راز ہماری فٹنس کا – عمران عمر جانباز

ہیلتھ اور فٹنس کا کریز ہمیں بہت پہلے سے ہے۔ احباب جانتے ہیں کہ ہماری طبیعت "رکے تو کوہ گراں تھے ہم" کے مصداق ہے لیکن اگر ہم کسی کام کی ٹھان لیں تو وہ ہوکر رہتا ہے۔ واک اور جاگنگ تو آسان کام ہے۔ شادی سے پہلے ایک مرتبہ واک کا جنون سوار ہوا تو کنگرو کی کھال کے بنے ہوئے مہنگے ترین لیکن بالکل بے وزن جوگرز خریدے کہ اب تو طے ہوگیا ہے کہ فلموں کے ہیروز کو بھی مات دینی ہے۔ خیر، دوسرے دن جوش و خروش سے واک پر روانہ ہوئے۔ موسم سہانا ہو اور ٹریک پر ایک دیوانہ ہو تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کیسے کیسے دلکش خیالات جنم لیتے ہیں۔ ہم بھی خوابوں میں ڈوبے کئی نامور ہیروز کا مستقبل تاریک کرنے کے بعد گھر پہنچے۔ جیسے ہی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو ڈیجیٹل وال کلاک سے اذان شروع ہوگی۔ اذان کیا شروع ہوئی، ہمارے دماغ میں اذان، نماز اور فلمی ہیروز کی جنگ شروع ہوگئی۔ یوں معاملہ واک سے نظریات تک پہنچ گیا اور آپ جانتے ہیں انسان کا نظریاتی وجود اس کے جسمانی وجود سے اہم تر ہے۔ سوچا کہ فلموں کے ہیروز کو مات بھی دے دی تو کیا حاصل؟ یہ تو کوئی نیک کام نہیں ہے اور یوں ہم نے اپنے خوابوں کو نظریات کی نذر کر دیا۔

صحیح کیا نا؟

لیکن احباب گرامی، وہ جنون ہی کیا جو چار دن کی چاندنی کے بعد تاریکی کا شکار ہوجاۓ؟ اگر آپ واک سیریز میں دلچسپی لے ہی رہے ہیں تو عرض کروں کہ شادی کے بعد بیگم صاحبہ نے ہمیں کھانوں کے بہترین ذائقوں سے دوبارہ آشنا کروایا کہ جنھیں سٹوڈنٹ لائف نے ہماری زبان سے کھرچ کھرچ کر مٹا دیا تھا۔ اب ہم تھے کہ دوپہر میں بھی پراٹھوں پر اصرار کرتے تھے اور بیگم تھیں کہ سراپا اطاعت۔ ادھر ہم نے اظہار مدعا کیا اور ادھر پراٹھوں کے ساتھ انواع و اقسام کے دیگر لوازمات بھی موجود۔ ہم پھر بھی مجسم" ھل من مزید"۔ دل ہی دل میں بارگاہ الٰہی میں سجدہ گزار ہوتے کہ خدایا ہم نے تو بیگم کی تمنا کی تھی اور آپ نے بونس کے طور پر ماسٹر شیف بھی ساتھ بھیج دیا۔ اس طعام مستی میں چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن شاپنگ سنٹر میں جاتے ہوئے وزن کرنے والی مشین نظر آئی۔ سوچا، کیوں نہ وزن ہی کر لیا جاۓ؟ بیگم کے منع کرنے باوجود وزن کیا تو معلوم ہوا کہ پندرہ کلو بڑھ چکا ہے۔ پہلے تو یقین نہ آیا اور دو ڈالر دوبارہ ڈال کر وزن کیا تومشین نے نہ صرف وزن بتایا بلکہ اس وزن کے پیچھے چھپی کہانی کو بھی آشکار کر دیا کہ جو جملہ بیگمات کے زرخیز دماغوں میں تشکیل پاتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ کہانی نہیں سازش ہے کہ شوہر کو اتنا کھلاؤ کہ وہ جوانی کی سرحد سے جسمانی طور پر باہر نکل جاۓ اور دوسری شادی نہ کر سکے اور اگر کوشش کرے بھی تو لوگ پوچھیں کہ آپ کے بیٹے کی عمر کتنی ہے جس کی شادی کرنی ہے؟

