سی پیک یا ایسٹ انڈیا کمپنی - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

چین کے ساتھ پاکستان کی دوستی پانچ عشروں سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ اس دوران بہت سے سرد و گرم آئے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات آزمائش کی ہر کسوٹی پر پورا اترے۔

چین اور پاکستان نے اپنے دیرینہ دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کو اب اقتصادی میدان میں بھی وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی بنیاد چین کا وہ عظیم تجارتی لاجسٹک سپورٹ پلان ہے جسے وہ ”ون بیلٹ ون روڈ“ کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ چین اور یوریشیا (یورپ اور ایشیا) کے مابین مواصلات کا ایک جامع نظام ہے جس میں ”بیلٹ“ سے مراد سڑکوں کا ایک وسیع جال اور ”روڈ“ کا مطلب وہ بحری راستے ہیں جن سے برآمدی و درآمدی تجارتی مال کی ترسیل ہو گی۔

اس راہداری کےپاکستان سے گزرنے والے حصہ کو ”سی پیک“ کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ سی پیک صرف ایک تجارتی راہ داری ہی نہیں بلکہ پاکستان اسے سڑک اور ریل کے جدید ترین نظام، صنعتی ترقی، روزگار کے نئے مواقع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عمومی طور ایک شاندار معاشی امکان کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس وقت اس پروگرام میں شامل منصوبوں کا حجم ابتدائی 46 ارب ڈالر سے بڑھ کر لگ بھگ 55 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اور مبصرین اس کی اصل استعداد کو اس سے کہیں زیادہ دیکھ رہے ہیں۔

جیسا کہ بالعموم مشاہدہ ہے گہرے دوستوں میں بھی جب نئے رشتے بنتے ہیں تو تمام تر اعتماد کے باوجود کچھ اشکالات جنم لے سکتے ہیں۔ ہرتعلق کی اپنی الگ ہئیت ترکیبی ہوتی ہے اور اسی طرح اس کے مسائل بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اس وقت ہمارے ہاں بھی سی پیک کے حوالہ سے کچھ ایسی صورتحال موجود ہے۔

چین کی ہمہ گیر صنعتی اجارہ داری اور اس کے پاکستان کے صنعتی سیکٹر پر ممکنہ منفی اثرات مقامی حلقوں میں تشویش کا باعث ہے۔ پھر اس خطہ کا سابقہ نوآبادیاتی تجربہ بھی یہاں کی عمومی نفسیات میں شامل ہے۔ اس کا آغاز بھی ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ کے حق میں تجارتی رعایتوں کے اجراء سے ہؤا تھا۔ اور پھر ہم نے دیکھا کہ اس کے بعد یہ کیسے سیاسی بالادستی کی کشمکش میں ڈھلتا چلا گیا۔ اسی لیے کچھ لوگ سی پیک کو ایسٹ انڈیا کمپنی جیسا بندوبست قرار دینے پر اصرار کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا کے علاوہ چند اور وجوہات بھی ہیں جو الجھاؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت / حکومتوں کے حوالہ سے ہمارے ہاں ہمیشہ ایک تشکیک کا ماحول رہتا ہے۔ اس طرح کے ماحول کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معاہدوں کو مشکوک بنا کر دکھانے اور بدعنوانی کا الزام لگانے کے لیے کچھ زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی، لوگ پہلے ہی اس الزام کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ مقامی سیاسی کھینچا تانی اور مفادات اس پر قومی اتفاق رائے کو فروغ دینے کے بجائے صوبائی تقسیم کا رنگ زیادہ نمایاں کر دیتے ہیں۔ تیسرا اور اہم ترین معاملہ علاقائی صورتحال کا ہے جہاں معاصرین اپنی چشمک یا معاشی مفاد کے لیے ایسے منصوبوں کو ناکام کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے ڈانڈے ہلاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں پراکسی جنگ ان کا ایک بڑا ہتھیار ہے۔ نیز، وہ نفسیاتی حربے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ والا بیانیہ ان سب میں بہت مفید ہے کیونکہ یہ بظاہر قومی ہمدردی کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ کاروباری طبقہ کے لیے تو اس میں خصوصی کشش ہے۔

معیشت ایک حساس اور ہمہ جہت میدان ہے چناچہ اس سے متعلق خدشات بھی زیادہ عوامی اور ہمہ گیرہوتے ہیں۔ مثلاً، سی پیک پر دو اعتراضات عام ہیں:
1۔ چین کی سستی مصنوعات کی وجہ سے ہماری منڈیاں ان سے بھر جائیں گی، نتیجتاً پاکستانی صنعتوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
اس سلسلہ میں یہ بات اہم ہے کہ WTO کی وجہ سے ہم اپنی صنعتوں کو بہت دیر تک تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔ ہمارے لیے بہتر ہے کہ چین کا سرکاری و نجی شعبہ پاکستان میں صنعتیں لگائے. یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ سی پیک کا ایک بڑا مقصد صرف ایک راہداری نہیں ہے بلکہ اس سے پاکستان میں چین کے ساتھ شراکت میں نئے صنعتی زونز کا قیام بھی شامل ہے۔ اس سے نئی ٹیکنالوجی کی آمد اور مقابلہ کی صحت مند فضا پیدا ہو گی۔ پاکستانی صنعت کاروں کو چین میں ساختہ مصنوعات کے بجائے پاکستان میں ہی تیار شدہ مصنوعات کے ساتھ مقابلہ درپیش ہو گا جو اِس وقت کی صورتحال کی نسبت ایک زیادہ منصفانہ بندوبست ہوگا۔ چین کا نجی شعبہ پہلے ہی پاکستانی صنعت کاروں کے ساتھ شراکت میں منصوبوں کا آغاز کر چکا ہے، جس میں ٹیکسٹائل نمایاں ہے۔ پاکستان کی انڈسٹری میں بہتری سے اربوں ڈالر کی وہ مصنوعات بھی پاکستان خود تیار کر سکے گا جو وہ کم لاگت کی وجہ سے بھارت سے درآمد کرتا ہے۔

