہ ذوق اور لذت والی بن جاتی ہے۔

حق کے طلب گار کو دو طرح کی استقامت حاصل ہوتی ہے، ایک ظاہری اور دوسری باطنی، ایک کا تعلق علم سے ہے جبکہ دوسری کا تعلق عمل سے ہے۔ علم سے تعلق سے مراد یہ ہے کہ انسان اس بات کا یقین رکھے کہ ہر تقدیر خواہ اچھی ہو یا بری، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ کوئی شخص کسی متحرک چیز کو ساکن کر سکتا ہے نہ ساکن کو متحرک کیونکہ ہر چیز میں حرکت اور سکون پیدا کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ عمل سےمراد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرے، اپنےمعاملات درست رکھے، فرائض اور واجبات باقاعدگی سے ادا کرے۔ ہر وہ حالت جو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر سے متعلق ہو، اسے اللہ تعالیٰ کےحکم کو ترک کرنے کے لیےحجت نہیں بنایا جا سکتا، اس لیے مخلوق سے کنارہ کشی اس وقت تک درست شمار نہیں ہوگی جب تک انسان اپنی ذات سےکنارہ کش نہیں ہو جاتا، جب انسان اپنی ذات سےکنارہ کش ہوجا ئےگا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مخلوق سے بھی کنارہ کش ہو چکا اور اسے اپنی مراد حاصل ہوگئی۔ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ محبت ہو جاتی ہے تو پھر اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی میں ثابت قدمی نصیب ہو جاتی ہے، پھر اسے مخلوق سے سکون نہیں ملتا کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی اور چیز سے سکون حاصل کرنا ہے تو وہ منافی اقدام ہوگا۔

جب کسی کام کی معرفت حاصل ہوجائے اور اس کے فائدے کے بارے میں بھی پتا چل جائے تو پھر دل اس کام کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ دل کے اس ارادے کو بحال رکھنے کے لیے عمل شروع کر دینا چاہیے کیونکہ جب دل اعمال میں مشغول ہو جاتا ہے تو اس کا میلان مضبوط ہو جاتا ہے، اور پھر اس کا اس کیفیت سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے، یعنی جس شخص کو گناہ کرنے کی شدید خواہش ہو لیکن اگر وہ اپنے آپ کو نیک کاموں میں مصروف کر لے تو اس کی گناہ کی خواہش بالآخرختم ہوجاتی ہے۔

حضرت ابراہیم بن ادہمؒ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں جنگل میں پہنچا تو ایک بوڑھا شخص سامنے آیا، اس نےمجھ سے کہا: اےابراہیم! تم جانتے ہو، یہ کون سی جگہ ہے؟ جہاں تم کسی زادِ راہ اور کسی سواری کے بغیر جا رہے ہو، آپؒ کو اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ یہ شیطان ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ: میرے پاس چاندی کے چار سکے تھے، جو ایک زنبیل بیچ کر حاصل کیے تھے، میں نے انہیں پھینک دیا اور پھر نذر مانی کہ میں (اس بےآب وگیاہ وادی جہاں سواری بھی پاس نہیں ہے) ہر ایک میل کے بعد چار سو رکعت ادا کروں گا، چاہے مجھے اس وادی کو پار کرنے میں کتنا ہی عرصہ کیوں نہ لگ جائے۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ میں نے چار سال اس جنگ میں گزار دیے۔

حضرت ابراہیم بن ادہمؒ ان جلیل القدر ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے اکابر اولیاء سے فیض لیا اور اس پر عمل کیا۔ آپؒ نے161ھ میں ایک جنگ میں شرکت کی اور اس میں آپؒ کو شہادت نصیب ہوئی۔ جب لمحہ وصال تھا تو اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ذرا میری کمان تھوڑی سے کھینچ کر مجھے پکڑانا، جیسے ہی آپ ؒ نے اس کمان کو پکڑا، آپؒ کی روح پرواز کر گئی۔

آج کے دور میں دنیا پرستی اور تعیش پرستی کا رجحان بہت زیادہ ہوگیا ہے، اور آنے والی نسل نے اپنی ایک الگ منزل بنا لی ہے، ایسے میں ہمیں ان بزرگانِ دین کی حیات کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ہمیں مادیت سے روحانیت کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔

(استفادہ؛ کشف المحجوب، حضرت علی بن عثمان ہجویرؒی)

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam