مزدور کے تین المیے - لالہ صحرائی

اس شہر میں مزدور جیسا دربدر کوئی نہیں
اس نے سب کے گھر بنائے اس کا گھر کوئی نہیں

پہلا المیہ
اگر سرمایہ دار کی پروڈکٹ اس کی قابلِ مبادلہ و منافع جنس ہے تو پھر مزدور کی محنت بھی قابل مبادلہ و منافع جنس قرار دی جانی چاہیے، باالفاظ دیگر مزدور بھی دراصل ایک سرمایہ دار ہے جو ان دیکھی پروڈکٹ آپ کو بیچتا ہے۔ مثال کے طور پر سرمایہ دار کی جنس کو جب تحلیل کریں گے تو سرمایہ بنے گا یعنی جب اس نے گیہوں بیچ دی تو اس کے ہاتھ میں سرمایہ باقی رہ گیا اور جنس مفقود ہو گئی، اسی طرح مزدور نے جب محنت لگائی تو اس کی محنت جنس کی شکل میں ڈھل گئی اور اس کے ہاتھ میں بھی سرمایہ باقی رہ گیا، انجام کے اعتبار سے یہ دونوں ایک ہیں یعنی اپنی اپنی جنس کے بدلے پیسہ کما لیتے ہیں لیکن آغاز میں دونوں مختلف ہیں کیونکہ سرمایہ دار کی قابل فروخت شے سامنے پڑی نظر آتی ہے اس لیے ضرورتمند کو بھا جاتی ہے لیکن محنت کار کی جنس اس کے وجود میں بند ہے اور وہاں سے سیدھی جنس کی حتمی شکل میں منتقل ہو جاتی ہے، یہ واحد جنس ہے جو سودا کرتے وقت مادی شکل میں نظر نہیں آتی، اس لیے سرمایہ دار کی نظر میں خاطرخواہ وقعت نہیں پاتی، مزدور کا پہلا المیہ یہی ہے۔

دوسرا المیہ
سرمایہ دار جب اپنے خام مال کو پراڈکٹ میں تبدیل کرتا ہے تو لوہے کو پنجرے میں ڈھالتے وقت کچھ لوہا کٹائی میں بیکار ہو جاتا ہے، کپڑے کو کوٹ میں بدلنے کے لیے کتربیونت اور ہیرے کو ڈائمینشن دینے کے لیے تراش خراش کا عمل چند فیصد خام مال کو ناکارہ کر دیتا ہے لیکن سرمایہ دار کو اس کا نقصان نہیں ہوتا کیونکہ اپنی پراڈکٹ کی قیمت طے کرتے وقت وہ کل خام مال کی قیمت، اس پر اٹھنے والی لاگت اور اپنا نفع ملا کر قیمت طے کرتا ہے۔

مزدور جب اپنی صلاحیتیں بیچتا ہے تو لوہے، کپڑے اور کاربن کو متعلقہ پراڈکٹس میں بدلنے وقت مزدور کی توانائی جو اس کی جنس مبادلہ ہے، اس میں بھی ٹوٹ پھوٹ اور ویسٹیج پیدا ہوتی ہے، مزدور کی قوت میں وہ تمام ذہنی، جسمانی، اعصابی، عقلی، فکری اور دیگر قوتیں شامل ہیں جن کا استعمال کرکے وہ کسی خام مال کو کسی پراڈکٹ میں تبدیل کرتا ہے، مزدور کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ اس کام کے دوران ضائع ہونے والی ذھنی، جسمانی، اعصابی صلاحیتیوں کا ادراک سرمایہ دار کو ہے نہ خود مزدور کو ہے کیونکہ یہ غیر مرئی اشیاء ہیں۔

