مزدور، فیکٹری حادثات اور اسلامی قانون - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

استادِ محترم جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ کہا کہ پاکستان میں قانونی نظام کو اسلامی قانون کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ ابتدا سزاؤں سے کی گئی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر ان قوانین کی طرف توجہ کی جاتی جن کے ذریعے معاشرے میں ظلم اور استحصال ہو رہا ہے اور ان قوانین کو اسلامی قانون کے ذریعے تبدیل کیا جاتا تو اس کا بہت زیادہ فائدہ ہوتا۔

یہ بات یومِ مزدور پر اس لیے یاد آئی کہ ہمارے ہاں فیکٹری حادثات میں ہر سال کتنے ہی مزدور زخمی ہوجاتے ہیں، معذور ہوجاتے ہیں یا جاں بحق ہوجاتے ہیں اور ان حادثات میں ’’تلافی‘‘ کے لیے جو قانون انگریزوں نے تقریباً سو سال قبل بنایا تھا (Workmen’s Compensation Act, 1923) وہی آج تک پاکستان میں نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت مزدوروں کو جو زرتلافی ادا کیا جاتا ہے، اس کی حیثیت انگریزی محاورے کے مطابق محض مونگ پھلی کی ہے۔ یہ قانون دراصل سرمایہ دارانہ نظام کے تصورات پر مبنی ہے جو اپنی اساس میں استحصالی ہے۔

دوسری جانب اسلامی قانون نے حادثات کے نتیجے میں موت یا زخم واقع ہونے کی صورت میں بالترتیب دیت اور ارش کا تصور دیا۔ یہ تصورات پاکستان میں قصاص و دیت کے قانون کے ذریعے فوجداری قانون کا حصہ بن گئے ہیں، لیکن ان کا اطلاق آج تک مزدوروں کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق قوانین پر نہیں کیا گیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ قصاص و دیت کا قانون بنا بھی حکمران طبقے کی مرضی کے خلاف ہے۔

چنانچہ جنرل محمد ضیاء الحق نے 1979ء میں اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے حدود قوانین کا مسودہ تو فی الفور نافذ کیا لیکن قصاص و دیت کے قانون کا مسودہ مؤخر کردیا اور یہ مسودہ کئی سال تک مختلف کمیٹیوں میں زیرغور رہا۔ اس دوران میں پشاور ہائی کورٹ کی شریعت بنچ نے مجموعۂ تعزیرات پاکستان کی ان دفعات کو جن کا تعلق قتل کے جرم کی سزا سے تھا، شریعت سے متصادم قرار دیا۔ اسی طرح کے مقدمات دیگر ہائی کورٹس کی شریعت بنچوں کے سامنے بھی زیر التوا تھے۔ جنرل صاحب نے شریعت بنچوں کو تحلیل کر دیا اور ان کی جگہ وفاقی شرعی عدالت قائم کر دی۔ شریعت بنچوں کے سامنے موجود زیر التوا مقدمات اب وفاقی شرعی عدالت میں آگئے۔ ان مقدمات میں وہ بھی تھے جن میں قتل اور زخم سے متعلق فوجداری قانون کی دفعات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ وفاقی شرعی عدالت نے بھی وہی فیصلہ دیا جو پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی دے چکی تھی۔ حکومت اس کے خلاف اپیل میں سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ میں گئی جس نے بالآخر 1989ء میں اس فیصلے کی توثیق کر دی اور حکومت کو قانون تبدیل کرنے کے لیے چند ماہ کی مہلت دی۔ حکومت اب محترمہ بے نظیر بھٹو کی تھی جو جنرل ضیاء الحق سے بھی زیادہ شدت سے قانونِ قصاص و دیت کی مخالف تھیں۔ چنانچہ حکومت مسلسل مہلت میں اضافے کی درخواست دیتی رہی، یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے صریح الفاظ میں کہہ دیا کہ مزید مہلت نہیں دی جائے گی اور اگر قانون تبدیل نہیں کیا گیا تو یہ قانون از خود کالعدم ہوجائے گا۔ اس دوران میں بے نظیر حکومت ختم ہوچکی تھی۔ نگران حکومت نے اگست 1990ء میں ایک آرڈی نینس کے ذریعے قصاص و دیت کے قانون کا نفاذ کیا۔ اس کے بعد اگلے سات سال میں کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں (میاں نواز شریف کی حکومت، بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت اور درمیان تین دفعہ نگران حکومتیں) لیکن پارلیمنٹ کے ذریعے اس قانون کو مستقل حیثیت نہیں دی گئی اور ہر چار ماہ بعد صدر کو آرڈی نینس جاری کرنا پڑا۔ بالآخر فروری 1997ء میں میاں نواز شریف کی دوسری حکومت میں پارلیمنٹ نے اس آرڈی نینس کو ایکٹ کی شکل دے کر مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کا حصہ بنا دیا۔ اس آخری شکل تک پہنچنے کے دوران میں ایک حادثہ یہ ہوا کہ اس قانون سے ’’عاقلہ‘‘ کا تصور ختم کردیا گیا اور یوں دیت کا قانون لوگوں کے لیے بوجھ کا باعث بن گیا۔ عاقلہ کا تصور اس قانون میں ہوتا تو نہ صرف یہ کہ لوگ حادثات کی ذمہ داری اٹھانے میں ایک دوسرے کی مدد کرتے بلکہ حادثات کی روک تھام میں عملاً حصہ بھی لیتے۔ اب جبکہ ہر شخص تنہا ذمہ دار ہے تو دوسروں کو پروا ہی نہیں ہوتی کہ اس پر کیا گزر رہی ہے۔

