نوجوان کا سوال - محمد اسمٰعیل بدایونی

وہ عام نوجوان نہیں تھا، اس کی آنکھوں میں، میں نے جھانک کر دیکھا تو ولولے اور جوش کی چنگاریاں دکھائی دے رہی تھیں۔گفتگو کی تو ایسا لگا جیسے اس کے سینے میں جذبے کا ایک لاوا بھرا ہوا ہے۔

مجھ سے کیوں ملنا چاہتے تھے نوجوان ؟ میں نے اس نوجوان سے پوچھا
سر ! کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں، یہ پاکستان کیوں بنایا گیا تھا ؟

بہت عام سا سوال ہے یہ، لیکن جب یہ الفاظ نوجوان کی زبان سے ادا ہو رہے تھے تو یہ سوال، سوال نہیں تھا درد کی ٹیسیں تھیں۔فراز رضا سوال مجھ سے پوچھ رہا تھا سر ! کیا پاکستان اسی طرح دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہے گا ؟

سر ! کیا یہ پاکستان اسی لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں ہم فرقہ واریت کو فروغ دیں؟
سر! کیا یہ پاکستان کرپشن کے لیے بنا تھا ؟
سر! یہاں غربت، بھوک اور جہالت کا راج کب تک رہےگا ؟ کب تک یہ نو دولتیے قوم کو بے وقوف بناتے رہیں گے ؟

مجھے ایسا لگا جیسے پاکستان کو پہنچنے والے ہر درد، ہر کسک اورہر زخم پر وہ مجھ سے پوچھے گا۔ سر ! اس زخم زخم پاکستان کے لیے آپ نے بھی کسی مرہم کا انتظام کیا؟

نوجوان کا سوال محض ایک سوال نہیں تھا بلکہ تاریخ پاکستان سے رستے لہو کا جواب مانگ رہا تھا وہ مجھ سے۔ خونِ شہیداں کا حساب طلب کررہا تھا۔

نوجوان کا سوال میرا احتساب کررہا تھا!

سر کہاں گم ہو گئے ؟نوجوان کی آواز مجھے میرے خیالات کے پربت سے واپس لے آئی لیکن میں ابھی واپس اس نوجوان کے پاس آنا نہیں چاہتا تھا ابھی میں ان شہیدوں کے خون میں رچی اس مہک کو محسوس کرنا چاہتا تھا جو انہوں نے پاکستان بنانے کے لیے بہایا تھا۔میں ان گلی، بستی،گاؤں، شہر اور ہر صوبے میں اس لہو کی رنگت دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ خون کیا رنگ لایا۔۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان اسلامی بھی ہے اور جمہوری بھی؟ حبیب الرحمن

میری نگاہ ایک مرتبہ پھر ماضی کے دریچوں پر لگی ہوئی تھی۔ مسلمان بستیوں سے نکلتے شعلوں نے میری آنکھوں کو جلانا شروع کر دیا تھا۔مسلمان نوجوان ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح ہو رہےتھے۔شہر میں مسلم خواتین کو برہنہ کرکے ان کا جلوس نکالا جا رہا تھا، سکھ کرپانوں سے ماؤں کے شکم چاک کرکے بچوں کو نیزوں پر اچھا ل رہے تھے۔سفاکیت اپنے عروج پر تھی۔

ہجرت کے بعد لٹے پیٹے خاندانوں کی آہ وبکا اور زخموں سے رستے لہو کے باوجود فتح نے ان کے مغموم چہروں پر بھی مسکراہٹ بکھیر دی۔۔

میں دیکھ رہا تھا چار کروڑ ان مسلمانوں کو جنہیں ہم ہندؤ استبداد کے ہاتھوں میں یہ کہہ کر سسکتا چھوڑ آئے تھے کہ ہم جلد واپس آئیں گے۔ان مساجد،مدارس اور خانقاہوں کے درو دیوار سے بھی ہم نے یہی کہا تھا ہم بہت جلد واپس آئیں گے اور پھر یہاں صرف ایک ہی نعرہ ہو گا لاالہ الاللہ!

سوال اب اپنی شکل تبدیل کررہا تھا
سوال پوچھ رہا تھا یہ تھی وہ قیمت جو تم نےپاکستان کے لیے چکائی تھی ؟
اس قیمت کے بدلے کیا حاصل کیا؟

ہم شیشہ نہیں فولاد ہیں، مہاجر کی اولاد ہیں۔سندھی دھرتی ہماری ماں ہے! جاگ پنجابی جاگ! پاکستان کا نعرہ کیا سیکولرازم کے سوا! لبرل ازم کے سوا! قوم نے فیصلہ کر لیا لبرل ہونے کا!

آہ، آہ!!!!!!!
پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ !! کہاں گم ہو گیا؟

نوجوان کے سوال کے بعد مجھ میں بہت دیر تک ہمت ہی نہیں تھی کہ میں اس کے سوال کا جواب دیتا۔

کچھ دیر کے بعد نوجوان نے اپنی اسٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ کا منصوبہ اپنی لگن، اپنے ساتھیوں کی کوششوں کا تذکرہ کیا مجھے اس اسٹیٹ یوتھ پارلیمنٹ سے خطاب کرنے کی دعوت دی اور جب میں اس پروگرام میں گیا تو نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور وہ نعرے لگا رہی تھی

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان اسلامی بھی ہے اور جمہوری بھی؟ حبیب الرحمن

پاکستان کا مطلب کیا۔۔لاالہ الااللہ
ہمیں اسلام پہ زندہ رہنے دو!
اسلام سے ہم بیزار نہیں، ہولی میرا تہوار نہیں !
ہمیں اسلام پہ زندہ رہنے دو!
آخر میں مائیک پر یہ اشعار کوئی نوجوان پڑھ کر اُمید کی جوت جگا رہا تھا
اپنی مٹی پر چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے
اپنے پرچم کے رنگ کو پہچانو ورنہ
سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے توجل جاؤ گے

یقین جانیے مجھے لگا پاکستان دشمنوں کے لیے تر نوالہ ہرگز ثابت نہیں ہوگا، میرے سینے میں گرتے تمام آنسوؤں نے رقص کرنا شروع کر دیا تھا مگر یہ آنسو خوشی کے آنسو تھے۔
یہ نوجوان فراز رضا تھا، فراز رضا بہت شکریہ!!
فراز رضا ! خونِ شہیداں سے وفا کا یہ جذبہ تمہیں مبارک ہو۔نوجوانوں میں اُمید کی کرن جگانے کا بہت شکریہ
شکریہ فراز رضا بہت شکریہ!!