دھوتی والا ماما اور کرپشن والا بھانجا- ضیغم قدیر

تحریر: شری جوشی، ترجمہ و مراتبت: ضیغم قدیر

وہ بنارس پہنچ کر بہت خوش تھے۔ اسٹیشن پہ اترے ہی تھے کہ سامنے سے ایک لڑکا آگیا۔ ماموں جان ماموں جان کہتا ہوا آگے بڑھا۔ وہ بہت پریشان ہوا۔ "تو کون ہے؟" استسفار کرنے پہ اس لڑکے نے بتایا کہ وہ ان کا دور کا بھانجا ہے، منّا! لیکن آپ نے مجھے ڈھلتی عمر کی وجہ سے پہچانا نہیں! خیر وہ بوڑھا آدمی بہت خوش ہوا کہ چلو کوئی تو ملا ساتھ میں اب بنارس اچھی طرح گھومیں گے۔

سارا بنارس گھوم گھام کر بڈھے میاں کے ذہن میں آیا کہ کیوں نہ گنگا اشنان کر لیا جاۓ۔ بھانجے کو بتایا تو اس نے خوش ہو کر کہا کہ کیوں نہیں؟ بنارس آکر گنگا میں نہیں نہانا تو اور کیا کرنا ہے؟

بڈھےمیاں نے گنگا میں ڈبکی لگا اور اس امید سے باہر آئے کہ شاید وہ بالکل پاک ہوکر نکلیں گے مگر یہ کیا؟ باہر نکل کہ دیکھا تو ان سامان غائب تھا اور منّا بھی۔ بڑے میاں بہت پریشان ہوۓ۔ دھوتی پہنے ادھر ادھر ڈھونڈنے لگے مگر منّا ندارد! آخر پھر ہر کسی کو روک کر پوچھنے لگے "بھائی صاحب! آپ نے منّا دیکھا ہے؟"، "بھئی کونسا منّا؟" ارے وہی جس کے ہم ماما ہیں، جو ہمیں بنارس گھما رہا تھا!" خیر بوڑھے میاں دھوتی پہنے اسی طرح اپنے اس انجان بھانجے کو ڈھونڈتے رہے۔

بالکل یہی حال ہمارے پاکستان اور انڈیا میں ہے یہاں بوڑھے کا کردار عوام کرتی ہے اور بھانجا الیکشن پہ کھڑے لوگ۔جوں ہی الیکشن قریب آتے ہیں وہ عوام کے بھانجے بن کر اور کہتے ہیں کہ وہ منّا ہیں، ان کے بھانجے پرانے والے ایم پی اے۔اور پھر ان کواعتماد اور بھروسے کی گنگا کا اشنان کرواتے ہیں اسی دوران ان کو سیٹ مل جاتی ہے اور وہ غائب ہو جاتے ہیں عوام بیچاری دھوتی پہنے ان کو ڈھونڈتی رہ جاتی ہے۔

ارے آپ نے منا کو دیکھا؟ "بھئی کونسا منّا؟" ارے وہی جس کے ہم ماما ہیں جس کو ہم نےووٹ دیا ہے۔

اسی ڈرامے میں عوام کے پانچ سال گزر جاتے ہیں اور پانچ سال بعد پھر وہ عوام کو بےوقوف بنانے آجاتے ہیں اور یہ بیچاری عوام پھر سے بےوقوف بننے کے لیے تیار ہو جاتی ہے حالانکہ ان کو پتہ بھی ہوتا ہے کہ انہوں نے لٹنا ہی ہے مگر انہی کو منتخب کرتی ہے اور بعد میں جب وہ سب کچھ لوٹ لاٹ کہ بھاگ جاتے ہیں(حتی کہ ان کے پہنے کپڑے بھی) تو پھر یہی لوگ دھوتی پہنے ہر آتے جاتے سے پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ بھئ آپ نے منّا کو دیکھا ہے؟ وہی منّا جس کے ہم ماماہیں!

شری شرن جوشی کی 25 سال پرانی تحریر، کچھ ایڈیٹنگ اور ربع صدی کے بعد بھی برصغیر کی عوام پر صد فی صد پورا اترتی ہے۔ اللہ اس خطے کے لوگوں کو ہدایت دے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */