عاشقوں کی جنت - حافظ محمد زبیر

دوست کا کہنا ہے کہ اگر کسی لڑکے کو دوسرے لڑکے سے شدید محبت ہو جائے تو اس کا کیا علاج ہے؟
جواب: یہ چیز نارمل ہے، اس کو ایبنارمیلٹی نہیں سمجھنا چاہیے اور صرف لڑکوں میں نہیں بلکہ لڑکیوں میں بھی ہو جاتا ہے۔ اور یہ عموما ہاسٹل لائف میں زیادہ ہوتا ہے کہ ایک روم میٹ کو دوسرے روم میٹ سے شدید محبت محسوس ہوتی ہے لیکن ہاسٹل لائف اس کی وجہ نہیں ہے کہ یہ بعض اوقات کلاس فیلوز میں بھی ہو جاتا ہے اور یہ بہت عام ہے۔

مجھے ہمیشہ ایسے مسائل کو حل کرنے سے دلچسپی رہتی ہے کہ جنہیں لوگ مشکل سمجھ کر چھوڑ دیتے ہوں۔ معلوم نہیں میرا مزاج ہی ایسا ہے۔ اور میں یہ بھی کوشش کرتا ہوں کہ کسی مسئلے کو ایک سوشل سائنٹسٹ اور سائیکالوجسٹ کے رویے سے حل کروں نہ کہ مفتی اور مولانا کے طریقے پر۔ میں رہنمائی تو مذہب ہی سے لیتا ہوں اور مذہب کا گہرا مطالعہ بھی کرتا ہوں اور تمام مسائل کا بہترین حل مذہب ہی کو سمجھتا ہوں لیکن اہل مذہب کے سخت رویے کی وجہ سے لوگ اب ان سے مسئلہ پوچھتے بھی گھبراتے ہیں لیکن سوشل سائنٹسٹ اور سائیکلوجسٹ کے سامنے اپنی پوری زندگی کھول دیتے ہیں۔

مجھے یہ ماننے میں عار نہیں ہے کہ ہم مذہبی لوگوں کے رویوں کی وجہ سے ہم میں اور معاشرے میں بہت گیپ پیدا ہو چکا ہے۔ لوگ آج بھی علماء پر اعتماد کرتے ہیں، انہی سے مسئلے کا حل چاہتے ہیں لیکن وہ ان سے خوف اور ڈر محسوس کرتے ہیں۔ مجھ سے جب بہت سے لوگ سوال کرنے سے پہلے پوچھتے ہیں کہ آپ ڈانٹیں گے تو نہیں یا ناراض تو نہیں ہوں گے تو میں شرمندہ ہو جاتا ہے کہ معلوم نہیں عام لوگوں کے ذہنوں میں علماء کا کیا تصور موجود ہے۔ اور اسے پیدا کرنے میں کچھ علماء کا بھی کردار ہے۔ پس میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر علماء کو اپنے معاشروں کو اسلام پر لانا ہے تو ہمیں اپنے رویے سوشل سائنٹسٹوں اور سائیکالجسٹوں جیسے بنانے ہوں گے۔

مجھے تھوڑے بہت غور سے یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ انسانی شعور کی مختلف فیکلٹیز ہیں، جن میں ایک جمالیاتی (Aesthetics) شعور ہے۔ جب انسان بالغ ہو رہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے شعور کی بہت سی فیکلٹیز اپنی ورکنگ کا آغاز کر رہی ہوتی ہیں اور اس آغاز میں وہ بہت کچھ غلطیاں کرتی ہیں اور سیکھتی بھی ہیں کہ جن میں سے ایک جمالیاتی شعور بھی ہے۔ جمالیاتی شعور کا ایک مقصد حسن کی تلاش، تعین اور اس کو چاہنا بھی ہے تو چودہ سے پچیس سال کی عمر میں انسان عام طور حسن کے ایک ناقص، نامکمل بلکہ نابالغ تصور کی وجہ سے کسی ہم جنس دوست کی شدید محبت محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے، بے چین کر دینے والی محبت، لیکن یہ عارضی ہوتی ہے، کبھی ہمیشہ نہیں رہتی بلکہ جیسے جیسے انسان کا تصور حسن بالغ ہوتا جاتا ہے، یہ ختم ہوتی جاتی ہے۔

اب اگر کوئی شخص اس میں پھنس گیا ہو تو اس کے نکلنے کے دو رستے ہیں۔ ایک تو امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب روضۃ المحبین میں پیش کیا ہے کہ جس کا اردو ترجمہ ’’عاشقوں کی جنت‘‘ کے نام سے موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کی جلد از جلد شادی ہو جائے اور شادی سے یہ مسئلہ سو فیصد حل ہو جاتا ہے لیکن ننانوے فی صد کا کہ ایک فی صد پھر ایسے ہو سکتے ہیں کہ جن کا جمالیاتی شعور کسی ذہنی الجھن (mental disorder) کی وجہ سے بالغ نہ ہو پائے۔ اور اگر شادی ممکن نہ ہو تو اس کا بہترین علاج دوری ہے، دوری سے مراد ہجرت ہے، وہ شہر چھوڑ دیں، ہمیشہ کے لیے نہیں، صرف تین ماہ، اور یہ بھی میں زیادہ بتلا رہا ہوں، چالیس دن میں ایسا محبوب دل سے اتر جاتا ہے۔