یہ بھاری سکول بیگز- سعد چوہدری

ابھی نیوز فیڈ میں دو چھوٹے معصوم بچوں کی تصویر دیکھی جو سکول کے بھاری بھرکم بستے گھسیٹ رہے تھے۔ جی واقعی یہ "علم" بہت بڑی دولت ہے، بھاری تو ہوگی۔

مجھے اپنے سکول ٹائم کے وہ بھاری بھر کم بستے یاد آئے، جن کو میں بڑی مشکل سے اٹھا پاتا تھا۔ ان کے بوجھ کو میں ابھی بھی اپنے کندھوں پر محسوس کرسکتا ہوں۔ جیسے جیسے میں نیکسٹ کلاس میں شفٹ ہوتا گیا، میرا سکول بیگ ہلکا ہوتا گیا۔ یہ بڑی دلچسپ اور خوفناک صورتحال ہے۔

مجھے یاد ہے کہ میرا سکول بیگ کتابوں اور کاپیوں سے پھولا ہوتا تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب میں پرائمری کلاس کا سٹوڈنٹ تھا۔ چار طرح کی تو انگلش بکس تھیں، Junior English... Radiant way... Active English وغیرہ۔۔۔ اور سوشل سٹڈی، میتھ، سائنس، اسلامک سٹڈی، اردو، ان سب کی بکس، اور ہر سبجیکٹ کی الگ الگ کاپیاں۔ "کلاس ورک" کے لیے الگ اور "ہوم ورک" کے لیے الگ کاپیاں، پنسل بوکس اور جیومیٹری بوکس بھی، پانی کی بوتل، اور ٹفن بھی، اس سب ساز و سامان سے لدا پھدا میں سکول جاتا۔

مجھے اپنی ایک سنہرے بالوں والی ٹیچر ابھی تک یاد ہے جو ہماری کلاس کو سوشل سٹڈی اور اسلامک سٹڈی پڑھاتی تھیں۔ تین دن ایک سبجیکٹ، پھر نیکسٹ تین دن دوسرا۔ ان کا فرمان شاہی یہ تھا کہ جو تھری ڈیز سوشل سٹڈی کے لیے فکس ہیں ان دنوں میں بھی ہر بچہ اسلامیات کی بک اور کاپی لائے گا تاکہ برکت شامل رہے اور بیگ ہلکا نہ ہو سکے۔

کبھی کبھار میں سوچتا ہوں کہ میں نے ان بھاری بھرکم سکول بیگز کو سالوں تک اٹھائے رکھا، میں نے کیا سیکھا؟ اگر یہ بھاری بھرکم بستے نہ ہوتے تو شاید بچپن زیادہ خوبصورت ہوتا۔

کالج میں اس کے بر عکس کافی آسان صورتحال تھی۔ صرف ایک رجسٹر ہوتا جس پر میں فزکس، کیمسٹری، بیالوجی کے لکچر نوٹ کرتا اور بس ایک بال پوائنٹ۔

یہ بھی پڑھیں:   کتابوں کی صحبت میں - محمد عامر خاکوانی

یونیورسٹی میں آپکی لائف اور آسان ہوجاتی ہے۔ یہاں نہ تو "ہوم ورک" کی کاپیوں کی ٹینشن، نہ ہی "کلاس ورک" کی کاپیوں کا جھنجھٹ، بلکہ آپ سرے سے ہی بیگ کے بوجھ سے آزادی پا لیتے ہیں۔ میں تو پھر بھی ڈپارٹمنٹ بیگ لے جاتا ہوں، پر میرے ایک دوست نے ایسی کوئی مصبیت نہیں پالی ہوئی۔ وہ خالی ہاتھ یونیورسٹی بس سے اترتا ہے، ٹہلتا ہوا ڈپارٹمنٹ آتا ہے، بال پوائنٹ یا لکھنے کے لیے کسی سے قلم اور کسی دوسرے سے پیجز لیتا ہے، لیکچر نوٹ کر تا ہے... اور سب کچھ سیکھ جاتا ہے۔ ایگزیمز کے قریب وہ اپنی خوبصورت رائٹنگ والی کلاس فیلوز کے لیکچرز کاپی کرواتا ہے اور اچھے گریڈز سے امتحان میں سرخ رو ہو جاتا ہے۔ میرا ایک دوست تو صرف ایک رجسٹر پہ پورا سیمسٹر بڑی خوبصورتی سے نکال لیتا ہے۔

یہ کتنی افسوسناک اور دکھی کر دینے والی بات ہے کہ ہم نے خود اپنے بچوں کا بچپن تلخ کرنے کے لیے ان پر بھاری سکول بیگز کا عذاب نازل کیا ہوا ہے...!