موت کے بعد شوہر و بیوی کا تعلق - محمد فہد حارث

بہن نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ عورت کے مرتے ہی اس کا شوہر اس کے لیے نامحرم ہوجاتا ہے کہ ان کا نکاح ختم ہوجاتا ہے لیکن پھر بھی شوہر کو بیوی کی وراثت میں حصہ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی کسی عورت کا انتقال ہوتا ہے تو خاندان کی خواتین اس کے شوہر تک کو اس کو دیکھنے یا چھونے تک نہیں دیتیں اور اگر اللہ نہ کرے کہ شوہر مر جائے تو اس کی بیوہ کو یہی خاندان کی عورتیں شوہر کا آخری دیدار تک نہیں کرنے دیتیں کہ موت سے دونوں کا نکاح فاسد ہوگیا اور اب میاں بیوی ایک دوسرے کے محرم نہیں رہے۔

دراصل یہ تصور و نظریہ ہی انتہائی غلط ہے کہ بیوی کے مرتے ہی شوہر، یا شوہر کے مرتے ہی بیوی اس کے لیے نا محرم ہوجاتی ہے۔ کسی قرآنی آیت یا کسی صحیح حدیث سے یہ بات ثابت نہیں کی جاسکتی۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر وراثت میں حصہ کیسا جیسا کہ آپ نے خود فرمایا۔ پھر کئی روایات خود ثابت کرتی ہیں کہ زوجین کے مابین مرنے کے بعد بھی تعلق قائم رہتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے محرم ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو غسل تک دے سکتے ہیں۔

ابن ماجہ، مسند احمد، دارمی، بیہقی اور دارقطنی میں حسن درجہ کی روایت میں سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ میں بیمار پڑی اور سر درد کی شکایت کی تو آپﷺ نے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہوگئی تو میں تمھیں غسل دوں گا۔
اسی طرح سیدہ عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ آپؓ نے فرمایا کہ اگر مجھے اپنے اس معاملے کا پہلے علم ہوجاتا کہ جس کا مجھے تاخیر سے علم ہوا تو رسول اللہﷺ کو صرف آپﷺ کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔ (ابن ماجہ، ابو داؤد)
اسی طرح سیدہ فاطمہؓ کے بارے میں بھی دارقطنی اور بخاری میں تصریح موجود ہے کہ سیدنا علی ؓ نے ان کو غسل دیا۔
سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی زوجہ اسماء بنت عمیس ؓ کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو بکرؓ کے فوت ہوجانے پر ان کو غسل دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا طلاق گالی ہے؟ تزئین حسن

اسی لیے جمہور فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ زوجین ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں جو کہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی وہ ایک دوسرے کے محرم ہوتے ہیں. یہی وجہ ہوتی ہے کہ عورت شوہر کے مرنے کے بعد اس کے نام کی عدت گزارتی ہے اور اس کی وراثت میں سے حصہ پاتی ہے۔ اسی طرح ایک دفعہ سیدنا عمرؓ کے پاس ایک ایسی عورت اپنی وراثت کا مقدمہ لے کر آئی جس کا شوہر اس کو طلاق بائن دے چکا تھا اور وہ عدت میں تھی، تو سیدنا عمر ؓ نے اس عورت کو وراثت میں حصہ نہیں دلوایا کیونکہ طلاق بائن کے بعد وہ شوہر کے لیے حرام ہوچکی تھی۔

زوجین کا ایک دوسرے کو غسل دینا، مرنے کے بعد وراثت میں حصہ پانا وغیرہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ میاں بیوی مرنے کے بعد بھی ایک دوسرے کے محرم ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو نہ صرف دیکھ سکتے ہیں، بلکہ چھو بھی سکتے ہیں اور غسل بھی دے سکتے ہیں۔ واللہ اعلم