فکر غامدی کا خورشید اور امریکہ پلٹ دانش - سید معظم معین

جناب جاوید احمد غامدی اور ان کا طرز فکر ہمارے ہاں نو وارد نہیں ہیں، خاصے عرصے سے آپ اپنے مخصوص انداز فکر کو پاکستانی معاشرے میں فروغ دلوانے کی سعی و جدوجہد میں مصروف ہیں اور یہ بھی ایک سامنے کی حقیقت ہے کہ جتنا تعاون اور وسائل آپ کو میسر رہے ہیں، آج تک کسی مذہبی فکر کو نہیں رہے۔ ذرائع ابلاغ پر لاتعداد ٹی وی شو ہوں یا کتب کی اشاعت و ابلاغ کے ذرائع، کسی کو اس قدر سپورٹ اس میدان میں میسر نہیں رہی۔ پھر مخصوص کالم نگار صحافیوں کی مسلسل پراپیگنڈا سٹائل تحاریر ہوں یا اخبارات میں خبریں، ہر جگہ آپ کو خاص پذیرائی حاصل رہی ہے۔ اس کے بعد اس سب سے بڑھ کر یہ کہ اب مغرب میں جس طرح میڈیا میں آپ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور ایک کے بعد دوسرا پروگرام اور دوسرے کے بعد تیسرا ٹاک شو سامنے آرہا ہے، وہ سوشل میڈیا کی بدولت عام عوام تک پہنچ رہا ہے، اس قدر تواتر سے اس سوچ اور فکر کر ترویج اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئی۔ مگر اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ چند مخصوص اباحیت پسند طبقات کے سوا کسی جگہ آپ کی سوچ کی تائید بھی نظر نہیں آتی۔ دیو بندی مکتبہ فکر ہو خواہ بریلوی، جماعت اسلامی کی فکر سے وابستہ اہل دانش ہوں یا خلافتی علماء، کہیں بھی کوئی آپ کی آواز سے ہم آہنگ نہیں ہو پایا۔ ایسا کیوں ہے کہ آپ کی فکر اور طرز استدلال عوام اور خواص کہیں بھی جڑ بنانے میں کامیاب نہیں رہا۔ مگر داد دینی پڑتی ہے کہ آپ سے وابستہ چند صحافتی احباب کی کہ وہ تاحال مسلسل اپنی سی کوشش میں مگن ہیں اور علامہ کی فکر کو رائج کروانے اور متبادل بیانیہ کے طور پر زندہ رکھنے میں مصروف عمل ہیں۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے صحافتی احباب اپنی نامقبول ہونے والی سوچ پر جب یاسیت کا غلبہ ہوتا ہے تو ایسے ہتھکنڈوں پر اتر آتے ہیں جو علم کی میدان میں کبھی بھی قابل تعریف نہیں رہے۔ مثال کے طور پر محترم خورشید ندیم صاحب جو معروف کالم نگار اور صحافی حضرات میں علامہ کی سوچ کو پروان چڑھانے میں سر فہرست ہیں، اکثر و بیشتر ایسے کالم لکھتے ہیں اور معاصر اہل علم کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہتے ہیں، نے اپنے تازہ ترین کالم میں فرمایا کہ مولانا مودودی کی فکر اور سید قطب کی فکر ایک ہی تھی اور وہ تکفیر کے قائل تھے وغیرہ وغیرہ۔ اب یہ ایسی باتیں ہیں جنہیں پڑھ کر ہنسا ہی جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی کی فکر کو تکفیری تو آج تک ان کے کٹر مخالفین نے نہیں کہا جو الفاظ خورشید ندیم صاحب لوگوں کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہوگا کہ اگر مولانا مودودی کی فکر سے عسکریت پسندی یا تکفیر کو کشید جائے اور ہمیں یہ بد گمانی ہرگز نہیں ہے کہ محترم خورشید ندیم اس حقیقت سے ناواقف ہوں گے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ انھوں نے ایک ایسی بات کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے جو بادی النظر میں سراسر بد دیانتی پر مشتمل محسوس ہوتی ہے۔

عجیب سی بات ہے کہ یکایک امریکہ سے ایک ’’صاحب علم‘‘ تشریف لائیں جن کی واحد وجہ کمال امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونا بتایا جائے اور وہ اپنے ساتھ ’’تحقیقی کتب کا سیٹ‘‘ بھی لائیں اور ان ’’کتب کے سیٹ‘‘ کو محفل کے شرکا میں مفت تقسیم کیا جائے۔ اچھا ہوتا کہ کتب کے پبلشر اور دیگر مصنفین کا بھی تذکرہ ہوجاتا تاکہ ان کا تعارف بھی سامنے آجاتا۔ اس پر اسراریت کی کوئی وجہ ہمیں سمجھ نہیں آ سکی۔ اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔

