خلافت کے اثبات میں ناگزیریت کی بحث - ڈاکٹر عرفان شہزاد

خلافت کی دینی حیثیت کے اثبات کے لیے ناگزیریت کے عنوان سے ہمارے دوست جناب ڈاکٹر زاہد مغل نے ایک مقدمہ قائم کیا ہے۔ اس کے مطابق انسانوں کے درمیان حقوق و فرائض اور عدل و قسط کا قیام ایک ناگزیر تقاضا ہے، اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے جس قوت نافذہ کی ضرورت ہے، اس کا قیام بھی ناگزیر ہے، اسلام میں اسے خلافت کہتے ہیں، چنانچہ خلافت کا قیام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق، استخراجی منطق سے نکلنے والا یہ نتیجہ نص سے زیادہ قطعیت رکھتا ہے۔

ہمارے فاضل دوست لکھتے ہیں:

”ان ناگزیر احکامات پر کوئی عمل کروائے گا یا یہ خود بخود نافذ ہو جاتے ہیں؟ ظاہر ہے اس بارے میں دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ ان پر خود بخود عمل نہیں ہو جائے گا، اس کے لیے ایک اجتماعی نظام کے قیام اور اس کی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اگر یہ حقوق و فرائض (احکامات) ناگزیر انسانی حالات سے متعلق ہیں تو ان پر عمل درآمد کے لئے جس انتظام کی ضرورت ہے وہ ناگزیر ہوگا یا نہیں؟ اس دنیا کا ہر ذی شعور شخص یہی کہے گا کہ یقیناً وہ انتظام بھی ناگزیر ہی ہوگا۔“
”یہ جسے خلافت کہتے ہیں یہ تو ان ناگزیر حقوق کو محفوظ کرنے کی ناگزیر ترتیب کا نام ہے۔۔۔ تو خلافت کیوں ناگزیر نہیں؟“
”جو نتیجہ استخراجی منطق سے ثابت ہو، وہ لفظی استدلال سے بھی زیادہ قطعی ہوتا ہے۔“

دراصل اس مقدمے میں کئی مغالطے ہیں۔ اس مقدمے کی بنیاد پر اگر یہ کہا جائے کہ کھانا، کپڑا اور رہائش، انسانی زندگی کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں، اس لیے کسب معاش بھی ناگزیر ہے۔ چنانچہ کسب معاش بھی دین کا ناگزیر حکم قرار پاتا ہے۔ چونکہ یہ استخراجی منطق سے نکالا ہوا نتیجہ ہے، اس لیے اس کا درجہ نص سے زیادہ قطعی ہے۔

اگر دین کو اس طرح سمجھا جانے لگے تو بے شمار چیزیں ناگزیریت کی راہ سے دین میں واجب اور فرض کا درجہ حاصل کر لیں گی، حالانکہ ان کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہوگی۔ یوں دین اپنی اصل سے نکل کر بے شمار اضافی احکامات کا ملغوبہ بن کر رہ جائے گا، جیسا کہ بنا بھی دیا گیا ہے۔

اس بات کو ایک اور طرح سے دیکھتے ہیں۔ زکٰوۃ ایک منصوص حکم ہے۔ زکٰوۃ کے نظام کا قیام قرآن مجید کی رو سے مسلمانوں کے نظم اجتماعی پر فرض بھی قرار دیا گیا ہے۔ زکٰوۃ سے غربت و افلاس کو ختم کرنے کا ناگزیر تقاضا بھی وابستہ ہے۔ لیکن دیکھیے کہ اس کے باوجود دین نے زکٰوۃ ادا کرنے کے لیے مسلمانوں پر مال کمانا فرض قرار نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ماڈرن ہونا دنیا میں آگے بڑھنے کی علامت ہے؟ سید مستقیم معین

تو مسئلہ اصل میں کیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ فطری اور عقلی تقاضوں کو فطری اور عقلی تقاضوں تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔ فطری اور عقلی تقاضے بدیہات ہوتے ہیں۔ ان پر انسانوں نے ہر حال میں عمل کرنا ہی ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں شرعی احکامات بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ دین اس سے اگلے مرحلے میں انسان سے مخاطب ہوتا ہے۔ مثلاً وہ کہتا ہے کہ کسب معاش تو تم نے کرنا ہی ہے، جب تم کسب معاش کے لیے نکلو تو دین کے فلاں فلاں اصول اور احکامات مد نظر رکھنا۔ اسی طرح کہتا ہے کہ جب آمدنی ضرورت سے زیادہ ہونے لگے تو زکٰوۃ ادا کرو۔