سوچا کہ اس منصوبہ بندی کا مقابلہ بہتر منصوبہ بندی سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان دنوں فٹنس کے بہت کم کلب تھے اور مہنگے بھی بہت تھے۔ بنکس ٹاؤن میں قریبی جم "فٹنس فرسٹ" تھا اور خوش قسمتی سے سالانہ ممبر شپ پر خاصا ڈسکاؤنٹ تھا۔ دوسرے ہی دن پہنچے۔ ایک ہزار کچھ ڈالر دیکر سالانہ ممبرشپ حاصل کی کہ اب اوڑھنا بچھونا یہی کلب ہوگا۔ پہلا دن تھا اس لئے صرف کلب کے مختصر دورے پر اکتفا کیا۔ دوسرے دن فاتحانہ انداز سے فٹنس فرسٹ میں داخل ہوئے اور خوب ٹریڈ مل پر دوڑ لگائی، سائیکلنگ کی اور ویٹ اٹھاۓ۔ کلب کا ماحول ذرا عجیب سا تھا۔ خاص طور ہمارے والے سیکشن میں تو لڑکیاں زیادہ تھیں اور قدرے بے باک بھی۔ آسٹریلیا میں لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں لباس کے لحاظ سے ذرا غریب واقع ہوئی ہیں۔ ہمیں یوں لگا کہ کلب میں آنے والی لڑکیاں ذرا زیادہ ہی غریب ہیں یا لباس کے معاملے میں کنجوس ہیں۔ خیر ہمیں اس سے کیا لینا دینا؟ خوب ورزش کے بعد ہم فاخرانہ احساسات کے ساتھ گھر پہنچے۔

دوسرا دن مسلز کی مالش کرتے گزرا۔ سوچا ایک دن کے ناغے سے کچھ نہیں بگڑے گا۔ تیسرے دن کچھ سستی ہو رہی تھی۔ جم جانے کا موڈ بھی نہیں ہو رہا تھا۔ اتنے میں ابّا جان کا خیال آیا جنھوں نے آسٹریلیا آتے ہوئے صرف ایک ہی نصیحت کی تھی کہ "بیٹا کفر کے ماحول میں ایمان بچا کر رکھنا"۔ میرے سست وجود نے ساتھ کے ساتھ ہی فتویٰ دائر کیا کہ جم کا ماحول تو کفر کے ماحول سے چار قدم آگے ہی ہے۔ ایسے ماحول میں جانا کسی طور بھی خطرے سے خالی نہیں۔ دوستو! آپ اسے ہماری کاہلی مت سمجھیے۔ جم کا ماحول اگر آپ کو ایمان سے فارغ نہیں کرتا تو یقیناً عزت سے ضرور محروم کر دے گا۔ اچھا آپ یقین نہیں کرتے تو ہم آپ کو اپنے دو دوستوں کا احوال بیان کرتے ہیں۔ ہمارے سٹوڈنٹ لائف کے یہ دوست بتاتے ہیں کہ انہیں ورزش کا شوق چرایا تو جم میں عارضی داخلہ لیا۔ پہلا دن تھا، دونوں جم پہنچے۔ جم میں اس وقت کچھ زیادہ رش نہیں تھا۔ ان سے دو چار گز دور ہی ایک بہت خوبصورت انگریز لڑکی ورزش کر رہی تھی۔ ہمارے یہ دوست ورزش کے ساتھ ساتھ لڑکی پر اردو میں ہر قسم کے تبصرے بھی کرنے لگے۔ چند منٹوں کے بعد لڑکی نے ورزش ختم کی اور ہمارے دوستوں کے روبرو آ موجود ہوئی۔ دوست سمجھے کہ شاید لڑکی ان کے حسن سے کچھ متاثر ہوگئی ہے۔ گوری لڑکی گویا کیا ہوئی کہ ورزش کے ہال میں بم ہی پھٹ گیا۔ اس نے شستہ اردو میں کہا کہ لگتا ہے آپ پاکستان سے آئے ہیں۔ اپنے فادر کی ٹرانسفر کے دوران بچپن میں ہم بھی پندرہ سال اسلام آباد میں رہے ہیں۔ وہ دن تھا اور آج کا دن،ہمارے وہ دوست دوبارہ جم واپس نہیں جاسکے۔

اگرچہ ہم بہت زیادہ اطاعت گزار واقع نہیں ہوئے لیکن ابّا جان کی نصیحت سے روگردانی نہ کر سکے اور یوں جم کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیا۔

(عمران عمر جانباز ایک شاعر اور قلم کار ہیں جن کی زندگی کا بڑا حصہ پاکستان اور آسٹریلیا میں مختلف خیراتی اور اسلامی اداروں کی تعمیر و تشکیل میں گزرا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن لاہور کے آرفن پروگرام کےآسٹریلیا میں ایمبیسیڈر ہیں۔ اسکے علاوہ اسلامک سرکل کی مرکزی شوریٰ کے رکن بھی ہیں)