البتہ ’’کتب کے سیٹ‘‘ کے ذریعے منظرعام پر آنے والے ایک فاضل مصنف ’’مناظر اسلام‘‘ محمد یحیی عارفی صاحب رفع یدین، آمین بالجہر اور گھٹنوں سے نیچے شلوار کے انتہائی اہم موضوعات سے بلند کب ہوئے، یہ خورشید صاحب کے کالم سے ہمیں پتا چلا۔ اور یہ جو بتایا کہ کتب میں سید قطب کا ذکر صیغہ واحد غائب میں کیا گیا ہے، اس سے بھی ’’کتب کے سیٹ‘‘ کے معیار اور انداز کا پتا چلتا ہے۔ تکفیر اور فرقہ پرستی کا یہ بدترین انداز ہے جو فرقہ پرست مولویوں کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے، اس سے مگر جس طرح خورشید ندیم صاحب نے اپنے بیانیے کی حمایت کشید کی ہے، یہ انھی کو زیبا ہے، نیا بیانیہ بھی آخر دن کو رات ثابت کرنے کے سوا کیا ہے. نہیں معلوم کہ کسی نے خورشید ندیم صاحب کو بتایا کہ نہیں کہ ایسی کتب تو ایک ڈھونڈو ہزار انار کلی کے فٹ پاتھ سے مل جاتی ہیں، اس کے لیے امریکہ سے دانش درآمد کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کے بعد ہم خیال کالم نگار ان کی مشہوری چار دانگ عالم میں کرتے پھریں اور دیگر مخصوص ویب سائٹ سے ان کی قوالی مسلسل ہوتی رہے. یہ ساری اسٹوری کچھ اور طرح کی کہانی بھی محسوس ہوتی ہے۔ کیا اسے غامدی فکر کو پاکستانی معاشرے میں خاطر خواہ تائید و نصرت نہ ملنے کے بعد نئی چال کہا جائے؟

اس محفل میں یہ انکشاف اس سے بھی سوا ہے کہ ایک مسلک کی بنیاد پر وجود میں آنے اور کام کرنے والی جماعۃ الدعوہ کی سب سے بڑی خدمت فرقہ واریت کی خلاف فکری جہاد قرار دیا جائے۔ حیرت ہے کہ خورشید ندیم صاحب جیسے باخبر اور اسلام آباد میں رہنے والے صحافی اور کالم نویس اصل خدمت سے بےخبر ہیں. فکری بددیانتی اور متبادل بیانیے کی دونمبری کے انھی مظاہر کی وجہ سے اسے عامۃ الناس میں قبولیت نہیں مل رہی. جماعۃ الدعوہ نہ صرف اہلحدیث مسلک کی نمائندہ ہے، بلکہ پرائیوٹ عسکری تنظیم کے بطن سے نکلی ہے، سربراہی لشکرطیبہ والے حافظ محمد سعید کے پاس ہی ہے. نہیں خود مسعود کمال الدین و ہمنوا جب لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیتے پائے جاتے ہیں، اور شرک کے خلاف بھی قلمی و زبانی جہاد کرتے نظر آتے ہیں، تو وہ دوسروں کو تکفیری قرار دیتے ہوئے کیسا محسوس کرتے ہوں گے. مسعود کمال الدین اور خورشید ندیم صاحب میں ایک قدر مشترک ہے کہ متبادل بیانیے کو فروغ دینا چاہتے ہیں، مگر بدقسمتی ہے کہ خورشید صاحب جس عسکریت سے تنگ آ کر متبادل بیانیہ کا نفاذ اور فروغ چاہتے ہیں، مسعود کمال الدین اور حافظ محمد سعید اس عسکریت کا دوسرا چہرہ ہیں. اس تضاد کے ساتھ بیانیہ کیا مقبول ہوگا اور کیا رائج ہوگا. سید قطب کی فکر کو تکفیری قرار دینے کی سب سے بڑی دلیل یہ بتائی گئی کہ ایمن الظواہری نے ایسا کہا تھا، اب نہیں معلوم کہ ایسے علم اور ایسی دانش پر ہنسا جائے یا رویا جائے. یہ ہرگز خورشید ندیم صاحب کی سطح نہیں تھی کہ اس قدر کمزور باتوں کو ایسی شدت سے حقیقت بنانے کی کوشش کرتے. نجانے یہ مایوسی کا غلبہ تھا یا کسی نئے کھیل کا آغاز کہ ہر طرف سے جواب کے بعد اب مسلک اہلحدیث میں قسمت آزمائی کی جا رہی ہے، اور وہاں سے کچھ ہمنوا تلاش کیے جا رہے ہیں۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر اہل علم کو خبردار رہنا چاہیے، ایسے نو واردان سے جو اچانک امریکہ سے دانش اور علم امپورٹ کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں۔ بہرحال کھیل دلچسپ ہے، دیکھیے اور کیا کیا اس تماشے میں سامنے آتا ہے۔
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.