جس طرح پراڈکٹ کی سیلز سے حاصل ہونی والے سرمائے میں دو چیزیں شامل ہوتی ہیں، پہلی اس کی لاگت اور دوسرا اس کا نفع، اسی طرح مزدور کی اجرت میں بھی دو چیزیں شامل ہونی چاہییں، سرمائے کی ایک معقول مقدار جس سے وہ اچھی غذا کھا کر اپنی کھوئی ہوئی توانائی بحال کر سکے، اسے مزدور کی لاگت سمجھ لیجیے اور سرمائے کی دوسری معقول مقدار جسے منافع کی صورت وہ اپنے گھروالوں کے لیے لے جا سکے لیکن مزدور کی اجرت اس طرح سے طے نہیں ہوتی جو کہ مزدور کے استحصال کے سوا کچھ نہیں۔

تیسرا المیہ
سرمایہ دار اپنی جنس مبادلہ اِس ہاتھ دیتا ہے تو دوسرے ہاتھ سے اس کا زرمبادلہ یا سرمایہ وصول کرلیتا ہے، جہاں کہیں اسے پندرہ دن کے لیے زرمبادلہ کا انتظار کرنا پڑے، وہاں اس کی پراڈکٹ کے دام بڑھ جاتے ہیں کیونکہ وہ انتظار میں ضائع ہونے والے اپنے وقت کا پیسہ بھی اس میں شامل کر لیتا ہے لیکن مزدور کو اجرت ہاتھ کے ہاتھ نہیں ملتی۔

حدیث شریف میں ارشاد پاک ہے کہ مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو، مزدور کے اس المیے کی گہرائی جاننے کے بعد ہی آپ کو اس بات کی اصل اہمیت سمجھ میں آئے گی کہ اسلام میں مزدور کی اجرت فوراً دینے کا کیوں کہا گیا ہے، اس المیے کی گہرائی معیشت کی پوری تاریخ میں کارل مارکس کے سوا کسی نے ناپ کر نہیں دیکھی۔

کارل مارکس کہتا ہے کہ لندن میں دو قسم کے نانبائی تھے، ایک وہ جو پوری قیمت پہ نان بیچتے تھے، ان کی تعداد پچیس فیصد تھی اور دوسرے وہ جو کم قیمت پر نان بیچتے تھے، ان کی تعداد تین چوتھائی تھی، اصل قیمت والوں کی شکایت پر کمشنر ہیری ٹریمن نے جب تحقیقات کیں تو پتا چلا کہ ان کم قیمت والے نانبائیوں کے نان اس لیے سستے ہیں کہ اس میں پھٹکڑی، صابن، پوٹاشئیم کاربونیٹ، ڈربی۔شائیر کا پسا ہوا پتھر اور اسی قسم کی قابل برداشت مزا رکھنے والی دیگر اشیاء ملائی جاتی ہیں، یہ تحقیقات اور ان کی رپورٹیں 1824ء سے لیکر 1865ء تک وقفے وقفے سے شائع ہوتی رہی ہیں۔

ڈاکٹر جان گارڈن نے ہیری ٹریمن تحقیقاتی کمیشن کے سامنے بیان دیا کہ ایک مزدور کی یومیہ خوراک ایک سیر نان ہونی چاہیے، ایک طرف ان ملاوٹ شدہ نانوں سے مزدوروں کی غذائی ضرورت ایک چوتھائی بھی پوری نہیں ہوتی تو دوسری طرف ملاوٹ شدہ اشیاء کے مضر اثرات سے اس کی جان و قوت کو سخت نقصان پہنچتا ہے، 1855ء کا تحقیقاتی کمشنر ہیری ٹریمن اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ حقیقت حال جاننے کے باوجود عوام انہی نانبائیوں سے روٹی خریدتی ہے تاکہ سستی پڑے۔ پھر مزدور کو اجرتیں پندرہ دن اور کہیں ایک ماہ بعد ملتی ہیں لہذا پورا مہینہ انھیں ادھار پر گزارہ کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے جو آٹا نقد پر ایک شلنگ کا سیر ملتا ہے، وہی آٹا انہیں ایک ماہ کے ادھار کی بنیاد پر دو شلنگ کا سیر ملتا ہے۔