2۔ اسی سے منسلک دوسرا بڑا اعتراض یہ ہے کہ چینی ٹھیکیدار اور صنعتکار تو اپنے ساتھ چین سے مزدور اور دیگر اسٹاف لانے کی بات کر رہے ہیں۔ پھر ہمارے لیے اس میں کیا امکان ہو گا۔ اس ضمن میں ہمیں اس وقت چینیوں کو درپیش تین مسائل کو ان کی نظرسے سمجھنا ہو گا : اول، زبان کا مسئلہ ، دوم پاکستان میں امن و امان کے حوالہ سے خدشات اور مقامی افراد پر فوری انحصار کے مسائل ، سوم پاکستانی ورک فورس کی قابلیت اور استعداد۔ حکومت پاکستان چین کے تعاون سے چینی زبان سکھانے کے کورسز کروا رہی ہے اور تربیت یافتہ ہنر مند افراد کی ایسی کھیپ بھی تیار کرنے کے مختلف پروگرام جاری ہیں۔ ان کا مقصد یہی ہے کہ پاکستانی ورک فورس جلد از جلد ان چینی ورکرز کی جگہ سنبھال سکیں۔ افریقہ میں چین کی بہت بڑی سرمایہ کاری ہے ۔ 80 کی دہائی میں ان کی باہمی تجارت نہ ہونے کے برابر تھی جو اب 100 ارب ڈالر سے بھی بڑھ چکی ہے۔ اس کے علاوہ افریقہ میں چین کے کارخانے ہیں اور معدنیات کی کان کنی کا بھی کافی وسیع نیٹ ورک چین کے پاس ہے۔

Quora امریکہ کا ایک ویب فورم ہے جو آن لائن مباحث کا پلیٹ فارم مہیا کرتا اور بین الاقوامی ایشوز پر تبادلہ خیال کا بندوبست کرتا ہے۔ حال ہی میں (مارچ 2017ء) اس نے افریقہ میں چین کے اثرات پر افریقی ممالک کے افراد سے رائے جاننے کا اہتمام کیا۔ مختلف ممالک سے جو نکات سامنے آئے اس میں چار باتیں بہت نمایاں تھیں۔
1۔ چین افریقہ کے ساتھ بہت پرانا تعلق رکھتا ہے اور اس نے کبھی بھی وہ رویہ نہیں اپنایا جو نوآبادیاتی طاقتوں کا شیوہ ہوتا ہے۔ اس نے کبھی مقامی سیاست میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی موجودہ حکومت کے علاوہ دیگر سے راہ و رسم بڑھانے پر زور دیا۔
2۔ چینی افراد کی ایک کثیر تعداد ان ممالک میں آئی لیکن انہوں نے خود کو صرف اپنے کام تک محدود رکھا اور مقامی افراد کے ساتھ تنازعات میں الجھنے سے گریز کیا۔
3۔ چینیوں نے انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا جس سے معیشت کو دیرپا بہتری کا موقع ملا اور اس میں جغرافیائی وسعت بھی آئی جس کا فائدہ پسماندہ علاقوں کو ہوا اور ساتھ معیشت میں تنوع کا رجحان بھی پیدا ہوا۔
4، لوگوں کے حالات زندگی بہتر ہوئے اور انہوں نی اس صورتحال کو اس سے بہت بہتر بتایا جس کا تجربہ انہیں مغرب کے ساتھ ہوا اور جس میں وسائل کا ضیاع اور قرض کی معیشت نے ان کو ہمیشہ پسماندہ رکھا۔

اس میں شاید ہمارے لیے بھی بہت سے پیغامات ہیں۔ اپنے مفاد کی حفاظت ہمیں خود کرنا ہے اور اپنی تقدیر بدلنے کے لیے محنت بھی۔ سی پیک ایک موقع ہے، یہ من و سلوی نہیں جو ہر صبح زمین پر پڑا ہماری راہ تکتا ہوگا۔ افریقہ، شمالی کوریا اور خود ہمارا چین کے ساتھ پچپن سال پر محیط تجربہ یہ بتاتا ہے کہ چین کا ہدف سیاسی قبضہ یا بالادستی نہیں۔ وہ حلیف ملک کے اقتدار اعلی کا احترام کرتا ہے، اور اس کے قوانین و ترجیحات کا بھی۔ سی پیک ایک تجارتی و اقتصادی منصوبہ ہے اور اس میں ایسٹ انڈیا کمپنی دور دور تک نظر نہیں آ رہی، اگر کچھ ایسا ہوا تو یہ صرف اور صرف ہمارا اپنا کمال ہوگا، اس کی آمد مشرق نہیں مغرب سے ہوگی اور اس کی وجہ سی پیک کی ناکامی ہوگی، کامیابی نہیں۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com