اسی اصول پر دیکھیے کہ دین مسلمانوں سے کہتا ہے کہ جب تم اپنے حالات کے تقاضوں کے تحت اپنے لیے نظم اجتماعی یعنی حکومت کا قیام عمل میں لانے لگو تو اس حیثیت سے متعلق دین کے فلاں فلاں احکامات اور ہدایات پر عمل پیرا ہونا۔ لیکن وہ نظم اجتماعی یا خلافت یا حاکمیت اسلام کے قیام کو مسلمانوں پر فرض قرار نہیں دیتا۔
یہاں بحث یہ نہیں کہ ہے کہ مسلمانوں کا سیاسی نظم، ہونا چاہیے یا نہیں۔ بحث یہ ہے کہ اس کے قیام کا تقاضا دینی حکم ہے یا نہیں، یعنی ایسا حکم جس کے ترک پر مسلمان گناہ گار قرار پائیں۔

ایک با وسائل آدمی اگر کسب معاش سے مستغنی ہو تو اسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ چونکہ کسب معاش چند ناگزیر تقاضوں کی وجہ سے ناگزیر ہے، اس لیے دینی فریضہ بن گیا ہے، اس لیے ضرورت نہ ہو نے کے باوجود تم پر کسب معاش فرض ہے، اگر نہیں کرو گے تو گناہ گار قرار پاؤ گے۔

اسی طرح اگر کسی جگہ انسانوں کے کسی اجتماع (جن میں مسلم بھی شامل ہوں) کے مذکورہ بالا ناگزیر اجتماعی معاملات طے کرنے کے لیے کوئی نظم اجتماعی وجود میں آ چکا ہو، تو مسلمانوں کے لیے یہ کوئی دینی تقاضا نہیں ہے کہ وہ اس نظم اجتماعی کو ہٹا کر اپنا تصور سیاست، بنام خلافت یا حاکمیتِ اسلام وغیرہ کو نافذ کریں۔ البتہ، اگر کسی نظم اجتماعی میں مسلمانوں کے دینی اجتماعی احکامات کی تکمیل نہ ہو رہی ہو تو ان کا دینی فریضہ یہ بنتا ہے کہ وہ اس پر عمل کرانے کے لیے اس نظم اجتماعی کو قائل کریں۔ چونکہ وہ حکمران نہیں ہیں اس لیے اگر اس پر عمل نہ بھی ہو پائے تو وہ گناہ گار نہیں ہوں گے۔ ان سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ اس سرزمین سے ہجرت کر جائیں، یا ہتھیار اٹھا کر نظم اجتماعی کو خلافت سے لازمًا بدل کر ہی دم لیں، یہ سب کہنے کے لیے نص سے صاف حکم درکار ہے جو کہ موجود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل مذہب اور کارزار سیاست - نصراللہ گورایہ

البتہ جب حالات تقاضا کریں کہ زمامِ اقتدار مسلمان آگے بڑھ کر اپنے ہاتھوں میں لے لیں، مثلاً وہ غالب اکثریت کے حامل ہوں، تو بحیثیت حکمران وہ شریعت کے اجتماعی احکامات و ہدایات پر عمل کے پابند ہو جاتے ہیں۔

یہ حیثیت صرف دینی احکامات کی ہوتی ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہوں، ان پر عمل کریں۔ مثلاً مسلمان جہاں بھی ہوں نماز ادا کریں گے، حرام و حلال سے بچیں گے۔ لیکن اگر یہ قرار دیا جائے کہ خلافت دینی حکم ہے تو مسلمانوں پر لازم آتا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں خلافت کے قیام کی جدوجہد کریں، ورنہ اُسی طرح گناہ گار قرار پائیں گے جیسے نماز کے ترک پر۔

مقدمات کی ترتیب الٹنے سے جو فرق پڑتا ہے وہ ایک غیر دینی مسئلے کو دینی احکامات کی فہرست میں شامل کرنے کا ہے۔ دین کو سمجھنے کا یہ انداز درست نہیں کہ ہر ناگزیریت کو دین کا تقاضا بھی سمجھا جائے۔ کوئی چیز دین کا تقاضا تب ہی بنتی ہے جب اس کے لیے نص موجود ہے۔ اور خلافت کے قیام کے لیے کوئی نص موجود نہیں۔ البتہ جب مسلمانوں کا نظم اجتماعی یعنی حکومت کا قیام عمل میں آ جائے تو شریعت کے اجتماعی احکامات اس کے مسلم حکمرانوں پر لاگو ہو جائیں گے، ایسا ہی جیسے مسلمان مال دار ہو جائے تو زکوۃ ادا کرنا فرض ہو جائے گا۔ اگر مال دار نہ ہو تو زکوۃ ادا کرنے کے لیے مال کمانا فرض نہیں ہوگا۔