بےغیرت مظلوم بدست ظالم غیرتمند - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

غیرت کیا ہے؟
کیا غیرت صنفی اختلاف کا نام ہے یا دونوں اصناف میں برابر پائی جاتی ہے؟
غیرت کے نام پر قتل کاری اور ونی میں صرف عورت ہی کیوں بدلے کی جنس کے طور پر استعمال ہوتی ہے؟
کیوں رسوم، عروج اور علوم کے نام پر عورت خریدی بیچی جاتی ہے. مرد کیوں نہیں؟
اور خریدو فروخت کے وقت یہ غیرت کہاں جا سوتی ہے؟
ایک زندہ انسان کی قیمت ایک لاکھ طے کر کے اسے بیچ دو اور اگر وہ جانے سے انکار کرے تو مار ڈالو؟

لڑکی کے ماموں کا انٹرویو سنا جو کہہ رہا تھا کہ اگر اس لڑکے کی جگہ میں ہوتا تو میں بھی یہی کرتا. یعنی انسان نہیں بکری ذبح کی گئی ہے.
لڑکی کی نانی کہتی ہے، اس کی ماں بھی بھاگ گئی تھی اور بھائی کے اقبالی بیان میں یہ اظہار ہے کہ اگر بھاگ جاتی تو؟ اس لیے مار دیا. شاید اس قاتل کے ذہن نے اس واقعے کا کوئی زہریلا اثر بھی قبول کر رکھا ہوگا، لیکن اس نہتی مظلوم پر ظلم .. ?

کمہار پر بس نہ چلا گدھے کے کان اینٹھے..

جب زور آور پر بس نہیں چلتا تو کمزور پر اپنا غصہ نکالنے کے لیے غیرت کی آڑ استعمال کی جاتی ہے.
یہ کیسی غیرت ہے جو اپنی سگی بہن کو نیم مردہ کر کے چوک میں لا پھینکنے پر مجبور کرتی ہے.
دراصل یہاں بھی وہی مسئلہ درپیش ہے
”لوگ کیا کہیں گے“
معاشرے کی اٹھتی انگلیوں کا خوف. اور برادری کے طعنوں کو اظہار تحسین میں بدلنے کے لیے گھر کی گائے بھیڑ بکری عورت کی قربانی جائز ہے.

جس موبائل پر مرتی بہن کے سرہانے بیٹھ کر یہ غیرت مند میسج کر رہا تھا. کیا اس کے میسج باکس میں کسی اور کی غیرت کے جنازے کا سامان تو موجود نہیں.
انسانیت کہاں ہے؟ جس کی غیرت اسے بہن کا خون کرنے پر مجبور کرتی ہے، اسی غیرت مندی کا تقاضا ہے کہ تڑپتی بہن کو محلے کے تمام غیرت مندوں کے سامنے لٹا کر مرنے دیا جائے اور چادر اوڑھا کر پردہ بھی کر لیا جائے .. تف ایسی غیرت پر .. تف اس غیر انسانی وحشت پر .. افسوس ایسی اقدار پر .

اس لڑکی کی جانکنی کا عالم اور اس بھائی کا سرد چہرہ.. صد افسوس

باپ کا پرسکون رد عمل اس لنک میں ملاحظہ کیجیے

16 سالہ سمیرا کا 19 بھائی حیات کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل والی پوسٹ کو جو لوگ کسی اور شاخسانے کا کرشمہ کہہ رہے تھے انکے لئے مجرم کا اقبال جرم۔

Posted by Mazhar Hussain Bodla on Thursday, April 28, 2016

چھوٹے بچے کے آنسو اور پاس موجود مرد کی حوصلہ افزائی .. مظلوم عورت بےغیرت ہے، اور ظالم مرد غیرتمند؟

وہ مرد کہاں ہے جس کے نام پر یہ بےشرم بہن مری ہے.. کیا وہ اس کا کمہار اور یہ گدھا تھی.. بس اسی پر زور چلتا تھا..
شاباش جوان شاباش..

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */