گزر رہا ہے جو لمحہ اسے امر کر لیں - ڈاکٹر یونس خان

کبھی ہم نے سوچا کہ ہم نے اپنی زندگی میں کتنی خود فریبیاں پال رکھی ہیں۔سب سے بڑی خود فریبی تو یہ ہےکہ ہمیں موت کا ہاتھ نہیں چھوئے گا، اور اگر بالفرض ایسا ہونا ناگزیر بھی ہے تو یہ قصہ ہائے دور دراز ہے، جب ایسا وقت آیا تو دیکھ لیں گے۔

انسان زیادہ تر ماضی کے تناظر میں زندگی گزارتا اور مستقبل کے سہانے خوابوں میں پرواز کرتا ہے۔ اس نے شاید ہی کبھی ایک لمحہ ٹھہر کر اپنے حال سے لطف اٹھایا ہو۔ ہم کشاں کشاں ابدی فنا کی جانب بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ یہ جو لمحہ ہے جس لمحے، میں یہ سطور لکھ رہا ہوں اور آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، یہ لمحہ ابھی کچھ ہی دیر میں فنا ہو جائے گا اور پھر کبھی قیامت تک لوٹ کر نہیں آئے گا۔ رات ہوتے ہی آج کا دن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وادئ فنا میں اتر جائے گا، اسی طرح یہ برس بھی ایک دن گزشتہ برسوں کی طرح پیوند خاک ہو جائے گا۔

اگر کچھ باقی ہے تو اس لمحہ موجود میں وہ کاوش جو ہماری شحصیت پر مثبت یا منفی نقوش ثبت کر جاتی ہے یا اس لمحہ موجود کی یاد جس کی کسک شاید آخری سانس تک ہمارے شعور یا تحتِ شعور میں باقی رہ جائے۔امجد اسلام امجد کا ایک بہت خوبصورت اور با معنی شعر ہے:

گزر رہا ہے جو لمحہ اسے امر کر لیں
میں اپنے خون سے لکھتا ہوں تم گواہی دو

آپ نے کبھی سوچا کہ اگر آپ نے گاڑی یا بائک چلانا سیکھی تو کتنا مختصر وقت صرف ہوا لیکن اس وقت میں حاصل شدہ صلاحیت کس طرح ساری زندگی آپ کے کام آ رہی ہے؟ وہ وقت تو گزر گیا لیکن آپ کی زندگی میں کتنی بڑی تبدیلی پیدا کر گیا۔ وہ قیمتی لمحات آپ کی زندگی کے لاحاصل سے حاصل کی جانب اور انحصار سے خود انحصاری کی جانب ایک قدم تھے۔

تو میرے معزز قارئین، لمحے کی قدر تب متعین ہوتی ہے جب ہماری کاوش کے زیرِ اثر یہ ہمیں خود انحصاری کی سیڑھی پر ایک قدم اوپر لے جائے، ورنہ تو فنا مقدر ہی ہے۔