داس کیپیٹال میں ہیری ٹریمن کے حوالے سے اس معاملے کے کئی اور پہلو بھی گنوائے گئے ہیں، مثال کے طور پر سرمایہ داروں نے اپنے کارخانوں میں راشن شاپس بھی بنائی ہوئی تھیں جہاں سے مزدور اضافی قیمت پر ادھار میں راشن اٹھاتے تھے، مزدور کو تنخواہ دیتے وقت وہیں ان سے راشن کا بل بھی وصول کر لیا جاتا، اب ایک طرف جب مزدور کی اجرت خریدی جاتی تو اس کے ساتھ ایک ماہ کا ادھار کرتے ہوئے کوئی اضافی قیمت نہیں دی جاتی جبکہ دوسری طرف مزدور کو اپنا سودا ادھار پر بیچتے وقت اس سے اضافی قیمت بھی وصول کی جاتی، ایسی اور بھی کئی باتیں شیئر کرنے کے قابل تھیں لیکن میرا خیال ہے کہ اتنی گفتگو سے بھی یہ بات بہت حد تک واضع ہو جاتی ہے کہ جب سرمایہ دار اپنی پراڈکٹ کی قیمت ادھار کے کیس میں اپنے ضائع ہونے والے وقت کی اضافی قیمت ملا کر وصول کرتا ہے، دکاندار ایک ماہ کے ادھار پر آٹا دگنی قیمت پر دیتا ہے تو پھر مزدور کی اجرت ایک ماہ کے ادھار پر اسی قیمت میں کیوں خریدی جاتی ہے، مزدور کو پیسہ فوری طور پر ملنا چاہیے یا پھر ایک ماہ بعد انٹرسٹ سمیت بمعنی اضافی قیمت سمیت ملنا چاہیے۔

آج بھی صورتحال کچھ بدلی نہیں. ہمارے وطن کے اکسٹھ ملین مزدور کی اجرت صرف سرمایہ دار طے کرتا ہے. جس میں ان مسلمہ اصولوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا جو وہ اپنی پراڈکٹ کی قیمت طے کرنے کے لیے ملحوظ خاطر رکھتا ہے، اس پر طرفہ تماشا یہ کہ آپ کو سرمایہ دار کے منہ سے یہ بات اکثر سننے کو ملتی ہے کہ کاروبار ایسے نہیں چلتے، اس میں سب کا نصیب شامل ہوتا ہے، خدا جانے وہ کس کے نصیب کا دیتا ہے۔

اس اقرار کے بعد بھی وہ یہ سمجھنے سے آنکھیں چرالیتا ہے کہ آخر سب کے نصیب کا لاکھوں روپیہ اس اکیلے کے ہاتھ میں ہی کیوں دے دیا جاتا ہے، صرف اس لیے کہ وہ مین بزنس آپریٹر ہے لیکن چونکہ اس کے حاصل شدہ نفع میں سب کی محنت شامل ہے، اس لیے یہ بات اس پر امانت کی طرح واجب ہے کہ جس اصول سے وہ اپنا نفع طے کرتا ہے، اسی اصول سے وہ اپنے مزدوروں کا حصہ بھی طے کرے، سرمایہ دار اس نفع سے بیشک ایک بڑے حصے کا حقدار ہے، لیکن مزدوروں کو ان کا معقول حصہ دینے کے ہی یہ نفع اس پر حلال ہے ورنہ وہ خیانت کا مجرم ہے کیونکہ اس بات کا فیصلہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کر گئے ہیں کہ مزدور کی تنخواہ اتنی ہوگی جس میں ایک اعلٰی سماجی حیثیت رکھنے والے فرد کا گزارہ باآسانی ہو سکے۔

Comments

لالہ صحرائی

لالہ صحرائی

لالہ صحرائی افسانہ و ناول نویس اور ڈرامہ نگار ہیں، اکنامک و سوشل تھیسز رائٹر کے طور پر بھی پہچانے جاتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */