محبت کے دعویدار - عین علی

سنا ہے محبت کا شکار انسان اندھا ہوتا ہے۔ جس سے محبت ہو ہر لمحہ اسی کا خیال اوڑھے اپنی زندگی آسانی سے گزار دیتا ہے۔کڑی دھوپ ہو یا ٹھنڈی رات بغیر سوچے سمجھے اس کی اک آواز پر اپنا سب کچھ لٹانے پر تیار ہو جاتا ہے۔ کچھ لمحوں کی دوری، ناراضگی اس کی حالت بن پانی کی مچھلی جیسی کر دیتی ہے۔اس کا پورا وجود محبت کی سچائی کی گواہی دیتا ہے اور ہر دیکھنے والا دیکھ کر پہچان جاتا ہے کہ محبت میں دیوانہ ہے۔

میں اپنی ذات کو نشانہ بنا کر ہر اس انسان کے بارے میں اکثر سوچتا ہوں جو یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کے ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺسے محبت ہے، مگر محبت میں اس دیوانے جیسے نہیں لگتے جسے دیکھتے ہی کسی گواہی کی ضرورت نہیں پڑتی۔انسان کا اپنا کیا ہے ؟ کچھ بھی تو نہیں۔ جو ہے وہ سب اللہ کی عنایت ہے۔ دیکھنے کے لیے آنکھیں، سننے کے لیے کان، ہاتھ، پاؤں، سانسیں، پورا وجود۔رشتےجن کی محبت میں ڈوب کرانسان بڑی بڑی نا فرمانیاں کر گزرتا ہے، وہ بھی اللہ ہی کے عطا کردہ ہیں۔ اللہ رب العزت کے احسانات ہر ذات پر اتنے ہیں جن کا شمار کرنے سے ہر انسان قاصر ہے۔اس کے باوجود اللہ سے محبت کے دعوے محض لفظی ہی لگتے ہیں۔

حضورِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی ہمارے سامنے ہے۔امت سے ان کی محبت کسی ثبوت کی محتاج نہیں۔انسانوں پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احسانات اور محبت کو مجموعی طور پر سوچنے کے بجائے اگر ہم اپنی ذات کو سامنے رکھیں کہ اللہ نے جنت، وہاں کے انعامات، یہ زمین، آسمان، ہوا تمام نعمتیں میرے لیے بنائی ہیں۔ حضور اکرم ﷺ راتوں کو اٹھ اٹھ کر میرے لیے روئے، میرے لیے دعائیں مانگی۔میرے لیے جہنم سے پناہ مانگی تو اپنا آپ بہت قیمتی محسوس ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ سورۃ توبہ کی یہ آیت ہمیں ہماری محبت کا پول کھول کر دکھا دیتی ہے کہ ہم اپنے اس دعوے میں کتنے سچے ہیں:

یہ بھی پڑھیں:   آج تم کل ہماری باری ہے کو نہ بھولیں - حبیب الرحمن

"کہو! اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سود اگر ی جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو، تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔" (سورۂ توبہ، آیت 24)

اس آیت کے پیمانے میں اگر ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺسے محبت کااپنا معیار جانچنے کی کوشش کریں تو سب حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔

اہلِ بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے نام یاد کرنے کے بجائے اگر ان میں سے ایک ایک کی زندگی کو کھول کر پڑھا جائے تو ایمان اور محبت کے معیار کا عروج واضح سمجھ میں آتا ہے۔اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت میں گزرا ان کی زندگی کا ہر لمحہ قابلِ رشک ہے۔ چھوٹی ہو یا بڑی اپنی ہر ذاتی خواہش کو دین پر قربان کرنا اتنا آسان ہو جانا الف سے عشق کے ع تک پہنچنے کی ساری داستان بیان کرتا ہے۔ حضورِ اقدس ﷺ کی صحبت اور براہِ راست تربیت نے اسلام کی گلستان میں ایسے پھول مہکائے ہیں جن کی خوشبو تا قیامت اس جہان کو مہکاتی رہے گی۔

ہم سب اللہ کو مانتے ہیں، اس کے قادر ہونے سے واقف ہیں، اس کی دی نعمتوں کا استعمال کرتے ہیں مگر اپنی چاہت اور مرضی سے۔ دن رات میں نا جانے کتنے حکم توڑتے ہیں اور ہمیں ندامت تک نہیں ہوتی۔ پھر بھی کہتے ہیں ہمیں اللہ سے محبت ہے۔ یہ کیسی محبت ہے جس میں ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم کر کیا رہے ہیں؟ جس سے محبت ہو اس کی موجودگی دل کو بھاتی ہے۔ اس کے قریب رہنے میں سکون ملتا ہے، اس کی ہر بات مان کر دلی تسکین ہوتی ہے۔ ہم اپنی محبت کو انصاف کے ترازو میں رکھ کر دیکھیں کہ ہم اپنے اس دعوے میں کتنے سچے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   چینی اویغور: داڑھی رکھنے، پردہ کرنے اور انٹرنیٹ کے استعمال پر زیرِحراست

اپنے شب و روز پر غور کریں، اپنے معمولات، تعلقات کو دیکھیں۔ اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت تو دین پر چلنا آسان کرتی ہے۔ مگر یہ ہماری کیسی محبت ہے جو دین سے دور کرتی جا رہی ہے؟ ناراضگیاں، دوریاں، تہمتیں، لڑائی جھگڑے، میں ٹھیک باقی سب غلط، یہ سب کیا ہے؟کیا حضور اقدس ﷺ سے محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ان کے اعلیٰ اخلاق تک کو بھول جائیں ؟ہم اک دوسرے کو ان کی کمیوں کے ساتھ برداشت تک نہیں کر سکتے۔آسانیاں تلاش کرتے اور اپنی ہی" میں" کو عظیم سمجھتے سمجھتے یہ ہم کہاں آ گئے ہیں ؟ یہاں مسجدوں تک کے دروازے ایک دوسرے کے لیے بند کر دیے گئے ہیں تو دلوں پر تو تالے پڑھنے ہی ہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ ہمیں صرف اپنی ذات، اپنی پسند اور اپنے فیصلوں سے محبت ہے۔ جو خود کو اس رنگ میں ڈھال لے وہ عزیز اور جو ایسا نا کرے اس پر اتنی وفاداری سے اپنی نفرتیں نچھاور کرتے ہیں کہ اللہ کی ناراضگی کا احساس تک نہیں رہتا۔شاید یہی وجہ ہے کہ آج کوئی ہمیں دیکھ کر مسلمان نہیں ہوتا۔ کیوں کے ہم اپنی چاہتوں کے اس قدر غلام بن گئے ہیں کہ ہمیں اپنے سوا اور کچھ دکھائی، سنائی ہی نہیں دیتا۔دنیا کی فانی محبت میں ایسے ڈوبے ہیں کہ نا تو ہمارا ظاہر اس قابل ہے جسے اللہ کے سامنے پیش کر سکیں اور نا ہی باطن جوہمیں شرمندہ ہونے سے بچا سکے۔