بہرحال فوجداری قانون کی حد تک دیت اور ارش کے تصورات 1990ء کے بعد سے پاکستانی قانون کا حصہ بن چکے ہیں۔ فقہاے کرام نے دیت کے لیے اونٹوں، سونا یا چاندی کو معیار مانا تھا۔ پاکستانی قانون میں چاندی کو معیار بنایا گیا ہے جس کی رو سے دیت کی کم سے کم مقدار تیس ہزار چھے سو تیس گرام چاندی کے برابر رقم ہے۔ قتل عمد کے سوا قتل کی تین دیگر اقسام (قتل شبہ عمد ، قتل خطا اور قتل بالسبب) میں مقتول کے ورثا کو بنیادی طور پر دیت ادا کی جاتی ہے ۔ قتل عمد میں بھی بعض اوقات دیت ادا کرنی پڑتی ہے اور بعض اوقات قصاص اور دیت کے بجاے ’’بدلِ صلح‘‘ ادا کیا جاتا ہے جو دیت سے کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔

زخم کی تلافی کے لیے جو رقم ادا کی جاتی ہے اسے ’’ارش‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس قانون کی رو سے زخموں کی پانچ بنیادی قسمیں ہیں:
اتلافِ عضو (جیسے کسی آنکھ پھوڑی دی گئی یا ہاتھ کاٹ دیا گیا ) ؛
اتلافِ صلاحیتِ عضو (جیسے کسی آنکھ تو باقی رہی لیکن بصارت چلی گئی یا ہاتھ تو باقی رہا لیکن شل ہوا ) ؛
شجہ (سر پر لگنے والے زخم) ؛
جرح ، سر کے سوا باقی بدن پر لگنے والے زخم بشرطیکہ وہ اتلافِ عضو یا اتلافِ صلاحیتِ عضو کی تعریف میں نہ آتے ہوں ؛ اور
دیگر زخم (مذکورہ بالا زخموں کے علاوہ کوئی زخم)۔
ان میں سے بعض زخموں پر تلافی کی رقم کا تعین عدالت پر چھوڑ دیا گیا اور اسے ’’ضمان‘‘ کہا گیا ہے؛ جبکہ کچھ زخموں کے لیے تلافی کی کم سے کم مقدار پہلے ہی سے متعین ہے اور اسے ارش کہا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر وہ عضو ضائع کیا جائے جو بدن میں ایک ہی ہو، جیسے ناک ، تو اس پر ارش کی مقدار دیت کے برابر ہے؛ اگر وہ عضو ضائع کیا جائے جو بدن میں دو ہوں ، جیسے ہاتھ ، تو دونوں اعضا کے ضائع کرنے پر ارش کی رقم پوری دیت اور ایک کے ضائع کرنے پر آدھی دیت کے برابر ہے۔

استادِ محترم جناب پروفیسر عمران احسن خان نیازی صاحب کا مؤقف ہے کہ اس قانون کا اطلاق فیکٹری حادثات میں زخمی یا جاں بحق ہونے والے مزدوروں پر بھی کرنا لازم ہے۔
میں 2007ء میں بین الاقوامی قانونِ جنگ کی ایک ٹریننگ کورس کے سلسلے میں بھارت گیا تھا تو وہاں دلی ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج جسٹس مدن لوکر سے ملاقات ہوئی۔ انھیں جب معلوم ہوا کہ میرا تعلق بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی سے ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور پھر مجھے کہا کہ ہمارے ہاں لا اینڈ جسٹس کمیشن فوجداری قانون میں اصلاح کے لیے کام کرنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں ہمارے سامنے آپ کے قصاص و دیت کا قانون آیا جس میں آپ نے فوجداری قانون میں بھی متاثرہ فریق یا اس کے ورثا کو زرتلافی ادا کرنے کا میکنزم دیا ہے اور یہ ہمارے لیے خوشگوار حیرت کا باعث ہے کیونکہ انگریزی قانون میں تو فوجداری قانون میں صرف سزا ہی دی جاتی ہے اور زر تلافی تو دیوانی قانون میں ادا کیا جاتا ہے۔ پھر میں نے انھیں تفصیل سے اس قانون کی جزئیات کے بارے میں آگاہ کیا۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری قانون میں بھی اب دنیا متاثرین کو زرتلافی ادا کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کا باقاعدہ ذکر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور میں بھی آگیا ہے۔

دنیا اسلامی قانون سے سیکھ رہی ہے لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں؟ جیسا کہ عرض کیا گیا، یہ قانون زخموں اور موت کی ان صورتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو غلطی سے یا حادثے کے نتیجے میں واقع ہوں۔ سوال یہ ہے کہ پھر اس قانون کا اطلاق فیکٹری حادثات میں مزدوروں کی موت یا زخمی ہونے کی صورت میں کیوں نہیں ہوتا اور کیوں اب تک ہم استحصال کے شکار مزدوروں کو انگریزوں کی طرف سے مقرر کی گئی مونگ پھلی ہی دینا چاہتے ہیں؟

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.