دیانت و بصیرت؛ امریکی و پاکستانی فوج اور سیاست کا ایک موازنہ - ابو یحی

یہ ایک دیکھنے والی وڈیو ہے جس کے تاثر کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وڈیو آج کل سوشل میڈیا پر شام کے تنازع کے پس منظر میں پھیلی ہوئی ہے، مگر میں نے اس کو ایک بالکل مختلف زاویے سے دیکھا۔

یہ امریکی سینیٹ کی آرمرڈ سروسز کمیٹی کی ایک سماعت ہے۔ اس میں امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر اور امریکی فوج کے سب سے بڑے عہدہ دار چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جوزف ڈنفورڈ ایک سینیٹرگراہم کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے غور کیجیے کہ کون سوال کر رہا ہے یعنی ایک عام سینیٹر۔ اور کون جواب دے رہا ہے یعنی وزیر دفاع اور فوج کا سب سے بڑا عہدیدار فور اسٹار جرنل۔

مذکورہ ویڈیو

یہ دونوں حضرات دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت اور امریکی صدر کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ سینیٹر گراہم امریکی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ان سے انتہائی بامعنی سوال کرتے ہیں اور دونوں کو لاجواب کر دیتے ہیں۔ وہ 2015ء میں کھڑے ہو کر ان کی اس غلط پالیسی کی نتائج ان پر واضح کر دیتے ہیں، جو اب دنیا بھر کے سامنے آچکے ہیں۔ یہ سوال و جواب ایک سیاستدان کی بصیرت کا ایک اعلیٰ نمونہ ہیں۔

دوسری طرف سوالات کا لب و لہجہ ایک اور چیز کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک باس اپنے دو ملازموں سے ان کو دیے گئے کاموں کے متعلق پوچھ گچھ کر رہا ہے اور وہ دونوں کٹہرے میں کھڑے ہو کر اس کو جواب دے رہے ہیں۔ خاص کر جب فوج کا سربراہ ایک سوال کے جواب میں کہتا ہے کہ I don't know تو سینیٹر انتہائی ترشی سے پلٹ کر پوچھتا ہے کہ What do you mean you don't know۔ پوچھنے والے میں یہ اعتماد اپنی دیانت کے بل بوتے پر آیا ہے۔ اس نے سینیٹ کی نشست دو کروڑ امریکی ڈالر کے عوض نہیں حاصل کی، نہ اس دو کروڑ کی انویسٹمنٹ کو وہ چار کروڑ میں بدلنے سینیٹ آیا ہے، بلکہ وہ امریکی عوام کی نمائندگی کرنے آیا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس نے وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ کو ملازموں کی طرح اس کے سامنے جواب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیاستدان جمہوریت کی رٹ لگانے کو کافی سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر میں جموریت کو قبول عام ہوگیا ہے تو پاکستان کے مقتدر حلقے بھی ان کے سامنے ملازموں کی طرح کھڑے ہوجائیں گے۔ دنیا میں کوئی طاقتور، بددیانت اور بے بصیرت لوگوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔ طاقت کو اپنے سامنے جھکانے کے لیے دیانت اور بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی سیاستدانوں میں یہ دونوں خصوصیات یا ان میں سے ایک اکثر و بیشتر عنقا نظر آتی ہے۔

ہمارے بعض سیاستدان ایسے ہیں جن کو ایک پورے صوبے میں اقتدار حاصل ہے۔ مگر حال یہ ہے کہ پورا صوبہ افریقہ کے کسی پس ماندہ ملک کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کو کچرا کنڈی بنا دیا گیا ہے۔ دیانت کا عالم یہ ہے کہ میرٹ پر بھرتیاں کرنے کے جرم میں صوبے کے پولیس چیف کی چھٹی کر دی جاتی ہے۔

کچھ سیاستدان ایسے ہیں جن کی کل بصیرت یہ ہے کہ وہ ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے وزیراعظم بننا ضروری سمجھتے ہیں۔ جو اپنے پاس حاصل مواقع کو بالکل نظر انداز کرکے ان چیزوں کے پیچھے وقت کئی برس ضائع کرچکے ہیں جن سے ان کو کچھ نہیں ملنا۔ چنانچہ آخر کار نہ انھیں ’’ایمپائر‘‘ سے کچھ ملتا ہے اور نہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے۔

کچھ سیاستدان ہیں جو پورے ملک کو چند سو کلومیٹر کے علاقے پر محیط سمجھتے ہیں۔ اس کی ترقی کے سوا ان کو کچھ نظر نہیں آتا۔ جو زیادہ سے زیادہ عوام کی خدمت کے بجائے زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

جہاں سیاستدانوں کی بصیرت اور دیانت کا یہ حال ہو، وہاں ملک کا آرمی چیف خود کو وزیراعظم کے سامنے بھی جواب دہ نہیں سمجھتا۔ مگر جہاں سیاستدانوں میں بصیرت اور دیانت ہو، وہاں ایک سینیٹر بھی وزیردفاع اور آرمی چیف سے اس طرح سوالات کرتا ہے جیسے دونوں اس کے ذاتی ملازم ہوں۔

ایسے حالات میں سب زیادہ اہم کردار دانشور طبقات کا ہے۔ انھیں ایک طرف عوام کی حکمرانی کے نظام کے تحفظ کی بات کرنا چاہیے اور دوسری طرح اس کے لیے درست طریقہ کار کی طرف رہنمائی کرنا چاہیے۔ پاکستان میں اب جمہوریت کافی نہیں ہے۔ پاکستان میں تین سالہ جمہوریت کی ضرورت ہے جس میں سیاستدانوں کو ہر تین سال بعد عوام کے پاس جا کر اپنا مینڈیٹ دوبارہ لینا ضروری ہو۔ جمہوریت میں شفافیت کے لیے انگوٹھے کے نشان کی تصدیق کے ساتھ ووٹ ڈالنے کا طریقہ رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاستدانوں کے احتساب کا نیا نظام بنانے کی ضرورت ہے۔ زیادہ پیسے کے بجائے اچھی شہرت کی بنیاد پر سیاسی انتخاب کا طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی خومختار ی کے بجائے مقامی طور پر خودمختار حکومتوں کی ضرورت ہے۔

یہ چند نکات جو ہم نے اوپر بیان کیے ہیں، پاکستان کے جمہوری نظام کی بقا اور عوام کی بہترین کا واحد ممکنہ راستہ ہیں۔ اس کے بغیر عوام اور ملک دونوں کی کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی چلی جائے گی۔ پاکستان میں جمہوریت آچکی ہے۔ اب جمہوریت کا نعرہ بند کرکے نیا نعرہ یہ لگانا ہوگا کہ ہمیں سیاستدانوں کے مفادات پر مبنی جمہوریت نہیں چاہیے بلکہ عوام کی خدمت پر مبنی جمہوریت چاہیے۔ یہی ہمارے لیے راہ نجات ہے۔

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */